دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

۱؎ مؤمنین سے مراد آدم علیہ السلام روز قیامت سارے اہل ایمان ہیں،روکے جانے سے مراد میدان حشر میں کھڑا رہنا اور حساب کتاب کا انتظار کرنا ہے اس سے حضرات انبیاء علیحدہ ہیں۔

۲؎  طلب شفیع کا ولولہ مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہوگا مگر تلاش میں کفار ساتھ ہوں گے سارے انسان ڈھونڈھیں گے۔معلوم ہوا کہ الله کے بندوں کا وسیلہ پکڑنا یہ وہ کام ہے جس سے قیامت کے کاموں کی ابتداء ہوگی وہاں پہلے یہ ہی کام وسیلہ والا ہوگا بعد میں دوسرے کام۔

۳؎  معلوم ہوا کہ کسی سے کچھ مانگنا ہو تو پہلے اس کی تعریف کی جاوے بعد میں عرض و معروض اس لیے آج بھی پہلے ہم لوگ اﷲ کی حمد،حضور کی نعت و درود کے بعد دعا مانگتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے ان فضائل و کمالات کے ذریعہ ہماری شفاعت کریں۔

۴؎  یعنی تمہاری شفاعت کبریٰ فرمانا میرا منصب میرا درجہ نہیں یہ دروازہ کسی اور  ہی کے ہاتھ پر کھلنے والا ہے۔

۵؎  آپ کا یہ قول رب تعالٰی سے انتہائی ہیبت و خوف کی بنا پر ہے کہ آپ اپنی وہ خطا یاد کر کے رب کے حضور جانے سے جھجکتے ہیں کہ کبھی میری اس خطا کا تذکرہ نہ آجاوے تو میں شفاعت کیسے کروں گا ورنہ رب تعالٰی نے معافی دے کر انہیں زمین کا خلیفہ بنایا،ان کی معافی کا اعلان توریت و زبور و انجیل و قرآن میں کیا گیا۔خوف و خشیت اور چیز ہے،رب تعالٰی کے وعدوں پر بے اعتباری کچھ اور،لہذا اس حدیث سے مسئلہ امکان کذب پر دلیل نہیں پکڑی جاسکتی۔

۶؎  زمین سے مراد نوح علیہ السلام کی قوم کی زمین ہے جہاں وہ آباد تھی اور ساری کافر تھی سارے کفار کی طرف رسول پہلے آپ ہی ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام و شیث،ادریس،صالح علیہم السلام مؤمنین یا مؤمن و کافر مخلوط کی طرف بھیجے گئے،بعض شارحین نے فرمایا کہ آپ سے پہلے حضرات نبی تھے رسول و مرسل نہ تھے پہلے رسول آپ ہی ہیں۔

۷؎ یعنی میں نے اپنے کافر بیٹے کنعان کے متعلق رب تعالٰی سے عرض کیا تھا "اِنَّ ابۡنِیۡ مِنْ اَہۡلِیْ"وہ میرا اہل بیت ہے،اس پر رب نے فرمایاتھا:"اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنْ اَہۡلِکَ"الخ،اگر اس کا تذکرہ آگیا تو میں تمہاری شفاعت کیسے کروں گا۔خیال رہے کہ نوح علیہ السلام نے کعنان کی شفاعت نہیں کی تھی کیونکہ آپ کایہ عرض کرنا اس وقت تھا جب کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر چکی تھی،کنعان کو ڈوبے ہوئے عرصہ گزر چکا تھا جیساکہ قرآن کریم سے صراحۃً معلوم ہورہا ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ مولٰی میں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میرے اہل طوفان سے محفوظ رہیں گے اور کنعان ڈوب گیا میں لوگوں کو کیا جواب دوں مگر چونکہ اس کے جواب پر ظاہر عتاب تھا اس لیے آج انہیں یہ خوف ہے سوالی بغیر علم کا مطلب یہ ہے کہ تم کو علم ہے کہ تمہارا اہل  نہیں  ورنہ  سوال تو اس چیز کا ہوتا ہے جس کا علم نہ ہو۔

۸؎   ایک یہ کہ میں بیمار ہوں  دوسرے یہ   کہ یہ کام اس بڑے نے کیا،تیسرے یہ کہ سارہ میری بہن ہے۔خیال رہےکہ یہ تینوں کلام سچے ہیں مگر ظاہر کے خلاف اس لیے آپ نے رب کے سامنے پیش ہونے سے انکار فرمایا،ہماری مراد دل کی بیماری یعنی کفار سے بیزاری ہے اور کبیرھم کا مقصد یہ ہے کہ اس بڑے بت نے دوسرے بت توڑے ہوں گے یہ کلام بطور استہزاء ہے بت پرستوں کی حماقت ظاہر کرنے کو اور حضرت سارہ کو دینی بہن فرمایا نہ کہ نسبی بہن۔

۹؎  اس قتل سے مراد قبطی  کوگھونسہ مار کر ہلاک کردینا۔خیال رہے کہ موذی کافر کو مار ڈالنا گناہ نہیں بلکہ عبادت ہے، نیز آپ نے قتل کا ارادہ نہیں کیا تھا،نیز اس خطا کی معافی کا اعلان بھی ہوچکا مگر ہیبت الٰہی کے باعث حاضر دربار نہیں ہوتے کہ حکم الٰہی آنے سے پہلے مجھ سے یہ قتل واقع ہوگیا ورنہ بعد میں تو آپ کی دعا سے سارے قبطی ہلاک کردیئے گئے یہ بات خوب خیال رہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن