30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ واقعہ شبِ معراج کا ہے جب حضور نے سارا عالم غیب دیکھا۔غالبًا یہ وہ ہی نہر ہے جو حوض کوثر سے نکل کر محشر کی طرف پہنچائی جائے گی۔
۲؎ کوثر کے معنی ہیں خیرکثیر،حوض کوثر بھی اس کی ایک فرد ہے حضور کے بے شمار فضائل،حضور کے اہلِ بیت اطہار،علماء،اولیاء سب ہی کوثر میں داخل ہیں،یہاں حوض کوثر کو کوثر فرمایا گیا۔(اشعہ)
|
5567 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ وَكِيزَانُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ يَشْرَبُ مِنْهَا فَلَا يظمأ أبدا» . مُتَّفق عَلَيْهِ |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میرا حوض ایک مہینہ کی مسافت کا ہے ۱؎ اور اس کے گوشے برابر ہیں۲؎ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے۳؎ اس کی خوشبو مشک سے زیادہ اچھی ہے۴؎ اس کے کوزے آسمان کے تاروں کی طرح ہیں۵؎ جو اس سے پئے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا ۶؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی حوض کوثر جو میرا حوض ہے اس کی لمبائی چوڑائی کا یہ حال ہے کہ اگر اس کے ایک گوشہ سے دوسرے گوشہ کی طرف چلا جاوے تو چلنے والا ایک مہینہ میں وہاں پہنچے۔
۲؎ یعنی حوض کوثر مربع ہے لمبائی چوڑائی برابر اور اس کا ہر گوشہ زاویہ قائمہ ہے حادہ یا منفرجہ نہیں بلکہ گہرائی بھی ہر جگہ یکساں ہے یہ نہیں کہ کنارہ پر کم گہرا بیچ میں زیادہ گہرا۔
۳؎ نحوی قاعدہ سے اشد بیاضا چاہیے کیونکہ رنگت اور عیب سے فعل تعجب اور تفضیل بروزن افعل نہیں آتا مگر اس فرمان سے معلوم ہوا کہ یہ بھی جائز ہے،حضور تو نحویوں صرفیوں عربیوں کے امام اعظم ہیں نحو ان کی پابند ہے۔
۴؎ یعنی اس حوض میں دودھ بلکہ دودھ سے بھی اعلٰی چیز جس کی خوشبو مشک خالص سے بھی اچھی،الله تعالٰی ہم سب کو نصیب کرے۔
۵؎ تعداد اور چمک دمک میں تاروں کی طرح ہیں۔
۶؎ کوثر کا پانی اولًا تو پیاس بجھانے کے لیے ہم لوگ پئیں گے قبروں سے پیاسے اٹھیں گے،پھر جنت میں پہنچ کر وہ ہی کوثر پیا کریں گے مگر پیاس بجھانے کے لیے نہیں صرف لذت کے لیے،رب فرماتاہے:"وَاَنَّکَ لَا تَظْمَؤُا فِیۡہَا وَلَاتَضْحٰی"مگر بغیر پیاس بھی اس کے پینے میں لذت آئے گی جیسے بغیر بھوک وہاں کے پھل کھانے میں مزہ آوے گا،دنیا میں بغیر بھوک پیاس غذا و شربت میں مزہ نہیں آتا۔
|
5568 -[3] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ حَوْضِي أَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ وَلَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ وَإِنِّي لَأَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَصُدُّ الرَّجُلُ إِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِهِ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ لَكُمْ سِيمَاءُ لَيْسَتْ لِأَحَدٍ مِنَ الْأُمَم تردون عليّ غرّاً من أثر الْوضُوء» . رَوَاهُ مُسلم 5569 -[4] وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «تَرَى فِيهِ أَبَارِيقَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ» 5570 -[5] وَفِي أُخْرَى لَهُ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: سُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ. فَقَالَ: " أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ يَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ مِنَ الْجَنَّةِ: أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ وَالْآخَرُ مِنْ ورق " |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میرا حوض زیادہ بڑا ہے ایلہ سے عدن تک کے فاصلہ سے ۱؎ وہ برف سے زیادہ سفید ہے شہد سے زیادہ میٹھا جو دودھ سے مخلوط ہو۲؎ اس کے برتن تاروں کے شمار کے ہیں اور میں دوسرے لوگوں کو اس سے روکوں گا جیسے کوئی شخص دوسرے لوگوں کے اونٹ کو اپنے حوض سے روکتا ہے۳؎ صحابہ نے عرض کیا یارسول الله کیا اس دن آپ ہم کو پہچان لیں گے فرمایا ہاں تمہاری وہ نشانی ہوگی جو کسی دوسری امت کی نہ ہوگی۴؎ تم میرے پاس آثار وضو کی وجہ سے روشن منہ پنج کلیان آؤ گے۵؎(مسلم) اور مسلم کی روایت حضرت انس سے یوں ہے کہ فرمایا اس میں سونے چاندی کے لوٹے آسمان کے ستاروں کی شمار میں دیکھے جائیں گے ۶؎ اور اس کی دوسری روایت میں حضرت ثوبان سے مروی ہے فرمایا حضور سے پانی کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ دودھ سے زیادہ سفید ہے شہد سے زیادہ میٹھا اس میں جنت سے دو پرنالے گرتے ہیں جو اسے بڑھاتے ہیں۷؎ ایک سونے کا ہے دوسرا چاندی کا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع