دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

۶؎  فرشتوں کا یا رب تعالٰی کا یہ کہنا کہ تم نہیں جانتے ان مرتدین پر اظہار غضب کے لیے ہے جیسے بلاشبہ باپ بیٹے کو مارنے لگے ماں جو اس سے سخت نالاں تھی محبت مادری میں بچانا چاہےباپ کہے تو اس خبیث کو نہیں جانتی اسے تو میں ہی جانتا ہوں۔اس کا مقصد یہ ہے کہ اسے مت بچا مجھے سزا دے لینے دے،رب تعالٰی منافقین کے متعلق فرماتا ہے:" لَا تَعْلَمُہُمْ نَحْنُ نَعْلَمُہُمْ"انہیں تم نہیں جانتے ہم جانتے ہیں حالانکہ حضور منافقین کو خوب جانتے تھے، فرماتاہے:"وَ لَتَعْرِفَنَّہُمْ فِیۡ لَحْنِ الْقَوْلِ"تم انہیں کلام کی روش سے ہی پہچان لیتے ہو۔

۷؎  یعنی میری وفات کے بعد اپنا دین بدلے کہ اسلام چھوڑ کر کافر ہوجائے۔خیال رہے کہ اس حدیث کی بنا پر روافض کہتے ہیں کہ سارے حضرات صحابہ مرتد ہو گئے تھے نعوذ بالله! اگر یہ مطلب ہے تو حضرت علی وغیرہم بھی صحابی ہیں ان پر بھی الزام آجائے گا اگر وہ حضرات مرتد ہوتے تو حضرت علی نہ ان سے بیعت کرتے نہ انکے پیچھے نمازیں پڑھتے نہ ان کے ہدایا لیتے اور دیوبندی کہتے ہیں کہ حضور انور کو قیامت میں بھی مخلص مؤمن اپنے پرائے کی پہچان نہ ہوگی اس کے جواب ابھی عرض کیے گئے۔

5572 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُحْبَسُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُهَمُّوا بِذَلِكَ فَيَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَيُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: أَنْتَ آدَمُ أَبُو النَّاسِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ اشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا. فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ. وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ: أَكْلَهُ مِنَ الشَّجَرَةِ وَقَدْ نُهِيَ عَنْهَا - وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ - وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ: سُؤَالَهُ رَبَّهُ بِغَيْرِ عِلْمٍ - وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ. قَالَ: فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ - وَيَذْكُرُ ثَلَاثَ كِذْبَاتٍ كَذَبَهُنَّ - وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا آتَاهُ اللَّهُ التَّوْرَاةَ وَكَلَّمَهُ وَقَرَّبَهُ نَجِيًّا. قَالَ: فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ - وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ قَتْلَهُ النَّفْسَ - وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَرُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ " قَالَ: " فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا عبدا غفر اللَّهُ لَهُ ماتقدم مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ". قَالَ: " فَيَأْتُونِي فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي فَيَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَهْ ". قَالَ: " فَأَرْفَعُ رَأْسِي فأثني على رَبِّي بثناء تحميد يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ الثَّانِيَةَ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ. فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا. فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَهْ. قَالَ: " فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ الثَّالِثَةَ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَاره فيؤذي لِي عَلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَهْ ". قَالَ: «فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بثناءوتحميد يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ حَتَّى مَا يَبْقَى فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ قَدْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ» أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ ثُمَّ تَلَا هَذِه الْآيَة (عَسى أَن يَبْعَثك الله مقَاما مَحْمُودًا) قَالَ: «وَهَذَا الْمقَام المحمود الَّذِي وعده نَبِيكُم»

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ مؤمنین قیامت کے دن روکے جائیں گے ۱؎ حتی کہ اس کی وجہ سے سخت غمگین ہوں گے تو کہیں گے کہ ہم اپنے رب کی بارگاہ کو شفیع لاتے کہ وہ کہیں اس جگہ سے راحت دے چنانچہ وہ حضرت آدم کے پاس حاضر ہوجائیں گے ۲؎ عرض کریں گے آپ انسانوں کےباپ ہیں الله نے آپ کو اپنے دستِ قدرت سے بنایا آپ کو اپنی جنت میں رکھا آپ کو اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا آپ کو ہر چیز کے نام بتائے اپنے رب کے پاس ہماری شفاعت کریں۳؎ کہ وہ ہم کو اس جگہ سے نجات دے،وہ فرمائیں گے کہ میں تمہارے اس مقام میں نہیں ہوں۴؎  اور اپنی وہ خطا یاد کریں گے جوا نہوں نے کی تھی یعنی درخت سے کھانا حالانکہ اس سے منع کیا گیا تھا ۵؎ لیکن تم حضرت نوح کے پاس جاؤ کہ وہ پہلے نبی ہیں جنہیں الله نے زمین والے کفار کی طرف بھیجا ۶؎ تو وہ حضرت نوح کے پاس آئیں گے وہ فرمائیں گے کہ میں تمہارے اس مقام میں نہیں ہوں اور اپنی وہ خطا یادکریں گے جو کی تھی یعنی اپنے رب سے بغیر جانے سوال کرنا۷؎ لیکن تم الله کے خلیل حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ فرمایا تو لوگ جناب ابراہیم کے پاس آئیں گے وہ کہیں گے کہ میں تمہارے اس مقام کا نہیں اور اپنی تین خلاف واقعہ باتیں یادکریں گے ۸؎ لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ بندے جنہیں الله نے توریت بخشی اور ان سے کلام کیا اور انہیں مشورہ کے لیے قرب بخشا فرمایا تو لوگ جناب موسیٰ کے پاس جائیں گے وہ فرمائیں گے میں تمہارے اس مقام کا نہیں اور اپنی وہ خطا یاد کریں گے جو انہوں نے کی یعنی ایک کاقتل ۹؎  لیکن تم حضرت عیسیٰ کے پاس جاؤ الله کے بندے اس کے رسول الله کی طرف سے روح اسکا کلمہ فرمایا پھر لوگ جناب عیسیٰ کے پاس جائیں گے وہ فرمائیں گے میں تمہارے اس مقام کا نہیں۱۰؎ لیکن تم حضور محمد مصطفی کے پاس جاؤ وہ بندے جن کی طفیل الله نے ان کے گنہگاروں کے سارے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے ۱۱؎  فرمایا تو سب میرے پاس آئیں گے تو میں اپنے رب کے پاس اس کے مقرر گھر میں حاضری کی اجازت مانگوں گا ۱۲؎ مجھے اجازت دی جاوے گی میں جب رب کو دیکھو ں گا تو سجدہ میں گرجاؤں گا پھر جتنا الله چاہے گا مجھے چھوڑے رکھے گا۱۳؎ پھر فرمائے گا اے محمد سر اٹھاؤ کہو تمہاری سنی جائے گی،شفاعت کرو قبول کی جاؤے گی،مانگو تم کو دیا جاوے گا۱۴؎  فرمایا تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا تو الله کی وہ حمدوثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے ۱۵؎  گا پھر شفاعت کروں گا تومیرے لیے ایک حد مقرر کی جاوے گی میں وہاں سے چلوں گا انہیں آگ سے نکالوں گا  اورجنت میں داخل کروں گا ۱۶؎ پھر دوسری بار لوٹوں گا اپنے رب سے اس کے گھر میں اجازت مانگوں گا۱۷؎ مجھے وہاں کی اجازت دی جاوے گی جب میں رب کو دیکھوں گا تو سجدہ میں گر جاؤں گا جتنا سجدے میں رہنا رب چاہے گا اتنا مجھے سجدے میں چھوڑے گا پھر فرمائے گا محمد سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری سنی جائے گی شفاعت کرو قبول کی جاوے گی مانگو دیئے جاؤ گے فرمایا تب میں سر اٹھاؤں گا اپنے رب کی ایسی حمدوثنا کروں گا جو مجھے سکھائے گا پھر شفاعت کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کی جاوے گی میں روانہ ہوں گا انہیں آگ سے نکالوں گا جب جنت میں داخل کروں گا ۱۸؎ پھر میں تیسری بار لوٹوں گا اپنے رب سے اس کی جگہ میں اجازت مانگوں گا مجھے اس پر اجازت دی جاوے گی تو جب میں رب کو دیکھوں گا تو سجدہ میں گرجاؤں گا جب تک الله مجھے چھوڑے رکھنا چاہیے گا چھوڑے رکھے گا۱۹؎ پھر فرمائے گا محمد سر اٹھاؤ کہو تمہاری سنی جاوے گی شفاعت کرو قبول کی جاوے گی مانگو تمہیں دیا جاوے گا فرمایا تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا تو اپنے رب کی وہ حمدوثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گاپھر شفاعت کروں گا۲۰؎ تو میرے لیے ایک حد مقرر کی جاوے گی پھر میں وہاں سے روانہ ہوں گا انہیں آگ سے نکالوں گا جنت میں داخل کروں گا حتی کہ آگ میں صرف وہ ہی رہ جائیں گے جنہیں قرآن نے روکا یعنی جن پر ہمیشگی ضروری ہوگئی ۲۱؎ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر اٹھائے فرمایا یہ مقام محمود وہ ہے جس کا تمہارے نبی سے وعدہ فرمایا ہے ۲۲؎(مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن