30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی اور زیادہ بخشش کی خبر دیجئے یا اور زیادہ بخشش کرائیے کہ حضور دعا فرمائیں کہ رب اس سے بھی زیادہ کو بے حساب بے عذاب بخشے کیونکہ رب تعالٰی آپ کی بات ٹالتا نہیں جو تم کہتے ہو وہ ہی رب کرتا ہے"وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی"۔
۴؎ یعنی اے ابوبکر یہ اجمال رہنے دو زیادہ کی تصریح نہ کراؤ تاکہ ہم خوف و امید پر رہیں اعمال کیے جاویں۔
۵؎ یعنی اے عمر ذرا خاموش تو رہو،میں حضور سے ساری امت رسول کے لیے بے حساب جنتی ہونے کا وعدہ لے لیتا ہوں اے عمر تمہارا اس میں کیا بگڑتا ہے کہ سارے امتی رسول الله بے حساب جنتی ہوجاویں۔خیال رہے کہ الله رسول کے بعد حضرت ابوبکر صدیق سب سے بڑھ کر رحیم و کریم ہیں۔ان کا رحم و کرم تو مجھ سے پوچھو الله ان کی قبر نور سے بھردے،مجھ پر ان کا ان کی دختر جمیلہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ سورۂ نور والی نورانی کا بہت ہی احسان ہے۔
۶؎ یعنی اے ابوبکر تم جو کچھ چاہتے ہو وہ تو حاصل ہوگیا کہ صرف چار لاکھ کا حضور نے ذکر نہیں فرمایا ساتھ ہی رب کے لپ بھر کا بھی ذکر ہے یہ لپ بڑا ہی وسیع ہے۔
۷؎ خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کی عرض و معروض میں غلبہ امید کی جھلک ہے اور حضرت عمر فاروق کی عرض معروض میں رضا بالقضاء کا ظہور ہے اس لیے حضرت عمر کے قول کی تائید بارگاہِ نبوت سے ہوئی،نیز سب لوگ بغیر حساب بخش دیئے جائیں تو شفیعوں کی شفاعت،محبوبوں کی محبوبیت،گرتوں کے سہارے دینے والے،ڈوبتوں کے ترانے، بگڑتوں کو بنانے،گرتوں کے سنبھالنے کا ظہور کیسے ہو اس لیے حضرت عمر کے قول کو ترجیح دی گئی اور بھی بہت وجوہ ہوسکتی ہیں قیامت میں گنہگاروں کو بخشنا بھی مگر محبوبیت کی شان بندہ نوازی بھی تو دکھانی ہے۔
|
5604 -[39] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَفُّ أَهْلَ النَّارِ فَيَمُرُّ بِهِمُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ: يَا فُلَانُ أَمَا تَعْرِفُنِي؟ أَنَا الَّذِي سَقَيْتُكَ شَرْبَةً. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَنَا الَّذِي وَهَبْتُ لَكَ وَضُوءًا فَيَشْفَعُ لَهُ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ دوزخی لوگ صف بستہ ہوں گے ۱؎ تو جنتیوں میں سے ایک شخص ان پرگزرے گا تو ان میں سے ایک دوزخی کہے گا اے فلاں کیا تو مجھے پہچانتا نہیں میں وہ ہی ہوں جس نے تجھے ایک گھونٹ پانی پلایا تھا اور بعض دوزخی کہے گا کہ میں وہ ہوں جس نے وضو کا پانی دیا تھا۲؎ یہ جنتی ان کی شفاعت کرے گا پھر اسے جنت میں داخل کرے گا۳؎(ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی جنتیوں کے راستے میں گنہگار مؤمن دوزخ میں جانے کے لیے ایسے صف بستہ کھڑے ہوں گے جیسے امیر وغنی کے راہ میں بھکاری صفت بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔(مرقات)ان سے آس لگائے کہ کوئی ہمیں پہچان لے اور چھڑائے ادھر جنتی آگے پیچھے گزر رہے ہوں گے۔
۲؎ یا میں نے تجھے فلاں وقت کھانا کھلایا،یا میں نے تجھے فلاں وقت سلام کیا تھا،یا فلاں وقت کپڑا دیاتھا،یا فلاں وقت تیرے پاس محبت سے کچھ معمولی ہدیہ پیش کیا تھا۔غرضکہ ڈوبتا ہوا تنکے کا سہار الیتا ہے یہ بھی اسی طرح سہارا لے گا،یہ دو چیزیں بطور مثال ارشاد ہوئی ہیں۔(مرقات)
۳؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ صالحین،علماء،شہداء کی شفاعت برحق ہے۔دوسرے یہ کہ شفاعت سے ہم جیسے گنہگاروں کی تقدیریں پلٹ جائیں گی،دیکھو یہ پکارنے والا دوزخیوں کی صف میں آگیا تھا شفاعت کی برکت سے وہاں سے نکل کر جنتی ہوگیا دنیا میں بھی یہ ہی حال ہے دعا سے قضا بدل جاتی ہے۔تیسرے یہ کہ ہم جیسے گنہگاروں کو چاہیے کہ صالحین مقبولین کی خدمت کیا کریں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع