دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

کرے گی بتا کس چیز پر تیری مانگ ختم ہوتی ہوگی۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں عبارت الٹی ہے اصل میں یہ تھا ما یصرینی منك میری کون سی عطا پر تیری طلب ختم ہوگی تو کس عطا پر مانگنے سے فارغ ہوگا یہ فرمان عالی نہایت ہی کرم و رحم کا ہے۔

۲۰؎  یعنی اگر تجھے جنت کا اتنا رقبہ دے دوں جو ساری دنیا کے رقبہ سے دوگنا ہے تو کیا تو سوالات اور مانگ ختم کردے گا لے تو اتنا لے لے اور اپنی مانگ ختم کر۔

۲۱؎  یہ شخص انتہائی خوشی میں دربار عالیہ کے آداب بھی اور عرض کرنے کا طریقہ بھی بھول جاوے گا وہ سمجھے گا کہ جنت میں اتنی جگہ کہاں سے آئی مجھ سے یوں ہی میرے دل لگانے کے لیے فرمایا جارہا ہے۔استہزاء کے لغوی معنی ہیں دل لگی جو مخاطب کے دل کو لگ جاوے،الله تعالٰی دل اور دل لگنے سے پاک ہے اور دل لگی کے ظاہر معنی سے بھی پاک ہے کہ کچھ دینا تو نہ ہو صرف اس کا دل لبھانے کے لیے یہ فرمادے۔(اشعہ)مرقات نے فرمایا کہ اس کی یہ عرض و معروض ایسی بے خودی میں ہوگی جیسی اس گم شدہ اونٹ والے نے اونٹ مل جانے پر کہا الٰہی انت عبدی واناربك خدایا تو میرا بندہ ہے میں تیرا رب اسے خبر ہی نہ رہی کہ میرے منہ سے نکل کیا رہا ہے ایسی جوش کی حالت کی بے ادبی معاف ہوتی ہے،یہ بے ادبی نہیں بلکہ بے خودی کی بدحواسی ہے۔

۲۲؎  رب تعالٰی کے ہنسنے سے مراد ہے اس کا خوش ہوجانا،حضور صلی الله علیہ و سلم کا ہنسنا ہے آپ کا تبسم فرمانا یہ،تبسم بھی اظہار خوشی کے لیے ہے،حضرت ابن مسعود کا ہنسنا حضور صلی الله علیہ و سلم کی نقل فرماتے ہوئے ہے۔حضرات صحابہ کرام حضور کے افعال کریمہ کی روایت بالعمل بھی کرتے تھے جب غضب ہو تو بندہ کی عبادت پر ناراض ہوجائے اور جب کرم ہو تو اس کے گناہ پر خوش ہوجائے۔بلاتشبیہ شیخ سعدی کا وہ مقولہ دیکھو

گہے برسلامے بربخندو                                              گہے بہ دشنامے خلعت وہندہ

اس کی تحقیق یہاں مرقات میں دیکھو۔اعلٰی حضرت نے فرمایا

اس میں روضہ کا سجدہ ہو کہ طواف                         ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے

رب ہم سے زیادہ ہم پر مہربان ہے۔

۲۳؎  یعنی تو نے میری قدرت جانی نہیں تیری طلب سے میری رحمتیں زیادہ ہیں میری عطائیں تیرے وہم و گمان سے ورا ہیں۔

۲۴؎  یعنی مسلم کی روایت میں اتنی عبارت نہیں اور دوسری دراز عبارت ہے جو دوسری روایت میں مذکور ہے۔

۲۵؎  سبحان الله! کیسا کریم رحیم ہے کہ خود ہی مانگنا سکھائے اور خود ہی عطائیں فرمائے جب حاکم فرمائے کہ تم فلاں مضمون کی درخواست ہم کو دے دو مطلب یہ ہوتا ہے کہ نوکر رکھ لیا ہے قانونی کارروائی کے لیے درخواست مانگی ہے یہ ہی وہاں بنے گا بلکہ دنیا میں بھی ایسا ہی ہے وہ ہی دعا سکھاتا ہے وہ ہی عطائیں فرماتا ہے۔

۲۶؎ اس کا مطلب پہلے بیان ہوچکا کہ اولًا ایک مثل کی عطا ہوگی پھر دس گنا کی لہذا روایات میں کوئی تعارض نہیں۔

۲۷؎ اس کی یہ بیبیاں اس کی منتظر تھیں۔خیال رہے کہ اس جنتی کو دو بیویاں تو حورعین ملیں گی اور اس کی دنیا کی وہ بیوی جو اس کے نکاح میں فوت ہوئیں اگر اس کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہے وہ بھی ملے گی ان کے سواء اور وہ عورتیں جو کنواری فوت ہوئیں یا وہ جن کے خاوند کافر مرے وہ بھی اسے ملے گی ہر جنتی کا یہ ہی حال ہوگا۔چنانچہ حضرت مریم اور حضرت بی بی آسیہ حضور صلی الله علیہ و سلم کے نکاح میں

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن