30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۹؎ یعنی جب ہم دنیا میں کفار سے الگ رہے تو اب بھی ان سے الگ ہی رہیں گے وہاں تو ہم کو ان کے ساتھ رہنے کی ضرورت بھی تھی یہاں تو ہم ان سے بے نیاز ہیں ان کے ساتھ ہم کیوں جائیں۔
۱۰؎ یہاں آنے سے مراد تجلی فرمانا اپنا جمال دکھانا ہے۔ خیال رہے کہ مسلمان قبر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور قیامت میں رب تعالٰی کو تعلق ایمان سے پہچانیں گے اگرچہ اس سے پہلے انہوں نے کبھی دیدار نہ کیا تھا وہاں پہچان رشتہ ایمان سے ہوگی۔
۱۱؎ وہ علامت و نشانی محبت الٰہی ہے جو ایمان و عرفان کا نتیجہ ہے اس ذریعہ سے ہم رب تعالٰی کو پہچان لیں گے۔
۱۲؎ پنڈلی کھولنے کی بہت توجیہیں کی گئی ہیں مگر صحیح تر یہ ہے کہ یہ متشابہات میں سے ہے رب تعالٰی پنڈلی وغیرہ سے پاک ہے۔بعض نے فرمایا کہ اس سے ان لوگوں کی پنڈلی مراد ہے یعنی ان پر ایسی تکلیف نازل ہوگی کہ ان کی پنڈلی کھل جائے گی،بعض نے فرمایا کہ اس سے رب تعالٰی کی پنڈلی مرا دہے جو اس کے شان کے لائق ہے،بعض نے فرمایا کہ اس سے رب تعالٰی کی تجلی صفات مراد ہے۔ الله اعلم بمراد حبیبہ صلی الله علیہ و سلم۔
۱۳؎ سبحان الله! مزے دار سجدہ یہ ہوگا اب تک بغیر دیکھے سجدے کیے تھے آج مسجودلہ کی تجلی دیکھ کر سجدے کریں گے۔
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبیں نیاز میں
۱۴؎ یعنی ان ریاکار منافقوں کی پیٹھ اکڑ جاوے گی ٹیڑھی نہ ہوسکے گی اور سجدہ میں پیٹھ خم ہونا ضروری ہے اس لیے بجائے سجدہ کے اوندھے گریں گے۔
۱۵؎ یہ سجدہ مخلصین و منافقین میں چھانٹ ہوگا جو درست سجدہ کرلے گا وہ مخلص مؤمن ہے،جو نہ کرسکے گا وہ منافق۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ دیدار الٰہی منافقین کو بھی ہوگا۔(مرقات)مگر مؤمنوں کو محبت والا دیدار ہوگا منافقوں کو ہیبت بلکہ وحشت والا۔
۱۶؎ اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ پل صراط آج قائم نہیں ہے قیامت میں اس وقت قائم کیا جائے گا،اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو دوزخی اس سے پہلے دوزخ میں پہنچائے گئے وہ پل صراط سے نہ گزارے گئے کہ پل تو ان کے دوزخ میں پہنچنے کے بعد قائم کیا گیا۔
۱۷؎ اس شفاعت سے مراد ہے دوزخ سے گزارنے کی شفاعت ورنہ بہت سی شفاعتیں اس سے پہلے ہوچکیں،اب جب کہ دوزخ پر سے گزرنے کا وقت آیا تو الله کے مقبول بندے شفاعت میں مشغول ہوگئے،اسی شفاعت سے ہم گنہگار ان شاءاﷲ بخیریت گزریں گے۔
۱۸؎ جب تک سارے مؤمنین بخیریت گزر نہ جائیں گے تب تک انبیاءکرام سلم سلم کہتے رہیں گے صرف دوبار ہی نہ کہیں گے۔اعلٰی حضرت نے کیا خوب فرمایا شعر
پل سے گزارو راہ گزر کو خبر نہ ہو جبریل پر بچھائیں تو پر کو خبر نہ ہو
۱۹؎ یعنی مؤمن اپنے اعمال و تقویٰ و اخلاص کے مطابق پل سے گزریں گے۔رکاب جمع ہے مگر اس کا واحد کوئی نہیں۔ (مرقاۃ)جیسے نساء کا واحد کوئی نہیں اور امراۃ کی جمع کوئی نہیں یعنی پل سے پار لگنے والوں کی رفتاریں مختلف ہوں گی بعض رفتار ایسی تیز جیسے نگاہ کی رفتار،بعض کے ہوا کی سی رفتار،آ ج ایسے ہوائی جہاز تیار ہوچکے ہیں جن کی رفتار آواز سےزیادہ ہے لہذا ان رفتاروں پر حیرت نہیں کرنی چاہیے۔
۲۰؎ پلصراط کے کنارے پر دو طرفہ جگہ جگہ ٹیڑھے کانٹے یعنی کنڈے لٹکے ہوئے ہیں جو بار بار اوپر آتے اور گزرنے والوں کو لگتے ہوں گے،بعض لوگوں کو یہ کنڈے لگیں گے زخمی کرکے چھوڑ دیں گے،بعض لوگوں کے جسم میں داخل ہو کر انہیں نیچے کی طرف کھینچیں گے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع