30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۸؎ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے انقلاب حال پر تبسم فرمایا کہ ابھی تو گناہ کبیرہ سے ڈر رہا تھا اب خود مانگ رہا ہے۔رب کا فضل تو آن کی آن میں کایا پلٹ دیتا ہے وہ اگر چاہے تو ہم جیسے لاکھوں گنہگار پرہیزگاربن جاویں وہاں کیا کمی ہے،پانچ منٹ کی بارش مردہ زمین کو زندہ کردیتی ہے۔
|
5588 -[23] وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ أَرْبَعَةٌ فَيُعْرَضُونَ عَلَى اللَّهِ ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِمْ إِلَى النَّارِ فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ؟ لَقَدْ كنتُ أَرْجُو إِذا أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا " قَالَ: «فينجيه الله مِنْهَا» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ آگ سے چار آدمی نکالے جائیں گے ۱؎ پھر بارگاہِ الٰہی میں پیش کیے جائیں گے پھر انہیں آگ کیطرف جانے کا حکم دیا جاوے گا ۲؎ تو ان میں سے ایک مڑمڑ کر دیکھے گا عرض کرے گا یارب میں امیدوار تھا جب تو نے مجھے وہاں سے نکال لیا تو اب دوبارہ نہ لوٹائے گا فرمایا تو رب اسے آگ سے نجات دے دے گا ۳؎(مسلم) |
۱؎ یعنی چار قسم کے لوگ نکالے جائیں گے یا ہر بار میں چار چار افراد نکالے جائیں گے اور ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ شخصی ہو۔خیال رہے کہ یہ سب لوگ بخشے جائیں گے حضور کی شفاعت سے ہی کوئی آگے کوئی پیچھے کوئی کسی طرح کوئی کسی طرح۔شفاعت سے پہلے تو رب نہ کسی سے کلام فرمائے گا نہ قیامت کا کاروبار شروع فرمائے گا۔
۲؎ سبحان الله! کیسا پیارا حکم ہے دوزخ سے نکل کر ہمارے حضور آؤ اچھا پھر وہاں ہی لوٹ جاؤ،اس حکم حکیمانہ پر دل و جان فدا۔اعلٰی حضرت قدس سرہ نے کیا خوب فرمایا شعر
جملہ عالم بندہ اکرام تو صدچو جان من فدائے نام تو
۳؎ معلوم ہوا کہ رب تعالٰی سے امید بھی بڑی عبادت ہے ایسی عبادت کہ مشکلیں حل کر دیتی ہے۔امید ہی وہ عبادت ہے جو اس عالم میں بھی ہوگی اور کام آوے گی امید ہی وہ عبادت ہے جو ہم جیسے گنہگاروں کا سہار اہے۔شعر
زطاعت نہ آور دم الا امید خدایا مگرداں مرانا امید
اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چار میں سے ایک شخص یہ عرض کرے گا باقی تین بھی اسی کی عرض سے بخش دیئے جائیں گے،رحمت والے کا ساتھ بھی رحمت سے حصہ دلادیتا ہے،یا وہ چاروں باری باری سے یہ عرض کریں گے یہاں صرف ایک کا ذکر ہوا ہے۔
|
5589 -[24] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ أَهْدَى بِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ بِمَنْزِلِهِ كَانَ لَهُ فِي الدُّنْيَا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ مسلمان آگ سے نجات پائیں گے تو وہ جنت دوزخ کے درمیان ایک پل پر روکے جائیں گے ۱؎ تو بعض کا ان ظلموں کا بدلہ لیا جاوے گا جو ان کے درمیان دنیا میں تھے ۲؎ حتی کہ جب پاک و صاف کردیئے جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جاوے گی۳؎ تو اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد مصطفی کی جان ہے ان میں سے ہر ایک اپنے جنتی گھر کا اس سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوگا جو اپنے دنیاوی گھر کا ہدایت یافتہ تھا ۴؎ (بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع