30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عزیز بچے کو ماں جس طرح تلاش کرے خدا گواہ یہ ہی حال آپ کا ہوگا
وہ لیں گے چھانٹ اپنے نام لیواؤں کو محشر میں غضب کی بھیڑ میں ان کی میں اس پہچان کے صدقے
حضرت انس کا سوال غالبًا پہلے وقت کے متعلق ہے کبھی ایسا بھی ہوگا کہ گنہگار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور غمخوار محبوب اپنے گنہگار کو تلاش کریں گے دو طرفہ تلاش ہوگی۔حضور پلصراط کے کنارے پر کھڑے ہوں گے تاکہ گرتوں کو سہارا دیں۔شعر
سیس پہ گٹھڑی ڈگر گھائل میرے پاؤں پیارے تمہیں سنبھالیو جب ڈگمگ میں ہوجاؤں
۳؎ حضور میزان پر اپنی امت کے عمل کا وزن اپنے اہتمام سے کرائیں گے کہ اگر کسی امتی کی نیکیاں ہلکی ہوں اور وہ دوزخ میں لے جایا جانے لگے تو اپنا کوئی عمل اپنا قدم رکھ کر شفاعت فرماکر اس کی نیکیاں وزنی کرادیں دوزخ سے بچالیں کیونکہ حضور کے اعمال کا وزن نہ ہوگا۔
۴؎ سبحان الله! کیا پیارا سوال ہے یعنی آپ کو اس دن ایک جگہ تو مستقل قرار ہوگا نہیں کبھی ان مجرموں کے پاس کبھی دوسرے کے پاس۔
کوئی قریب ترازو کوئی لبِ کوثر کوئی صراط پہ ان کو پکارتا ہوگا
کسی طرف سے سدا آئے گی حضور آؤ نہیں تو دم میں غریبوں کا فیصلہ ہوگا
کوئی کہے گا دہائی یارسول الله تو کوئی تھام کے دامن مچل رہا ہوگا
غرضکہ ایک جان اور فکر جہاں اللھم صلی علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تو اگر آپ میزان پر نہ ملیں تو پھر کہاں تلاش کروں۔
۵؎ غالبًا یہاں حوض سے مراد حوض کوثر کی وہ نہر ہے جو میدان حشر میں ہوگی،اصل حوض کوثر تو جنت میں ہے،محشر میں پیا سے پانی پئیں گے،حضور اپنے اہتمام سے انہیں پلوائیں گے یہاں وہ ہی موجودگی مراد ہے۔
۶؎ اس حدیث کے متعلق چار باتیں خیال میں رکھو: ایک یہ کہ حضور صلی الله علیہ و سلم خصوصی شفاعت کے اوقات میں ان تین جگہ ہوں گے ورنہ عمومی شفاعت کی جگہ تو مقامِ محمود ہے،رب فرماتاہے:" عَسٰۤی اَنۡ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوۡدًا"حاکم کا مقام مقدمات کے وقت کچہری ہوتا ہے،کھانے وغیرہ کے وقت گھر،نماز کے وقت مسجد لہذا یہ حدیث نہ تو قرآن مجید کے خلاف ہے نہ دوسری احادیث کے۔دوسرے یہ کہ یہاں ان تین مقاموں کا ذکر وہاں کی ترتیب کے مطابق نہیں کیونکہ میزان پہلے ہے حوض کی نہر اس سے آگے،پلصراط اس کے آگے۔تیسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے ہمارے نیک اعمال ایسے بھاری ہوجائیں گے جیسے روٹی پانی میں بھیگ کر وزنی ہوجاتی ہے۔ چوتھے یہ کہ یہ حدیث اس حدیث حضرت عائشہ کے خلاف نہیں کہ حضور نے فرمایا کہ ان تین مقام پر کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا،وہاں عام شوہروں کا ذکر ہے نہ کہ حضور انور کا صلی اللہ علیہ وسلم۔
|
5596 -[31] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قا ل: قيل لَهُ مَا الْمقَام الْمَحْمُود؟ قا ل: "ذَلِكَ يَوْمَ يَنْزِلُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى كُرْسِيِّهِ فَيَئِطُّ كَمَا يئطُّ الرحلُ الْجَدِيد من تضايقه بِهِ وَهُوَ كَسَعَةِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَيُجَاءُ بِكُمْ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا فَيَكُونُ أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبراهيم يَقُول الله تَعَالَى: أُكسوا خليلي بِرَيْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ مِنْ رِيَاطِ الْجَنَّةِ ثُمَّ أُكْسَى عَلَى أَثَرِهِ ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ اللَّهِ مقَاما يغبطني الْأَولونَ وَالْآخرُونَ ". رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں حضور سے عرض کیا گیا کہ مقام محمود کیا چیز ہے فرمایا قیامت وہ دن ہے جس میں الله تعالٰی اپنی کرسی پر نزول فرمائے گا تو وہ ایسی چرائے گی جیسے نیا کجاوا چرچراتا ہے اپنی تنگی کی وجہ سے ۱؎ حالانکہ وہ آسمانوں و زمینوں کی فراخی کی طرح ہے۲؎ اورتم کو ننگے پاؤں ننگے بدن بے ختنہ لایا جاوے گا۳؎ تو جنہیں پہلے پہنایا جاوے گا وہ حضرت ابراہیم ہوں گے۴؎ الله تعالٰی فرمائے گا میرے خلیل کو پہناؤ تو دو سفید حلے لائے جائیں گے پھر ان کے بعد مجھے پہنایا جاوے گا ۵؎ پھر میں الله تعالٰی کے داہنے طرف اس جگہ کھڑا ہوں گا کہ مجھ پر اگلے اور پچھلے رشک کریں گے ۶؎(دارمی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع