30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مختلف شہروں کے نام لیے گئے جو شخص جن شہروں سے واقف تھا اسے وہ ہی شہر بتائے گئے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ حوض کوثر بعض لوگوں کی نگاہ میں دراز ہوگا،بعض کی نگاہ میں بہت دراز،بعض کی نگاہ میں بہت ہی دراز جیسے مؤمن کی قبر کی فراخی مختلف ہے۔(مرقات)
۳؎ مٹھاس کے بیان کے لیے شہد کا ذکر فرمایا کہ شہد میٹھا بھی ہوتا ہے لذیذ بھی اور اس میں شفاء بھی ہے دیگر شیرینی میں یہ خوبیاں جمع نہیں۔
۴؎ کوزوں اور تاروں کی گنتی حضور کو معلوم ہے دوسروں کے علم سے وراء ہے،چونکہ تارے بہت بھی ہیں چمکدار بھی خوشنما بھی اس لیے ان کا ذکر فرمایا ذرات یا قطرات کا ذکر نہیں فرمایا۔ان کوزوں میں کثرت بھی ہے،چمک دمک بھی،بے مثال حسن بھی۔
۵؎ حوض کوثر جنت میں ہے اس کی ایک نہر میدان حشر میں اسی میں تاثیر یہ ہے کہ نہ اب پیاس رہے نہ آئندہ پیاس محسوس ہو۔ سبحان الله!
۶؎ یہاں فقراء سے مراد وہ فقراء ہیں جو صالحین مؤمنین ہوں جو علم و عبادت میں مشغولیت کی وجہ سے مال و عزت حاصل نہ کرسکے اپنے کو خدمت دین کے لیے وقف رکھا۔دوسری روایت میں بھی اسے یوں واضح فرمایا کہ دنیا میں بھوکے رہنے والے آخرت میں سیر ہوں گے۔(مرقات)جنہیں دنیا والے نہیں پوچھتے انہیں الله تعالٰی اور اس کے رسول پوچھتے ہیں۔خیال رہے کہ یہاں اشعت وغیرہ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ گندے رہتے تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ ہر وقت جسمانی صفائی کے پیچھے نہیں لگتے،اس صفائی میں مشغول ہوکر آخرت کو نہیں بھولتے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ارشاد ہے کہ صفائی و طہارت بہت اعلٰی چیز یں ہیں،فرمایا گیا طہارت نصف ایمان ہے،نیز اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ لوگوں کے دروازہ پر جاتے ہیں مگر ان کے لیے دروازے نہیں کھلتے۔یہ فرض و تقدیر کا بیان ہے کہ اگر بالفرض وہ کسی دنیادار کے دروازہ پر جائیں تو وہ ان بے چاروں کی طرف التفات نہ کریں ورنہ یہ فقراء تمام عالم سے غنی ہوتے ہیں۔مصرع
کیوں نہ وہ بے نیاز ہو تجھ سے جسے نیاز ہو
|
5593 -[18] وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلْنَا منزلا فَقَالَ:«مَا أَنْتُمْ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ».قِيلَ:كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟قَالَ: سَبْعَمِائَةٍ أَوْ ثَمَانِمِائَةٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ تھے ایک منزل پر اترے تو فرمایا کہ تم ان کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہو جو میرے پاس حوض پر پہنچیں گے ۱؎ کہا گیا تم اس دن کتنے تھے فرمایا سات سو یا آٹھ سو ۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ اس سے حضور صلی الله علیہ و سلم کی ساری امت مراد ہے کہ ان شاءالله ہر امتی حوض کوثر پر حاضر ہوگا وہاں کا پانی پئے گا،کیوں نہ پئے کہ وہ اس کے نبی کا حوض ہے صلی الله علیہ و سلم۔
۲؎ یہ فقط سمجھانے کے لیے ہے ورنہ حضور کی امت تو اربوں کھربوں کی تعداد میں ہے۔آج مسلمان دنیا میں قریبًا ایک ارب ہیں پھر تاقیامت کتنے ہوں گے ہم اندازہ نہیں کرسکتے۔
|
5594 -[29] وَعَن سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوْضًا وَإِنَّهُمْ لَيَتَبَاهَوْنَ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ وَارِدَةً وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ وَارِدَةً» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب |
روایت ہے حضرت سمرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ہر نبی کا حوض ہے اور وہ حضرت اس پر فخر کریں گے کہ ان میں سے کس کے پاس زیادہ آنے والے ہیں ۱؎ اور میں امید کرتا ہوں کہ میں ان سب میں زیادہ ہوں گا آنے والوں میں ۲؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع