30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5577 -[12] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى فِي إِبْرَاهِيمَ: [رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مني] وَقَالَ عِيسَى: [إِن تُعَذبهُمْ فَإِنَّهُم عِبَادك] فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ «اللَّهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي» . وَبَكَى فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: «يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ فَسَلْهُ مَا يُبْكِيهِ؟» . فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَ فَقَالَ اللَّهُ لِجِبْرِيلَ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقُلْ: إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أمَّتك وَلَا نسوؤك ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو ابن عاص سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے رب تعالٰی کا یہ کلام تلاوت کیا جو حضرت ابراہیم کے متعلق ہے ۱؎ یارب ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا تو جس نے میری پیروی کی وہ تو میرا ہوگیا۲؎ اور جناب عیسیٰ کہیں گے اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں۳؎ تو حضور نے اپنے ہاتھ اٹھائے عرض کیا الٰہی میری امت اور روئے۴؎ تو الله تعالٰی نے فرمایا اے جبریل جناب محمد کے پاس جاؤ تمہارا رب خوب جانتا ہے مگر ان سے پوچھو انہیں کیا چیز رُلا رہی ہے ۵؎ تو حضور کے پاس حضرت جبریل آئے حضور سے پوچھا انہیں رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اپنی عرض و معروض کی خبر دی ۶؎ تو الله تعالٰی نے حضرت جبریل سے فرمایا تم جناب محمد کے پاس جاؤ کہو کہ ہم تم کو تمہاری امت کے معاملہ میں راضی کرلیں گے تمہیں غمگین نہ کریں گے ۷؎ (مسلم) |
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ حضور انور نے نماز کے باہر یہ آیت کریمہ سورۂ ابراہیم کی تلاوت فرمائی جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲؎ اس آیت کریمہ میں الله تعالٰی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ عرض معروض بیان فرمارہا ہےجو آپ قیامت میں بطور شفاعت عرض کریں گے کہ خدایا جن لوگوں نے میری اطاعت کی وہ تو میرے ہوچکے تو انہیں میرے طفیل بخش دے اور جنہوں نے میری نافرمانی کی تومولٰی تو گنہگاروں کا بخشنے والا ہے۔غرضکہ شکایت ان کی بھی نہیں کی انہیں بھی بددعا نہ دی یہ ہے شان جمالی۔
۳؎ اس پوری آیت میں عیسیٰ علیہ السلام کی شفاعت کا ذکر ہے وہ بھی جمال الٰہی کا مظہر ہیں۔آپ کی عرض بھی یہ ہے کہ میرے مولٰی اگر تو ان گنہگاروں کو عذاب دے تو تو ان کا رب ہے وہ تیرے بندے،کون تجھے عذاب سے روک سکتا ہے اور تو انہیں معافی دے دے تو تو عزیز ہے حکیم ہے،تیرے ہر کام میں حکمت ہے،تو سب پر غالب ہے جسے جو چاہے دے دے تجھ سے کوئی پوچھ نہیں سکتا۔
۴؎ یعنی ان دو محبوب نبیوں کی شفاعت کا ذکر پڑھا تو شفیع المذنبین کا دریائے رحمت جوش میں آگیا اپنی گنہگار امت یاد آگئی اور اس وقت شفاعت فرمائی۔معلوم ہوا کہ قرآن مجید میں جیسی آیت تلاوت کرے اسی طرح کی دعا مانگے یہ سنت رسول الله صلی الله علیہ و سلم ہے۔دعا کے وقت روناعلامت قبولیت ہے پھر حضور انور کا رونا حضور کے آنسو سبحان الله! حضور کا رونا ہماری ہنسی و خوشی کا ذریعہ ہے بادل روتا ہے تو چمن ہنستا ہے۔شعر
تانہ گریہ ابر کے خند و چمن تابہ گرید طفل کے جوشد لبن
۵؎ سبحان الله! کس ناز کا سوال ہے خود جانتا ہے مگر پوچھتا ہے تاکہ محبوب صراحۃً زبان پاک سے شفاعت کریں اورامت گنہگار کی مشکلیں حل ہوں دریا ئے بخشش الٰہی جوش میں آئے۔
۶؎ کہ امت کی فکر ان کا غم میرے رونے کا سبب ہے۔خیال رہے کہ رونا بہت قسم کا ہے ان تمام قسموں میں افضل حضور کا شفاعت امت کے لیے رونا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع