30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5575 -[10] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً ثُمَّ قَالَ: «أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَوْمَ يَقُومَ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالمين وتدنو الشَّمْس فَيبلغ مِنَ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ فَيَقُولُ النَّاس أَلا تنْظرُون من يشفع لكم إِلَى ربكُم؟ فَيَأْتُونَ آدَمَ» . وَذَكَرَ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ وَقَالَ: «فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى أَحَدٍ قَبْلِي ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أُمَّتِي يارب أمتِي يارب فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْبَابِ الْأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْأَبْوَابِ» . ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرَ» . |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم کے پاس گوشت لایا گیا تو آپ کی خدمت میں دستی پیش کی گئی حضور کو دستی پسندتھی ۱؎ تو آپ نے اس میں سے نوچ کر کھایا ۲؎ پھر فرمایا میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں۳؎ جس دن لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۴؎ اور سورج قریب ہوگا لوگوں کو اس قدر غم و تکلیف پہنچے گی جس کی وہ طاقت نہ رکھیں گے ۵؎ پھر لوگ کہیں گے تم کسی ایسے شخص کو کیوں نہیں دیکھتے جو تمہارے رب کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کرے ۶؎ چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کےپاس آئیں گے اور شفاعت کی حدیث ذکر فرمائی اور فرمایا کہ پھر میں چلوں گا تو عرش کے نیچے پہنچوں گا پھر اپنے رب کے حضور سجدہ میں گروں گا ۷؎ پھر الله مجھ پر اپنی وہ حمد وہ اچھی ثنائیں کھولے گا جو مجھ سے پہلےکسی پر نہ کھولی تھیں ۸؎ پھر فرمائے گا اے محمد اپنا سر اٹھاؤ مانگو دیئے جاؤ گے،شفاعت کرو قبول کی جاوے گی ۹؎ تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا عرض کروں گا یارب میری امت میری امت تو کہا جاوے گا ۱۰؎ اے محمد اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جن پر حساب نہیں ۱۱؎ جنت کے دروازوں میں سے داہنے دروازے سے داخل کرو یہ لوگ دروازوں میں لوگوں کے ساتھ برابر کے حق دار ہیں۱۲؎ پھر فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جنت کے دروازوں میں سے ایک کی دو چوکھٹوں کے درمیان۱۳؎ اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ معظمہ اور ہجر کے درمیان ہے۱۴؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ دستی کا گوشت بے ریشہ ہوتا ہے اور نرم بھی مزے دار بھی،جلد گل جاتا ہے،سارے جانور میں یہ ہی گوشت بہت اچھا ہوتا ہے۔
۲؎ نھس خالی سین سے اگلے دانتوں سے نوچنا اور نہش نقطہ والے شین سے داڑھوں سے گوشت نوچنا یعنی ہڈی سے بوٹی چھوڑانا دونوں لفظ روایات میں وارد ہیں۔
۳؎ اس ناس میں سارے انسان داخل ہیں حضرات انبیاء کرام اور ان کی ساری امتیں،اگرچہ حضور ہمیشہ سے ہی ساری مخلوق کے سردار ہیں مگر اس سرداری کا ظہور قیامت کے دن ہوگا کہ سارے لوگ آپ سے شفاعت کی درخواست کریں گے اور سب حضور کا منہ تکیں گے کوئی آپ کی سرداری کے انکار کرنے کی ہمت نہ کرسکے گا کفار بھی اس کا اقرار کریں گے اور نادم ہوں گے اس لیے یوم القیامۃ کا ذکر فرمایا۔
۴؎ یہ یوم القیامۃ کا بیان ہے،چونکہ یہ حاضری بارگاہ قیامت کا مقصود ہے اس لیے اس کا ذکر پہلے فرمایا ورنہ قیامت میں اور بھی کام ہوں گے جیسے کہ آگے سے معلوم ہورہا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع