دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

کے بعد ہوگا کیونکہ تو اپنے جرموں کا انکاری ہے جرم کے اقراری پر گواہ قائم نہیں کیے جاتے۔ھہنا سے پہلے وقف پوشیدہ ہے یعنی تو اسی حساب کی جگہ ٹھہرا رہے۔

۱۱؎  کیونکہ میں نے کفر و شرک اور صدہا گناہ لوگوں سے چھپ کرکئے تھے میرے خلاف گواہی کون دے سکتا ہے، گواہ باخبر چاہیے لوگ بے خبر ہیں لوگوں کو تو میرے کلمہ نمازوں کی خبر ہے۔

۱۲؎  یعنی اس کے سارے اعضاء جن سے اس نے گناہ کئے تھے وہ اپنے عمل کا اقرار کریں گے اور دوسرے اعضاء اس پر گواہ ہوں گے مثلًا آنکھ کان کے خلاف گواہ اور کان آنکھ کے خلاف گواہ۔

۱۳؎ لیعذر باب افعال کا مضارع ہے،اس کا مصدر اعذار ہے بمعنی دفع عذر،یعنی رب تعالٰی بندے کے سارے عذر ختم کرکے پھر سزا کا فیصلہ سنائے گا۔

۱۴؎  اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ یہ بندہ اپنی دانست میں سچ کہے گا واقعی وہ دنیا میں ریا کاری کے لیے نماز وغیرہ ادا کرتا تھا،منافقت سے کلمہ پڑھتا تھا مگر اس کے یہ اعمال قابل قبول نہ تھے اس لیے ردہوگئے،خفیہ طور پر کفر و فسق کرتا تھا ان پر پکڑا گیا۔

۱۵؎  یعنی صاحب مصابیح امام بغوی نے وہ حدیث یہاں روایت کی تھی بروایت ابوہریرہ اور باب التوکل میں بھی بیان کی تھی بروایت حضرت ابن عباس گویا مکرر بیان کی تھی۔ہم نے یہاں سے ابوہریرہ والی روایت حذف کردی اور باب التوکل میں بروایت ابن عباس نقل کردی۔(مرقات)اس عبارت میں بظاہر اشکال دور ہوگیا کہ حدیث ایک ہے مگر دو راویوں سے دو جگہ مصابیح میں ذکر کی گئی تھی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

5556 -[8]

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَثَلَاثُ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِ رَبِّي» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھ سے میرے رب نے وعدہ فرمالیا ہے کہ میری امت میں سے ستر۷۰ ہزار کو جنت میں اس طرح داخل فرمائے گا کہ نہ ان کا حساب ہوگا نہ عذاب ۱؎  ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ۲؎  اور میرے رب کے لپوں میں سے تین لپ۳؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)

۱؎ عربی زبان میں لفظ سبعتین یا لفظ سبعین الفًا زیادتی بیان کرنے کے لیے آتا ہے وہ ہی مراد ہے۔لاحساب کے معنی ہیں کہ ان سے مطلقًا حساب نہ ہوگا نہ حساب یسیر نہ حساب مناقشہ،مگر مرقات نے فرمایا کہ یہاں حساب مناقشہ کی نفی ہے پیشی والا حساب تو ہوگا مگر قوی یہ ہی ہے کہ مطلقًا حساب نہ ہوگا اور جب حساب ہی نہ ہوا تو عذاب کا سوال ہی نہیں۔حساب سے مراد حساب قیامت ہے اور ہوسکتا ہے کہ حساب قیامت اور حساب قبر دونوں مراد ہوں،نہ حساب قبر سب کے لیے ہے نہ عذاب محشر سب کے لیے،بعض حضرات ان حسابوں سے علیحدہ ہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن