30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5602 -[37] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَشْفَعُ لِلْقَبِيلَةِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلْعُصْبَةِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلرَّجُلِ حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے حضرت ابی سعید سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے بعض وہ ہیں جو ایک جماعت کی شفاعت کریں گے،بعض وہ جو ایک خاندان کی شفاعت کریں گے، بعض وہ ہیں جو ایک کنبہ کی شفاعت کریں گے ۱؎ بعض وہ ہیں جو صرف ایک آدمی کی شفاعت کریں گے حتی کہ یہ لوگ جنت میں داخل ہوجائیں گے۲؎(ترمذی) |
۱؎ فئام جمع ہے اس کا واحد کوئی نہیں۔اس کے معنی ہیں جماعت،بعض نے فرمایا یہ جمع ہے فئۃ کی۔قبیلہ وہ جماعت جو ایک دادا کی اولاد ہو۔عصبۃ بھی جمع ہے جس کا واحد کوئی نہیں،یہ دس سے چالیس تک پر بولی جاتی ہے۔اس حدیث کی تفصیل دوسری احادیث میں وارد ہے کہ حافظ پانچ پشت کی،عالم چودہ پشت کی،شہید اتنی جماعت کی شفاعت کریں گے وغیرہ۔ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ قیامت میں اولًا عدل الٰہی کا ظہور ہوگا،اس وقت حضور کے سوا کوئی شفاعت نہ کرے گا،بعد میں فضل الٰہی کا ظہور ہوگا اس وقت اور حضرات بھی شفاعت کریں گے۔یہاں دوسرے وقت کا ذکر ہے اس وقت مؤمنین بھی شفاعت کریں گے۔من امتی فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شفاعتیں امت محمدیہ کے لیے ہیں کہ ان کے علماء صالحین شفاعت کریں دوسری امتوں کے علماء وصلحاء کو یہ درجے نہ ملیں گے۔والله اعلم و رسولہ اعلم!
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کی ساری امت جنتی ہے کوئی پہلے ہی سے جنت میں پہنچ جاوے گا کوئی کچھ سزا بھگت کر،یہ ہی مطلب ہے اس حدیث کا کہ "من قال لا الہ الا الله دخل الجنۃ"حتی شفاعت کی انتہا کے لیے ہے یعنی یہ شفاعت ہوتی رہے گی یہاں تک کہ سارے مسلمان جنت میں پہنچ جاویں۔
|
5603 -[38] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ وعَدَني أَن يدْخل الجنةَ من أُمتي أربعمائةِ أَلْفٍ بِلَا حِسَابٍ» . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَهَكَذَا فَحَثَا بِكَفَّيْهِ وَجَمَعَهُمَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: وَهَكَذَا فَقَالَ عُمَرُ دَعْنَا يَا أبكر. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا عَلَيْكَ أَنْ يُدْخِلَنَا اللَّهُ كُلَّنَا الْجَنَّةَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ أَنْ يُدْخِلَ خَلْقَهُ الْجَنَّةَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ فَعَلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ عُمَرُ» رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا کہ میری امت میں سے چار لاکھ کو بغیر حساب جنت میں داخل کرے گا ۱؎ تو جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول الله ہم کو اور زیادہ دیجئے فرمایا اور اس طرح پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ ملائے ان کا لپ بھرا ۲؎ اور حضرت ابوبکر نے عرض کیا یارسول الله ہمیں زیادہ دیجئے ۳؎ فرمایا اور ایسے تو حضرت عمر نے فرمایا اے ابوبکر ہمیں چھوڑو بھی۴؎ تو ابوبکر نے فرمایا تمہارا کیا حرج ہے کہ ہم سب کو الله جنت میں داخل فرمائے ۵؎ تو حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر الله چاہے تو ایک مٹھی میں ساری خلقت کو جنت میں داخل کردے وہ کرسکتا ہے ۶؎ تب نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ عمر نے سچ کہا ۷؎(شرح سنہ) |
۱؎ یہ تعداد حضور کی امت کی ہے جو احکام شرعیہ کے مکلف تھے،حضرات انبیاءکرام مؤمنوں کے فوت شدہ ناسمجھ بچے دیوانے جو دیوانگی میں فوت ہوئے ان کا کچھ حساب نہیں۔حضرات انبیاء کرام کا بھی حساب نہیں اس کی تائید وہ آیت فرمارہی ہے"یَدْخُلُوۡنَ الْجَنَّۃَ یُرْزَقُوۡنَ فِیۡہَا بِغَیۡرِ حِسَابٍ"۔
۲؎ یعنی ان چار لاکھ کے علاوہ رب تعالٰی کے لپ(بک)بھر اور بھی بغیر حساب جنت میں جائیں گے کہ حق تعالٰی ان مؤمنوں کو اپنے دونوں دست قدرت میں لے کر وہاں پہنچادے گا۔خدا کرے ہم بھی اس میں آجاویں۔منہ چھوٹا ہے طلب بڑی ہے،وہ قدرتوں والا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ جمع فرماکر یہ بتایا کہ رب تعالٰی مٹھی بھرکر نہیں بلکہ دونوں ہاتھوں سے لپ بھرکر بخشے گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع