30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5586 -[21] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا. فَيَقُولُ اللَّهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا. فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ مِنِّي - أَوْ تَضْحَكُ مِنِّي - وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟ " وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ وَكَانَ يُقَالُ: ذَلِكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً. |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں جانتا ہوں دوزخ والوں میں سے آخری نکلنے والے کو اور جنت میں آخری داخل ہونے والے کو ۱؎ ایک شخص آگ سے گھسٹتا ہوا نکلے گا تو رب فرمائے گا جا جنت میں داخل ہو جا وہ وہاں جاوے گا اسے خیال بندھے کہ جنت بھری ہوئی ہے ۲؎ وہ کہے گا یارب میں نے جنت بھری ہوئی پائی ۳؎ تو رب فرمائے گا جا جنت میں داخل ہوجا کیونکہ تیری ملکیت دنیا کی برابر اور اس کا دس گنا ہے۴؎ وہ کہے گا کیا تو مجھ سے تمسخر کرتا ہے یا مجھ سے ہنسی فرماتا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے تو میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ حضور ہنسے حتی کہ آپ کی ڈاڑھیں مبارک چمک گئیں ۵؎ اور کہا جاتا تھا کہ یہ جنت والوں میں ادنیٰ درجہ کا ہوگا ۶؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ رجل سے مراد صرف ایک شخص نہیں ہے بلکہ اس قسم کے لوگ ہیں۔حضور ان سب کو تفصیلًا جانتے ہیں ان کے نام، ان کے خاندان،ان کی شکل و صورت وغیرہ جیساکہ اعلم سے معلوم ہوا۔شعر
ہم نے عرض کیا ہے۔ ایک ماہ مدن گورا سا بدن نیچی نظریں کُل کی خبریں
۲؎ کیونکہ جہاں تک اس کی نگاہ کام کرے گی وہاں تک آدمی ہی آدمی نظر آئیں گے کوئی جگہ جنتیوں سے خالی اسے نظر نہ آوے گی۔
۳؎ میرے مولٰی اب میں کہاں جاؤں گا جنت میں تو کوئی جگہ خالی ہی نہیں۔
۴؎ اس دن گناہ فرمانے میں عجیب حکمت ہوگی کیونکہ مؤمن کا دنیا میں رہنا بھی نیکی ہے اور نیکی کا بدلہ دس گنا ہے "مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا"لہذا اس قانون سے اسے دنیا کا دس گنا رقبہ عطا ہوا۔(مرقات)
۵؎ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہنسنے سے مراد ہوتا ہے آپ کا تبسم فرمانا کیونکہ قہقہہ لگانا حضور سے کبھی ثابت نہیں،رب تعالٰی کے استہزاء کے معنی بیان ہوچکے۔
۶؎ یہ قول یا تو حضرت ابن مسعود کا ہے یا کسی اور راوی کا حضور صلی الله علیہ و سلم کا فرمان نہیں۔اس لیے کان یقال فرمایا گیا۔یعنی لوگوں میں یہ مشہور تھا کہ یہ ادنی درجہ کا جنتی ہوگا جس کی املاک اس قدر وسیع ہوں گی۔اعلٰی جنتیوں کی ملکیت کا رقبہ تو ہمارے خیال سے باہر ہے۔
|
5587 -[22] وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا رَجُلٌ يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ: اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ وَارْفَعُوا عَنْهُ كِبَارهَا فتعرض عَلَيْهِ صغَار ذنُوبه وفيقال: عملت يَوْم كَذَا وَكَذَا وَكَذَا وَكَذَا وَعَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ. لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنْكِرَ وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِ ذُنُوبِهِ أَنْ تُعْرَضَ عَلَيْهِ. فَيُقَالُ لَهُ فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً. فَيَقُولُ: رَبِّ قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هَهُنَا " وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں جانتا ہوں جنتیوں میں سے آخری داخل ہونے والے کو جنت میں اور دوزخیوں میں سے وہاں سے آخری نکلنے والے کو ۱؎ کہ یہ شخص ہوگا جسے قیامت کے دن لایا جائے گا کہا جائے گا کہ اس پر اس کے چھوٹے گناہ پیش کرو اور اس سے اس کے بڑے گناہ اٹھا رکھو ۲؎ چنانچہ اس پر اس کے چھوٹے گناہ پیش کیے جائیں گے کہا جاوے گا تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیے اور فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیے وہ کہے گا ہاں۳؎ انکار کرنے کی طاقت نہ رکھے گا۴؎ اور وہ اپنے بڑے گناہوں سے ڈر رہا ہوگا کہ اس پر وہ پیش کردیئے جاؤیں۵؎ کہا جاوے گا کہ تیرے لیے ہر گناہ کے عوض ایک نیکی ہے ۶؎ تب وہ کہے گا کہ میں نے تو اور بڑے کام کیے تھے جنہیں میں یہاں نہیں دیکھ رہا ہوں۷؎ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ حضور سرکار ہنس پڑے حتی کہ آپ کی داڑھیں چمک گئیں ۸؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع