دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

ہوں گی،یہاں دو فرمانا صرف حوروں کے لیے ہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ"وَلَہُمْ فِیۡہَاۤ اَزْوٰجٌ مُّطَہَّرَۃٌ"وہاں ازواج جمع ارشاد ہوا ہے یہاں دو حوریں فرمایا گیا دونوں درست ہیں۔

۲۸؎  یعنی اس رب نے تم کو ہمارے لیے اور ہم کو تمہارے لیے دائمی زندگی بخشی کہ اب نہ مرنا ہے نہ یہاں سے نکلنا نہ ہماری تمہاری جدائی تجھے ہم تک پہنچایا۔

۲۹؎  یا تو اس شخص کو اعلٰی درجات والے جنتیوں کی عطاؤں کی خبر نہ ہوگی وہ سمجھے گا سب سے اعلٰی نعمتیں مجھے ہی دی گئی ہیں یا اسے ان حضرات کے عطیوں کی طرف دھیان نہ جاوے گا اپنی نعمتوں پر ہی دھیان رہے گا تاکہ اسے رنج نہ ہو کہ جنت میں رنج و غم نہیں، مرقات نے پہلی توجیہ اختیار کی غرضکہ اس کی خوشی کی انتہا نہ ہوگی۔

5584 -[19]

وَعَن أنس أَن النَّبِي الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيُصِيبَنَّ أَقْوَامًا سَفْعٌ مِنَ النَّارِ بِذُنُوبٍ أَصَابُوهَا عُقُوبَةً ثُمَّ يُدْخِلُهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِهِ وَرَحْمَتِهِ فَيُقَالُ لَهُمُ: الجهنميون ". رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ کچھ قوموں کو ان کے کیے ہوئے گناہوں کی وجہ سے آگ کی لپٹ پہنچے گی ۱؎  سزا کے طور پر پھر الله انہیں جنت میں داخل فرمادے گا اپنے فضل اپنی رحمت سے انہیں جہنمی کہا جاوے گا۲؎(بخاری)

۱؎ ایسی لپٹ پہنچے کہ جس سے ان کے چہرے جھلس تو جائیں گے مگر بالکل جلیں گے نہیں۔سفع کے معنی ہیں حرق قلیل تھوڑی سی جلن۔

۲؎  مگر انہیں اس نام سے خوشی ہوگی کہ رب تعالٰی کی بخشش رحمت انہیں یاد آئے گی،رنج مطلقًا نہ ہوگا کہ جنت میں رنج کیسا۔

5585 -[20]

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَخْرُجُ أَقْوَامٌ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ».رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ: «يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَتِي يُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ»

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ محمد مصطفی کی شفاعت سے ایک قوم آگ سے نکالی جاوے جو جنت میں داخل ہوں گے اور ان کا نام جہنمیں رکھا جاوے گا ۱؎ (بخاری)اور ایک روایت میں ہے کہ میری امت میں سے ایک قوم میری شفاعت کی بنا پر آگ سے نکالی جاوے گی جو جہنمی نام دیئے جائیں گے۲؎

۱؎ ان میں سے وہ لوگ بھی داخل ہیں جنہوں نے صرف کلمہ پڑھا اچھے عقیدے اختیار کیے مگر کوئی نیکی نہ کی اور وہ بھی داخل ہیں جنہوں نے کلمہ بھی نہیں پڑھا ان کا ایمان شرعی نہ تھا مگر وہ عند الله مؤمن تھے،دل میں ایما ن رکھتے ہیں زبان سے ظاہر نہ کرتے تھے کسی وجہ سے،ان پر دنیا میں نماز جنازہ بھی نہ ہوئی،انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن بھی نہیں کیا گیا،انہیں رب تعالٰی اپنی قدرت والی مٹھی میں بھر کر جنت میں ڈالے گا۔یہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے ہی دوزخ سے نکلیں گے اس کی تحقیق ابھی کچھ پہلے کی جاچکی ہے۔

۲؎  یہ وہ لوگ ہیں جو کلمہ پڑھ کر مسلمان تو ہوگئے مگر غفلت میں زندگی گزار گئے کوئی نیکی نہیں کی کیونکہ انہیں امتی فرمایا گیا۔

5586 -[21] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا. فَيَقُولُ اللَّهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا. فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ مِنِّي - أَوْ تَضْحَكُ مِنِّي - وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟ " وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ وَكَانَ يُقَالُ: ذَلِكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً.

روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں جانتا ہوں دوزخ والوں میں سے آخری نکلنے والے کو اور جنت میں آخری داخل ہونے والے کو ۱؎  ایک شخص آگ سے گھسٹتا ہوا نکلے گا تو رب فرمائے گا جا جنت میں داخل ہو جا وہ وہاں جاوے گا اسے خیال بندھے کہ جنت بھری ہوئی ہے ۲؎ وہ کہے گا یارب میں نے جنت بھری ہوئی پائی ۳؎ تو رب فرمائے گا جا جنت میں داخل ہوجا کیونکہ تیری ملکیت دنیا کی برابر اور اس کا دس گنا ہے۴؎  وہ کہے گا کیا تو مجھ سے تمسخر کرتا ہے یا مجھ سے ہنسی فرماتا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے تو میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ حضور ہنسے حتی کہ آپ کی ڈاڑھیں مبارک چمک گئیں ۵؎  اور کہا جاتا تھا کہ یہ جنت والوں میں ادنیٰ درجہ کا ہوگا ۶؎ (مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن