30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5196 -[42] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُسْأَلُ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ النَّعِيمِ أَنْ يُقَالَ لَهُ: أَلَمْ نُصِحَّ جِسْمَكَ؟ وَنَرْوِكَ من المَاء الْبَارِد؟ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قیامت میں نعمتوں کے متعلق بندے سے پہلا سوال جو ہوگا وہ یہ کہ اس سے کہا جاوے گا ۱؎ کہ کیا ہم نے تیرے جسم کو صحت نہیں بخشی اور کیا ہم نے تجھے ٹھنڈے پانی سے سیرنہیں کیا۲؎ (ترمذی) |
۱؎ یعنی دوسری نعمتوں کے مقابلہ میں ان نعمتوں کا حساب پہلے ہوگا لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں کہ پہلے نماز کا حساب ہوگایا پہلے ناحق خون کا حساب ہوگا اولیت بہت قسم کی ہے۔
۲؎ معلوم ہوا کہ دنیاوی نعمتوں میں سب سے اعلٰی نعمت تندرستی ہے کہ تمام نعمتیں اس کے ذریعہ استعمال ہوتی ہیں،پھر ٹھنڈا پانی اس کی قدر موسم گرما کے روزوں میں معلوم ہوتی ہے،پانی خود نعمت ہے،ٹھنڈا پانی نعمت پرنعمت ہے۔
|
5197 -[43] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ: عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ وَمَاذَا عَمِلَ فِيمَا عَلِمَ؟ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت ا بن مسعود سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا قیامت کے دن انسان کے قدم نہ ہٹیں گے حتی کہ اس سے پانچ چیزوں کے متعلق سوال کیا جاوے گا ۱؎ اس کی عمر کے بارے میں کہ کس چیز میں خرچ کی اور اس کی جوانی کے متعلق کہ کاہے میں گزاری ۲؎ اس کے مال کے متعلق کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا ۳؎ اور اس میں عمل کیا کیا جو جانا ۴؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ یعنی قیامت کے دن پانچ چیزوں کا حساب دیئے بغیر انسان بارگاہِ الٰہی سے نہیں ہٹ سکتا،ان پانچوں میں اگر رہ گیا تو سزا کا مستحق ہوا اگر ان سے نکل گیا تو جنت میں پہنچے گا۔
۲؎ اگرچہ عمر میں جوانی بھی آگئی تھی مگر چونکہ جوانی میں نیک و بداعمال زیادہ کیے جاسکتے ہیں کہ اس وقت ساری قوتیں اپنے کمال پر ہوتی ہیں اس لیے جوانی کے متعلق خاص سوال ہوگا،اسی لیے حدیث پاک میں ارشاد ہوا کہ جو جوانی میں عبادت کرے وہ عرش الٰہی کے سایہ میں ہوگا کہ اسے قیامت کے میدان کی گرمی نہ پہنچے گی،جوانی کی عبادت بڑی قدر کی چیز ہے۔شعر
کر جوانی میں عبادت کاہلی اچھی نہیں جب بڑھاپا آگیا کچھ بات بن پڑتی نہیں
ہے بڑھاپا بھی غنیمت جب جوانی ہوچکی یہ بڑھاپا بھی نہ ہوگا موت جس دم آگئی
۳؎ یعنی مال کے متعلق دو سوال ہوں گے: ایک یہ کہ کہاں سے حاصل کیا حلال ذریعہ سے یا حرام سے،کس مقام پر خرچ کیا ،طاعت میں یا معصیت میں۔مبارک ہے وہ مال جو اچھی راہ سے آوےاور اچھی راہ پر خرچ ہوجاوے۔اگر بارش کا پانی پرنالہ سے نہ نکالے جاوے تو چھت توڑ دیتا ہے۔
۴؎ ابن عساکر نے حضرت ابوالدرداء سے روایت کی کہ ان سے حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے قیامت میں سوال ہوگا کہ تم عالم تھے یا نرے جاہل،اگر تم نے کہا کہ میں عالم تھا تو حکم ہوگا کہ اپنے علم پر عمل کیا کیا؟ اور اگر تم نے کہا کہ جاہل تھا تو فرمایا جاوے گا کہ تم جاہل کیوں رہے ؟ تمہیں کیا عذر تھا۔علم سے مراد علم دین ہے لہذا انسان کو چاہیے کہ علم دین سیکھے اور نیک عمل کرے۔
|
5198 -[44] عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «إِنَّكَ لَسْتَ بِخَيْرٍ مِنْ أَحْمَرَ وَلَا أَسْوَدَ إِلَّا أَنْ تفضلَه بتقوى» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے ابو ذر رضی الله عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم کسی سرخ یا کالے سے بہتر نہیں ۱؎ مگر یہ کہ تم اس سے تقویٰ میں بڑھ جاؤ۲؎ (احمد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع