30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5578 -[13] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أُنَاسًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ؟» قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: " مَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ لِيَتَّبِعْ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يعبد غيرالله مِنَ الْأَصْنَامِ وَالْأَنْصَابِ إِلَّا يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ أَتَاهُمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ: فَمَاذَا تَنْظُرُونَ؟ يَتْبَعُ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَت تعبد. قَالُوا: ياربنا فَارَقْنَا النَّاسَ فِي الدُّنْيَا أَفْقَرَ مَا كُنَّا إِلَيْهِم وَلم نصاحبهم " 5579 -[14] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةِ أَبِي هُرَيْرَةَ " فَيَقُولُونَ: هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ "وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ: " فَيَقُولُ هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ تَعْرِفُونَهُ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ فَلَا يَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ لِلَّهِ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِهِ إِلَّا أَذِنَ اللَّهُ لَهُ بِالسُّجُودِ وَلَا يَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ اتِّقَاءً وَرِيَاءً إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ ظَهْرَهُ طَبَقَةً وَاحِدَةً كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ خَرَّ عَلَى قَفَاهُ ثُمَّ يُضْرَبُ الْجِسْرُ عَلَى جَهَنَّمَ وَتَحِلُّ الشَّفَاعَةُ وَيَقُولُونَ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ فَيَمُرُّ الْمُؤْمِنُونَ كَطَرَفِ الْعَيْنِ وَكَالْبَرْقِ وَكَالرِّيحِ وَكَالطَّيْرِ وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَخْدُوشٌ مُرْسَلٌ وَمَكْدُوسٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ حَتَّى إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ أحد مِنْكُم بأشدَّ مُناشدةً فِي الْحق - قد تبين لَكُمْ - مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِلَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ فِي النَّارِ يَقُولُونَ رَبَّنَا كَانُوا يَصُومُونَ مَعَنَا وَيُصَلُّونَ وَيَحُجُّونَ فَيُقَالُ لَهُمْ: أَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ فَتُحَرَّمُ صُوَرَهُمْ عَلَى النَّارِ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا مَا بَقِيَ فِيهَا أَحَدٌ مِمَّنْ أَمَرْتَنَا بِهِ. فَيَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وجدْتُم فِي قلبه مِثْقَال دنيار مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا خَيِّرًا فَيَقُولُ اللَّهُ شُفِّعَتِ الْمَلَائِكَةُ وَشُفِّعَ النَّبِيُّونَ وَشُفِّعَ الْمُؤْمِنُونَ وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ فَيُخْرِجُ مِنْهَا قَوْمًا لَمْ يَعْمَلُوا خَيْرًا قَطُّ قَدْ عَادُوا حُمَمًا فَيُلْقِيهِمْ فِي نَهْرٍ فِي أَفْوَاهِ الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ: نَهْرُ الْحَيَاةِ فَيَخْرُجُونَ كَمَا تَخْرُجُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ فَيَخْرُجُونَ كَاللُّؤْلُؤِ فِي رِقَابِهِمُ الْخَوَاتِمُ فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ: هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ الرَّحْمَن أدخلهم الْجنَّة بِغَيْر عمل وَلَا خَيْرٍ قَدَّمُوهُ فَيُقَالُ لَهُمْ لَكُمْ مَا رَأَيْتُمْ وَمثله مَعَه ". |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا یارسول الله کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا ہاں ۱؎ کیا تم صاف دوپہری میں جب سورج کے ساتھ بادل نہ ہو سورج کے دیکھنے میں شک کرتے ہو۲؎ اور کیا تم چودھویں صاف رات میں جب کہ چاند کے ساتھ بادل نہ ہو چاند دیکھنے میں شک کرتے ہو عرض کیا یارسول الله نہیں۳؎ فرمایا تم قیامت کے دن الله کے دیدار میں شک نہیں کرو گے مگر ایسا جیسے ان دونوں میں سے ایک کے دیکھنے میں شک کرتے ہو۴؎ جب قیامت کے دن ہوگا تو اعلانچی اعلان کرے گا کہ ہر گروہ اس کے پیچھے جائے جس کی وہ پرستش کرتا تھا ۵؎ تو جو بھی الله کےسوا بتوں اور پتھروں کی عبادت کرتے تھے اسمیں کوئی نہ بچے گا مگر دوزخ میں گرجائیں گے ۶؎ حتی کہ جب ان نیک بندوں کے سواء جو الله کی عبادت کرتے تھے کوئی نہ بچے گا تو انکے پاس رب العالمین آئے گا ۷؎ فرمائے گا تم کیا انتظارکررہے ہو ہر امت اپنے معبود کے ساتھ جارہی ہے ۸؎ پھر عرض کریں گے یارب ہم نے دنیا میں ان لوگوں کوچھوڑ ے رکھا جب کہ ہم ان کے بہت حاجت مند تھے اور ہم انکے ساتھ نہ رہے ۹؎ اور جناب ابوہریرہ کی روایت میں ہے کہ کہیں گے یہ ہی ہماری جگہ ہے حتی کہ ہمارے پاس ہمارا رب آوے پھر جب ہمارا رب جلوہ گر ہوگا ہم اسے پہچان لیں گے۱۰؎ اور جناب ابو سعید کی روایت میں ہے کہ رب فرمائے گا کہ کیا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی نشانی کہ تم اسے پہچان لو گے وہ کہیں گے ۱۱؎ ہاں تو رب پنڈلی کھولے گا ۱۲؎ تو ان میں سے جو دل کے اخلاص سے رب کو سجدہ کرتے تھے کوئی نہ رہے گا مگر الله اسے سجدہ کی اجازت دے گا۱۳؎ اور جو لوگ اپنے بچاؤ اور دکھلاوے کے لیے سجدہ کرتے تھے ان میں سے کوئی نہ بچے گا مگر الله اس کی پیٹھ ایک تختہ بنادے گا۱۴؎ وہ جب بھی سجدہ کا ارادہ کرے گا اپنی پیٹھ پر گر جاوے گا ۱۵؎ پھر دوزخ پر پل رکھا جاوے گا۱۶؎ اور شفاعت واقع ہوگی۱۷؎ اور کہیں گے الٰہی سلامت رکھ سلامت رکھ ۱۸؎ تو مسلمان پلک جھپکنے کی طرح اور بجلی کی طرح اور ہوا کی طرح پرندے کی طرح اور تیز گھوڑے کی طرح اونٹ کی طرح ۱۹؎ گزریں گے،بعض تو نجات پائیں گے سلامت رہیں گے،بعض زخمی ہو کر چھوڑ دیئے جائیں گے ۲۰؎ بعض دوزخ کی آگ میں گرا دیئے جائیں گے۲۱؎ حتی کہ جب مسلمان آگ سے خلاصی پالیں گے تو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے نہیں ہے تم میں سے کوئی زیادہ جھگڑنے والا اپنے اس حق میں جو تمہیں ظاہر ہوجاوے بمقابلہ مسلمانوں کے جو وہ الله سے جھگڑیں گے قیامت کے دن اپنے دوزخی بھائیوں کے لیے۲۲؎ عرض کریں گے یارب وہ لوگ ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے نمازیں پڑھتے تھے اور حج کرتے تھے۲۳؎ تو ان سے کہا جاوے گاکہ جنہیں تم پہچانتے ہو نکال لو ان کی صورتیں آگ پر حرام کردی جائیں گی۲۴؎ یہ لوگ بڑی خلقت کو نکال لائیں گے پھرکہیں گی یارب جن کے متعلق تو نے ہم کو حکم دیا تھا ان میں سے تو کوئی باقی نہ رہا ۲۵؎ رب فرمائے گا واپس جاؤ جس کے دل میں دینار برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو تو وہ بڑی خلقت کو نکال لائیں گے پھر فرمائے گا لوٹ جاؤ جس کے دل میں زرہ برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو وہ بڑی خلقت کو نکال لائیں گے پھر فرمائے گا واپس جاؤ جس کے دل میں آدچھی دینار برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو۲۶؎ چنانچہ وہ بہت ہی خلقت کو نکال لائیں گے پھر فرمائے گالوٹ جاؤ جس کے دل میں ذرہ برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو وہ بڑی خلقت کو نکال لائیں گے ۲۷؎ پھر عرض کریں گے یارب ہم نے دوزخ میں کسی بھلائی والے کو نہ چھوڑا ۲۸؎ تب الله تعالٰی فرمائے گا کہ فرشتوں نے شفاعت کرلی رسولوں نے شفاعت فرمالی مؤمنوں نے شفاعت کرلی ۲۹؎ اب سواء ارحم الراحمین کے اور کوئی باقی نہ رہا۳۰؎ تب آگ میں سے ایک مٹھی بھرے گا تو ان لوگوں کو وہاں سے نکال دے گا جنہوں نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی ۳۱؎ جو کوئلے ہوچکے ہوں گے ۳۲؎ انہیں اس نہر میں ڈالے گا جو جنت کے دہانوں میں ہے جسے زندگی کی نہر کہا جاتا ہے تو وہ یوں اگیں گے جیسے دانہ سیلاب کے اوپر کے کوڑا میں اگتا ہے۳۳؎ پھر وہ نکلیں گے موتی کی طرح ان کی گردنوں میں مہریں ہوں گی۳۴؎ انہیں لوگ کہیں کے کہ یہ الله کے آزاد کردہ ہیں جنہیں رب نے بغیر عمل کیے ہوئے بغیر بھلائی آگے بھیجے ہوئے جنت میں داخل فرمادیا۳۵؎ تو ان سے کہا جاوے گا کہ تمہارے لیے وہ ہے جو تم نے دیکھا اور اس کی مثل ۳۶؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ خیال رہے کہ قیامت میں حساب کے وقت سارے بندے رب کو دیکھیں گے مؤمن ہویا کافر مگر مؤمن بہ شان رحمت دیکھیں گے اور کافر بہ شان غضب جیساکہ پچھلی حدیث میں گزرچکا۔پھر اس کے بعد جنتی تو رب تعالٰی کو دیکھا کریں گے کوئی تو جب چاہیں اور کوئی روز ایک بار،کوئی ہفتہ میں ایک بار،کوئی مہینہ میں،کوئی سال میں ایک بار،کوئی اس سے زیادہ عرصہ میں مگر دوزخی لوگ دیدار سے محروم رہیں گے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّہُمْ عَنۡ رَّبِّہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوۡبُوۡنَ"جنتیوں کے بارے میں فرماتاہے:"اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ"۔ غالبًا یہاں سوال قیامت کے دن کے دیدار کے متعلق ہے جنتی عورتوں،فرشتوں،مغفور جنات کے متعلق اختلاف ہے۔بعض کہتے ہیں انہیں بھی دیدار ہوگا بعض کہتے ہیں نہیں ہوگا۔(مرقات)
۲؎ تضارون باب مفاعلہ کا مضارع معروف ہے،ضار یضار مضارۃ کے معنی ہیں اژدھام اور بھیڑ میں پھنس جانا،پھر شک کے معنی میں استعمال ہونے لگا کیونکہ بھیڑ میں کوئی چیز صحیح نہیں دیکھی جاتی۔صحو کی معنی ہیں صاف جب کہ آسمان پر بادل نہ ہو تو اسے صحو کہتے ہیں۔
۳؎ سبحان الله! کیسی پیاری تشبیہ ہے جس میں یقینی دیدار کی مثال دے کر سمجھایا گیا۔خیال رہے کہ قمر عام ہے اور ہلال،بدر، محق خاص ہے۔
۴؎ مطلب یہ ہے کہ ان دونوں کے دیکھنے میں تو شک ہوتا نہیں تو یقینًا رب تعالٰی کے دیدار میں بھی شک نہیں ہوگا۔
۵؎ خیال رہے کہ قیامت میں رب کا دیدار دوبار ہوگا پہلی بار تو حساب کے وقت جیساکہ پہلے گزرچکا دوسری بار حساب سے فارغ ہوکر،یہ دوسرا دیدار صرف مسلمانوں کو ہی ہوگا کفار کو نہ ہوگا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے لہذا یہ حدیث پچھلی احادیث کے خلاف نہیں۔اس موقعہ پر بت پرستوں کے تمام بت حتی کہ سورج،چاند بھی وہاں موجود ہوں گے۔خیال رہے کہ حضرت عیسیٰ و مریم کو عیسائیوں نے اور حضرت عزیر کو یہود نے نہیں پوجا بلکہ ان کے فوٹوؤں کو اور صلیب کو پوجا تھا وہ لوگ ان تصویروں اور صلیب کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ پھر تو چاہیے کہ یہ حضرات بھی دوزخ میں جائیں انہیں یہود یا عیسائیوں نے پوجا تھا۔
۶؎ بتوں میں سورج چاند بھی داخل ہیں کہ ان کی پرستش بھی ہوتی تھی۔خیال رہے کہ یہ چیزیں دوزخ میں جائیں گی مگر سزا پانے کے لیے نہیں بلکہ دوزخیوں کو سزا دینے کے لیے حتی کہ سورج کی گرمی آگ کی گرمی سے مل کر ان لوگوں کی تکلیف کو اور بھی زیادہ کردے گی لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ان پتھروں بتوں کو بلا قصور دوزخ میں کیوں ڈالا گیا اسی طرح دوزخ میں مقرر شدہ فرشتے عذاب دیں گے عذاب پائیں گے نہیں۔
۷؎ رب تعالٰی کے آنے سے مراد ہے اس کا حکم آنا یا یہ متشابہات میں سے ہے،اس ظاہری آنے جانے سے رب پاک ہے۔
۸؎ یعنی تم لوگ بھی ان سے کسی کے ساتھ کیوں نہیں جاتے،رب تعالٰی کا یہ سوال اس کی بے علمی کی بنا پر نہیں بلکہ اس جواب کے لیے ہے جو وہ دے رہے ہیں۔خیال رہے کہ مشرکین تو اپنے معبودوں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے مؤمن اپنے نبیوں کے ساتھ اور یہ امت اپنے حضور محمد مصطفی صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ جنت میں جاوے گی۔رہے توحیدی کفاریا دھریے کفار جو بت پرستی نہیں کرتے تھے انہیں فرشتے ہانک کر دوزخ میں ڈالیں گے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ دھریے اور توحیدئیے کفار کس کے ساتھ جائیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع