دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

5582 -[17]

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ يَمْشِي مَرَّةً وَيَكْبُو مَرَّةً وَتَسْفَعُهُ النارُ مرّة فإِذا جاؤوها الْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ: تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلْأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ اللَّهُ: يَا ابْنَ آدَمَ لَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ يَعْذُرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَى فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ لِأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا. فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا؟ فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ يَعْذُرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَيَيْنِ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ فَلِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا. فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ يَعْذُرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا سَمِعَ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فيقولُ: أَي رَبِّ أَدْخِلْنِيهَا فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ مَا يصريني مِنْك؟ أيرضيك أَن أُعْطِيك الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا. قَالَ: أَيْ رَبِّ أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ: أَلا تسألونيّ ممَّ أضْحك؟ فَقَالُوا: مِم تضحك؟ فَقَالَ: هَكَذَا ضَحِكَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:"من ضحك رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ وَلَكِنِّي على مَا أَشَاء قدير ". رَوَاهُ مُسلم

 

 

 

 

 

5583 -[18]

وَفِي رِوَايَة لَهُ عَن أبي سعيدٍ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ " فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ مَا يَصْرِينِي مِنْكَ؟ " إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ: " وَيَذْكُرُهُ اللَّهُ: سَلْ كَذَا وَكَذَا حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ: هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ قَالَ: ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فَيَقُولَانِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ. قَالَ: فَيَقُولُ: مَا أَعْطَى أَحَدٌ مثلَ مَا أَعْطَيْت "

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ آخری وہ شخص جو جنت میں داخل ہوگا وہ شخص ہوگا جو کبھی چلے گا اور کبھی گرے گا ۱؎  اور کبھی اسے آگ جھلسائے گی۲؎ پھر جب اس سے نکل جاوے گا تو اس کی طرف دیکھے گا کہے گا مبارک ہے وہ جس نے مجھے تجھ سے نجات دی۳؎  الله نے مجھے وہ شے دی ہے جو اگلے پچھلوں میں سے کسی کو نہیں دی۴؎ پھر اس کے سامنے ایک درخت پیش کیا جاوے گا ۵؎  وہ کہے گا اے میرے رب مجھے اس درخت سے قریب کردے میں اس کا سایہ لوں گا اور اس کا پانی پیوں ۶؎ تو الله تعالٰی فرمائے گا کہ اے ابن آدم ممکن ہے کہ اگر میں تجھے یہ دیدوں تو تو مجھ سے اس کے سواءبھی مانگے ۷؎  وہ عرض کرے گا نہیں اے رب اور اس سے وعدہ کرے گا کہ اس کے سواء اور نہ مانگے ۸؎ اس کا  رب اسے معذور جانے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہوگا جس پر صبر نہیں ہوسکتا تو اسے اس درخت سے قریب کردے گا وہ اس کا سایہ لے گا اور اس کا پانی پئے گا ۹؎ پھر دوسرا درخت اس کے سامنے کیا جاوے جو پہلے سے اچھا ہوگا تو کہے گا اے میرے رب مجھے اسی درخت سے قریب کر دے ۱۰؎  تاکہ میں اس کا پانی پیوں اور اس کا سایہ لوں میں تجھ سے اس کے سواء نہ مانگوں گا ۱۱؎ تو رب فرمائے گا اے ابن آدم کیا تو نے مجھ سے معاہدہ نہ کیا تھا کہ تو اس کے سواء اور مجھ سے نہ مانگے گا پھر فرمائے گا ممکن ہے کہ اگر میں تجھے اس سے قریب کردوں تو تو مجھ سے اس کے سواء مانگے۱۲؎  وہ رب سے وعدہ کرے گا کہ اس کے سواء نہ مانگے گا اور اس کا رب اسے معذور جانے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھے گا جس پر صبر ناممکن ہے رب اسے اس درخت سے قریب کر دے گا ۱۳؎  وہ اس کا سایہ لے گا اس کا پانی پئے گا پھر اس کے سامنے جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت ظاہر ہوگا جو پہلے دو سے اچھا ہوگا۱۴؎  تو کہے گا اے میرے رب اب مجھے اس سے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ لوں اور اس کا پانی پیوں۱۵؎  اس کے سواء تجھ سے کچھ نہ مانگوں گا تو فرمائے گا اے ابن آدم کیا تو نے مجھ سے یہ عہد نہ کیا تھا کہ تو مجھ سے اس کا سواء کچھ نہ مانگے گا عرض کرے گا ہاں یارب یہ ہی آخری سوال ہے ۱۶؎  اس کے سوا تجھ سے اور نہ مانگوں گا اور اس کا رب اسے معذور رکھے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھے گا جس پر اس سے صبر نہ ہوگا۱۷؎ تو اس کو اس سے قریب کردے گا تو جب اس سے قریب کردے گا وہ جنت والوں کی آواز سنے گا ۱۸؎  تو کہے گا اے رب مجھے اس میں داخل فرمارب فرمائے گا ابن آدم مجھے تجھ سے فراغت نہیں ہوتی ۱۹؎  کیا تجھے یہ بات راضی کرے گی کہ میں تجھے دنیا اور دنیا کی مثل اس کے ساتھ دوں۲۰؎ عرض کرے گا اے رب مجھ سے تو مذاق کرتا ہے تو رب العالمین ہے ۲۱؎ حضرت ابن مسعود ہنس پڑے پھر فرمایا تم مجھ سے پوچھتے کیوں نہیں کہ میں کس چیز سے ہنستا ہوں لوگوں نے عرض کیا کہ آپ کس چیز سے ہنستے ہیں فرمایا ایسے ہی رسول الله صلی الله علیہ و سلم ہنسے تھے صحابہ نے عرض کیا تھا کہ یارسول الله حضور سرکار کس چیز سے ہنستے ہیں فرمایا رب العالمین کے ہنسنے سے جب وہ بندہ کہے گا ۲۲؎ کہ کیا تو مجھ سے مزاق فرماتا ہے حالانکہ تو رب العالمین ہے تو فرمائے گا میں تجھ سے مذاق نہیں کرتا لیکن میں اپنے ہر چاہے پر قادر ہوں۲۳؎ 

اور اسی مسلم کی ایک روایت میں ہے جو حضرت ابو سعید سے ہے اسی طرح ہے مگر انہوں نے یہ ذکر نہ کیا کہ اے ابن آدم مجھے تجھ سے فراغت نہیں ہوتی۲۴؎  آخر حدیث تک اس میں یہ زیادتی کی ہے کہ الله اسے یاد دلائے گا کہ فلاں فلاں چیز مانگ ۲۵؎ حتی کہ جب اس کی خواہشیں ختم ہوجائیں گی تو الله تعالٰی فرمائے گا کہ وہ سب کچھ تیرا ہے اور اس سے دس گنا اور ۲۶؎ فرمایا پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگا تو اس پر اس کی دو بیویاں آنکھ والی حوریں داخل ہوں گی۲۷؎ کہیں گی شکر ہے اس الله کا جس نے تجھے ہمارے لیے اور ہمیں تیرے لیے زندہ رکھا ۲۸؎ فرماتے ہیں وہ کہے گا کہ جیسا مجھے عطیہ کیا گیا وہ کسی کو نہ دیا گیا ۲۹؎

۱؎ فہو یمشی میں ف تفصیلیہ ہے جس سے اس شخص کے جنت میں داخلہ کی تفصیل بیان فرمائی گئی،تعقیبیہ نہیں ہے۔ جنت میں داخل ہوجانے کے بعد چلنا اور گرنا کیسا یعنی جب جنت میں آتا ہوگا تو راستہ اس طرح طے کرے گا۔

۲؎  تسفع کے لفظی معنی ہیں جلاکر نشان لگادینا،بالکل جلا دینے کو خرق کہتے ہیں اور معمولی جلا کر چہرہ وغیرہ سیاہ کردینے کو سفع۔ (مرقات)لہذا اس کے معنی جھلسانا بہت موزوں ہیں مؤمن کو دوزخ کی آگ بالکل جلا ڈالنے پر قادر نہ ہوگی ہاں جھلسادے گی۔

۳؎  اس کا آگ سے یہ کلام نہایت ہی فرحت و خوشی کی حالت میں ہوگا اس وقت اسے ایسی خوشی ہوگی کہ اگر موت ہوتی تو آج اسے شادی مرگ ہوجاتی۔

۴؎  اس کا یہ کلام بھی انتہائی خوشی کا ہوگا۔خیال رہے کہ ادنیٰ جنتی کو بھی یہ خیال نہ آوے گا کہ میں ادنی ہوں اگر یہ خیال ہوجائے تو اسے رنج ہو اور جنت میں رنج کیسا۔

۵؎  یہ درخت جنت سے باہر ہوگا اس کے پاس پانی کا چشمہ ہوگا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے اس درخت کی سرسبزی شادابی حسن و خوبصورتی بیان سے باہر ہے۔

۶؎  یعنی میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ میں اس درخت تک پہنچ جاؤں ابھی اسے جنت کی خبر نہ ہوگی کہ وہاں کیا کیا ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن