دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کاایمان شرعی نہ تھا یعنی ساترین۔خیال رہے کہ حضور کے والدین کریمین بلکہ سارے آباؤ اجداد جو ظہور نبوت سے پہلے وفات پاگئے دوزخ میں قطعًا نہیں جائیں گے کہ وہ حضرات اہلِ توحید تھے اور اس زمانہ میں صرف عقیدہ توحید نجات کے لیے کافی تھا ان سے کوئی گناہ سرزد نہ ہوا۔ گناہ وہ کام ہے جس سے رب تعالٰی منع کرے ان تک ممانعت پہنچی نہیں کہ انہوں نے زمانہ نبوت پایا نہیں۔

۳۲؎  اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ میں جلتے رہنا موت نہ آنا کفار و مشرکین کے لیے ہوگا مؤمن گنہگار اور وہ لوگ جن کو دوزخ سے نکالا جانا ہے وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے،ان کی جان نکال لی جاوے گی انہیں دائمی عذاب نہ ہوگا۔

۳۳؎  یعنی جو کوڑا سیلاب میں بہتا ہوا آجائے اس میں کوئی دانہ ہو وہ پانی کے اثر سے بہت جلد اُگ پڑتا ہے اس طرح وہ بڑھیں گے۔

۳۴؎  یعنی پہلے وہ کالے کوئلے تھے اب جو بڑھیں گے تو موتیوں کی طرح سفید چمکیلے ہوں گے،ان کی گردنوں میں سونے کا زیور پڑا ہوگا جس سے وہ پہچانے جائیں گے کہ یہ لوگ بغیرعمل جنت میں آئے یا یہ لو گ عندالله مؤمن تھے شرعی ساتر تھے۔

۳۵؎  یعنی ان لوگوں کا لقب ہوگا عتیق الرحمن،نام ان کے وہ دنیا والے ہوں گے وہ لوگ اسی لقب سے بڑے خوش ہوا کریں گے۔

۳۶؎  یعنی جہاں تک تمہاری نظر کام کرتی ہے وہ بھی اور اس کی مثل اتنا ہی اور علاقہ بھی ہے ان کی نعمتوں کے تم کو دیا گیا۔خیال رہے کہ ان لوگوں کو صرف فضل کی جنت ملے گی اور مؤمنوں  عاملین کو عمل کی جنت بھی ملے گی اور فضل کی بھی،رب فرماتاہے:"وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ"اور دو جنتوں سے یہ ہی عدل و فضل کی جنتیں مراد ہیں۔(مرقات)

5580 -[15] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيَخْرُجُونَ قَدِ امْتَحَشُوا وَعَادُوا حُمَمًا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهْرِ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ أَلَمْ تَرَوْا أَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً ".

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو الله تعالٰی فرمائے گا کہ جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو اسے نکال لو چنانچہ وہ نکال لیں گے ۱؎ حالانکہ جل چکے ہوں گے اور کوئلے ہوگئے ہوں گے پھر وہ نہر حیوٰۃ میں ڈالے جائیں گے۲؎  تو ایسے اُگیں گے جیسے دانہ سیلاب کے اوپر کوڑے میں اُگتا ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ دانہ اولًا پیلا ٹیڑھا نکلتا ہے۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہ خطاب حضرات انبیاء کرام،فرشتوں اور جنتی مؤمنوں  سے ہوگا کہ دوزخ میں جاؤ گنہگاروں کو نکال کر لاؤ کہ یہ سارے حضرات ہی یہ کام کریں گے۔

۲؎  نہر حیوٰۃ وہی چشمہ ہے جس کا ذکر ابھی گزرا کہ یہ جنت کے دروازے پر واقع ہے،چونکہ اس پانی میں ان مردوں کو زندہ کرنے کی تاثیر ہوگی اس لیے اسے نہر حیوٰۃ کہتے ہیں۔

۳؎  یعنی جیسے دانہ جب اُگتا ہے تو نہایت کمزور پیلا اور ٹیڑھا ہوتا ہے پھر ہوا پانی دھوپ پاکر بہتر قوی اور سیدھا ہوجاتا ہے یہ ہی حال ان لوگوں کا ہوگا کہ اس پانی سے اولًا جئیں گے اُگیں گے مگر کمزور زرد رنگ بعد میں قوت پائیں گے۔

5581 -[16] (متفّق عَلَيْهِ)

وَعَن أبي هُرَيْرَة أَنَّ النَّاسَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ غَيْرَ كَشْفِ السَّاقِ وَقَالَ: " يُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ جَهَنَّمَ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُ مِنَ الرُّسُلِ بِأُمَّتِهِ وَلَا يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ الرُّسُلُ وَكَلَامُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ. وَفِي جهنمَ كلاليب مثلُ شوك السعدان وَلَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ يُوبَقُ بِعَمَلِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يُخَرْدَلُ ثُمَّ يَنْجُو حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ عِبَادِهِ وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ النَّارِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَهُ مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَمر الْمَلَائِكَة أَن يخرجُوا من يَعْبُدُ اللَّهَ فَيُخْرِجُونَهُمْ وَيَعْرِفُونَهُمْ بِآثَارِ السُّجُودِ وَحَرَّمَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ فَكُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُهُ النَّارُ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ فَيَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ قَدِ امْتَحَشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ وَيَبْقَى رَجُلٌ بَيْنَ الجنَّةِ والنارِ وَهُوَ آخرُ أهلِ النارِ دُخولاً الْجَنَّةَ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ قِبَلَ النَّارِ فَيَقُولُ: يَا رب اصرف وَجْهي عَن النَّار فَإِنَّهُ قد قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا. فَيَقُولُ: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَفْعَلْ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَ ذَلِكَ؟ فَيَقُول: وَلَا وعزَّتكَ فيُعطي اللَّهَ مَا شاءَ اللَّهُ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النارِ فإِذا أقبلَ بِهِ على الجنةِ وَرَأى بَهْجَتَهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ ثُمَّ قَالَ: يَا رَبِّ قَدِّمْنِي عِنْدَ بَابِ الجنةِ فَيَقُول الله تبَارك وَتَعَالَى: الْيَسْ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنْتَ سَأَلْتَ. فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَا أَكُونُ أَشْقَى خَلْقِكَ. فَيَقُولُ: فَمَا عَسَيْتَ إِنْ أُعْطِيتُ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ. فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَ ذَلِكَ فَيُعْطِي رَبَّهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ فَيُقَدِّمُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا بَلَغَ بَابَهَا فَرَأَى زَهْرَتَهَا وَمَا فِيهَا مِنَ النَّضْرَةِ وَالسُّرُورِ فَسَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي أُعْطِيتَ. فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ مِنْهُ فَإِذَا ضَحِكَ أَذِنَ لَهُ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ. فَيَقُولُ: تَمَنَّ فَيَتَمَنَّى حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ أُمْنِيَّتُهُ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: تَمَنَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا أَقْبَلَ يُذَكِّرُهُ رَبُّهُ حَتَّى إِذَا انْتَهَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ: لَكَ ذَلِكَ ومثلُه معَه "وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ: " قَالَ اللَّهُ: لَكَ ذلكَ وعشرةُ أمثالِه ".

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ لوگوں نے عرض کیا یارسول الله  کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے پھر حضرت ابو سعید کی حدیث کے معنی بیان کیے ۱؎ سوا پنڈلی کھلنے کے اور فرمایا کہ دوزخ کے دونوں کناروں کے درمیان پلصراط قائم کیاجاوے گا ۲؎ تو جو پیغمبر اپنی امت کو لےکرگزریں گے ان میں پہلا میں ہوں گا ۳؎  اور اس دن سواء رسولوں کے اور کوئی کلام نہ کرے گا اور رسولوں کا کلام اس دن ہوگا الٰہی سلامت رکھ سلامت رکھ اور دوزخ میں خم دار کانٹے ہوں گے۴؎ سعد ان کے کانٹوں کی طرح ۵؎ جن کی بڑائی الله کے سواء کوئی نہیں جانتا وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اچک لیں گے ۶؎  ان میں سے بعض وہ ہوں گے جو اپنی بدعملی کی وجہ سے ہلاک کیے جائیں گے اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو زخمی ہو کر نجات پاجائیں گے ۷؎ حتی کہ جب الله تعالٰی اپنے بندوں کے فیصلے سے فارغ ہوجاوے گا ۸؎  اور جن کو آگ سے نکالنے کا ارادہ ہوچکا ہے انہیں نکالا جائے گا ان لوگوں میں سے جنہوں نے لا الہ الا الله کی گواہی دی ہے تو فرشتوں کو حکم دے گا۹؎ کہ انہیں نکال لو جو الله کی عبادت کرتے تھے وہ انہیں نکال لیں گے اور انہیں سجدہ کے نشانوں سے پہچانیں گے اور الله تعالٰی آگ پر یہ ناممکن کردے گا کہ سجدہ کے نشان کو جلائے۱۰؎  چنانچہ انسان کے سارے جسم کو آگ کھاجائے گی سواءسجدہ کے اثر کے تو وہ آگ سے نکلیں گے کہ جل کر کوئلے ہوچکے ہوں گے ۱۱؎ پھر ان پر زندگی کا پانی بہایا جاوے گا تو وہ ایسے اُگیں گے جیسے دانہ سیلاب کے اوپری کوڑے میں اُگتا ہے اور ایک شخص جنت و دوزخ کے درمیان باقی رہے گا۱۲؎  اور وہ تمام دوزخیوں میں سب سے آخری جنت میں داخل ہونے والا ہوگا۱۳؎  اپنا منہ آگ کی طرف کیے ہوگا۱۴؎ عرض کرے گا یارب میرا منہ آگ سے پھیر دے مجھے اس کی لُو نے جھلس دیا اور اس کی تیزی نے مجھے جلادیا ۱۵؎  تو رب فرمائے گا کیا ممکن ہے کہ اگر میں یہ کردوں تو اس کے علاوہ اور مانگے ۱۶؎  وہ کہے گا نہیں قسم تیری عزت کی تو الله تعالٰی کو عہدوپیمان دے جو الله چاہے چنانچہ الله تعالٰی اس کا منہ آگ سے پھیر دے گا ۱۷؎ پھر جب اس کو جنت کے سامنے کرے گا اور یہ اس کی ترو تازگی دیکھے گا ۱۸؎  تو جب تک رب اس کی خاموشی چاہے یہ خاموش رہے گا ۱۹؎  پھر کہے گا یارب مجھے جنت کے دروازے کے پاس پہنچادے۲۰؎  رب تعالٰی فرمائے گا کہ کیا واقعہ یہ نہیں ہے کہ تو عہدوپیمان دے چکا ہے کہ پہلی مانگی چیز کے سوا اور کچھ نہ مانگے گا وہ عرض کرے گا یا رب میں تیری مخلوق میں بڑا بدنصیب نہ رہوں ۲۱؎  تو رب فرمائے گا کہ کیا ممکن ہے کہ تجھے یہ دیدیا جاوے تو تو اس کے سوا کچھ اور مانگے،کہے گا تیری عزت کی اس کے سواء میں اور کچھ نہ مانگوں گا۲۲؎  چنانچہ وہ اپنے رب کو عہدوپیمان دے گا جو رب چاہے اسے الله تعالٰی جنت کے دروازے تک بڑھائے گا پھر جب وہ اس کے دروازے تک بڑھادے گا پھر جب وہ اس کے دروازے پر پہنچے گا وہاں کی تروتازگی اور جو کچھ وہاں بہار اور خوشی دیکھے گا۲۳؎ تو جب تک اس کا خاموش رہنا الله چاہے وہ خاموش رہے گا پھر عرض کرے گا یا رب مجھے جنت میں داخل فرمادے۲۴؎  تو الله تعالٰی فرمادے گا افسوس تجھ پر اے ابن آدم تو کتنا عہد شکن ہے ۲۵؎  کیا تو نے عہدوپیمان نہیں دیا تھا کہ تو اس کے سوا نہ مانگے گا جو تجھے دے دیا گیا ۲۶؎  تو عرض کرے گا یارب مجھے اپنی خلقت میں بدنصیب نہ بنا ۲۷؎  تو وہ دعا کرتا رہے گا حتی کہ اس سے الله تعالٰی خوش ہوجاؤے گا۲۸؎ تو جب خوش ہو جاوے گا تو اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے دے گا پھر فرمائے گا تمنا کر وہ تمنا کرے گا حتی کہ جب اس کی تمنائیں ختم ہوجائیں گی تو رب فرمائے گا فلاں فلاں تمنا کر خود رب تعالٰی اسے یاد دلانے لگے گا ۲۹؎ حتی کہ جب اس کی آرزوئیں ختم ہوجائیں گی تو الله تعالٰی فرمائے گا کہ تیرے لیے یہ ہے اور اس کی مثل۳۰؎ اور حضرت ابو سعید کی روایت میں ہے کہ الله تعالٰی فرمائے گا تیرے لیے یہ ہے اور اس سے دس گناہ اور ۳۱؎ (مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن