30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5198 -[44] عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «إِنَّكَ لَسْتَ بِخَيْرٍ مِنْ أَحْمَرَ وَلَا أَسْوَدَ إِلَّا أَنْ تفضلَه بتقوى» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے ابو ذر رضی الله عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم کسی سرخ یا کالے سے بہتر نہیں ۱؎ مگر یہ کہ تم اس سے تقویٰ میں بڑھ جاؤ۲؎ (احمد) |
۱؎ سرخ سے مراد عربی ہے، کالے سے مراد عجمی یا سرخ مولٰی ہے،کالا غلام یا سرخ رومی ہے،کالا حبشی یا امیر سرخ،غریب کالایعنی تم ملک مال وغیرہ کی وجہ سے دوسروں پر افضل نہیں ہوسکتے افضلیت کسی اور ہی چیز سے ہے۔
۲؎ سیاہ فام مؤمن ہزارہا سرخ سفید کافروں سے افضل ہے۔سیاہ فام متقی ہزار ہا سرخ سفید بدکاروں سے افضل ہے۔شعر
ہزار خویش کہ بیگانہ از خدا باشد فدائے یک تن بیگانہ کاشنا باشد
رام نام کشٹے بھلے کہ ٹب ٹب ٹبکے جام وادروں کنجن ویھہ کو کہ جس مکھ ناہین رام
یہ کہا جاچکا ہے کہ تقویٰ کے چار درجے ہیں:تقویٰ عامہ یعنی ایمان،تقویٰ خاصہ حرام چیزوں سے بچنا،تقویٰ خاص الخاص مشکوک چیزوں سے بچنا، تقویٰ خاص الخواص غفلت سے بچنا۔ ہر تقویٰ کو اس پر بزرگی ہے جو اس سے خالی ہو لہذا کافر سے مؤمن افضل، فاسق سے متقی افضل، غافل سے بیدار افضل یہ فرمان عالی بہت ہی وسیع ہے۔
|
5199 -[45] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا زَهِدَ عَبْدُ فِي الدُّنْيَا إِلَّا أَنْبَتَ اللَّهُ الْحِكْمَةَ فِي قَلْبِهِ وَأَنْطَقَ لِسَانَهُ وَبَصَّرَهُ عَيْبَ الدُّنْيَا وَدَاءَهَا وَدَوَاءَهَا وَأَخْرَجَهُ مِنْهَا سَالِمًا إِلَى دَارِ السَّلَامِ» رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان» |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ نہیں بے رغبتی کرتا کوئی بندہ دنیا میں ۱؎ مگر اﷲ تعالٰی اس کے دل میں حکمت اُگا دیتا ہے اور اس سے اس کی زبان میں گویائی دیتا ہے ۲؎ ا ور اسے دنیا کے عیب اس کی بیماریاں اور ان کا علاج دکھا دیتا ہے ۳؎ اور اسے دنیا سے جنت کی طرف سلامت نکالے گا ۴؎ (بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ یہاں سے زھد سے مراد دنیا میں دل نہ لگانا ہے اگرچہ لاکھوں کا مالک ہو مگر دل یار سے لگا ہو تو وہ زہد ہی ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ حاجت سے زیادہ مال سے بے رغبت ہونا زہد ہے مرقات نے اسی کو اختیار کیا۔
۲؎ یعنی ایسے شخص کو اﷲ تعالٰی چند نعمتیں عطا فرماتا ہے:ایک یہ کہ اس کے دل میں علم و معرفت کے چشمے پھوٹیں گے ،دوسرے یہ کہ اس کی زبان پر تاثیر ہوگی اس سے ہمیشہ حق بات نکلے گی اور اس میں تاثیر ہوگی۔
۳؎ یعنی قدرتی طور پر اسے دنیا کی چیزوں کے عیوب معلوم ہوا کریں گے اور ان عیوب سے بچنے کا طریقہ بھی وہ قدرتی طور پر معلوم کرلیا کرے گا،وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ اپنے دل سے فتویٰ لو یہ فرمان ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے۔
۴؎ یعنی ان شاءاﷲ اس کا خاتمہ ایمان پر ہوگا اور اسے داخلہ جنت کا نصیب ہوگا۔اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ جو دنیا میں راغب ہوگا اس کا حال اس کےبرعکس ہوگا،اس طرح کہ دوسرے اعضاء کو دنیا میں بھی صرف کیا مگر دل میں اﷲ رسول کے سوا کوئی چیز نہ رکھی۔مکان کے دو سرے کمرے سامان کے لیے ہوتے ہیں مگر مالک کا آرام کمرہ صرف مالک کی خلوت گاہ ہوتا ہےو ہاں کسی اور چیز کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ہمارا دل رب کا خاص جلوہ گاہ ہے،جنت ہمارا گھر ہے جہاں سے رب نے ہمارے دشمن شیطان کو نکال دیا ہمارے دل رب تعالٰی کا گھر ہیں،افسوس ہے کہ ہم اس میں شیطان کو بسائیں۔
|
5200 -[46] وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَخْلَصَ اللَّهُ قلبَه للإِيمان وجعلَ قلبَه سليما ولسانَه صَادِقا وَنَفْسَهُ مُطْمَئِنَّةً وَخَلِيقَتَهُ مُسْتَقِيمَةً وَجَعَلَ أُذُنَهُ مُسْتَمِعَةً وَعَيْنَهُ نَاظِرَةً فَأَمَّا الْأُذُنُ فَقَمِعٌ وَأَمَّا الْعَيْنُ فَمُقِرَّةٌ لِمَا يُوعَى الْقَلْبُ وَقَدْ أَفْلَحَ مَنْ جَعَلَ قَلْبَهُ وَاعِيًا» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان» |
روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کامیاب ہوگیا وہ جس نے اپنے دل کو ایمان کے لیے الله سے خالص کیا ہے اور اپنے دل کو سلامت رکھا ۱؎ اور اپنی زبان کو سچا،اپنے دل کو مطمئن۲؎ اور اپنی طبیعت کو سیدھا رکھا اور اپنے کان کو سننے والا اپنی آنکھ کو دیکھنے والا بنایا۳؎ لیکن کان تو وہ چین کی خبر ہے ۴؎ اور لیکن آنکھ تو وہ اس چیز کو قائم کرنے والی ہے جسے دل حفاظت کرتا ہے ۵؎ کامیاب ہوگیا وہ جس نے اپنے دل کو حفاظت کرنے والا بنایا۶؎(احمد،بیہقی شعب الایمان) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع