دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

5555 -[7]

وَعَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبنَا يَوْم الْقِيَامَة؟ قَالَ: «فَهَل تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ؟» قَالُوا: لَا قَالَ: «فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رؤيةالقمر لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ؟» قَالُوا: لَا قَالَ: «فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا» . قَالَ: " فَيَلْقَى الْعَبْدَ فَيَقُولُ: أَيْ فُلْ: أَلَمْ أُكْرِمْكَ وَأُسَوِّدْكَ وَأُزَوِّجْكَ وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ؟ فَيَقُولُ بَلَى قَالَ: " أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ؟ فَيَقُولُ لَا فَيَقُولُ: فَإِنِّي قَدْ أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي ثُمَّ يَلْقَى الثَّانِيَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ثُمَّ يَلْقَى الثَّالِثَ فَيَقُولُ لَهُ مثل ذَلِك فَيَقُول يارب آمَنْتُ بِكَ وَبِكِتَابِكَ وَبِرُسُلِكَ وَصَلَّيْتُ وَصُمْتُ وَتَصَدَّقْتُ ويثني بِخَير مااستطاع فَيَقُول: هَهُنَا إِذا. ثمَّ يُقَال الْآن تبْعَث شَاهِدًا عَلَيْكَ وَيَتَفَكَّرُ فِي نَفْسِهِ: مَنْ ذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ؟ فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ: انْطِقِي فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِعَمَلِهِ وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ وَذَلِكَ يسخطُ اللَّهُ عَلَيْهِ "رَوَاهُ مُسلم وذُكر حَدِيث أبي: «يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ» فِي «بَابِ التَّوَكُّلِ» بِرِوَايَة ابْن عَبَّاس

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں لوگوں نے عرض کیا یارسول الله کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے ۱؎  فرمایا کیا تم دوپہری میں جب کہ سورج بادل میں نہ ہو اس کے دیکھنے میں کچھ تردد کرتے ہو لوگ بولے نہیں ۲؎ تو کیا تم چودھویں رات چاند کے دیکھنے میں شک کرتے ہو جب کہ وہ بادل میں نہ ہو عرض کیا نہیں،فرمایا تو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم اپنے رب کے دیکھنے میں نہیں شک کرو گے مگر جیساکہ شک کرتے ہو تم۳؎  ان دونوں میں سے ایک کے دیکھنے میں،فرمایا رب بندے سے ملے گا ۴؎ فرمائے گا اے فلاں کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی،تجھے سردار نہیں بنایا،تجھے بیوی نہیں دی،گھوڑے اونٹ کو تیرا فرمانبردار نہیں کیا اور تجھے نہ کہاکہ تو سردار بنے چہارم غنیمت سے وہ کہے گا ۵؎ ہاں پھر فرمائے گا کیا تجھے یقین تھا کہ تو مجھ سے ملے گا عرض کرے گا نہیں ۶؎ فرمائے گا میں تجھے بھولا ہوا چھوڑتا ہوں ۷؎ جیسے تو نے مجھے بھلا دیا تھا پھر دوسرے بندے سے ملے گا اس طرح ذکر فرمایا ۸؎ پھر تیسرے بندے سے ملے گا اس کی مثل فرمائے گا وہ عرض کرے گا الٰہی میں تجھ پر تیری کتاب پر تیرے رسولوں پر ایمان لایا تھا میں نے نمازیں پڑھی ہیں روزہ رکھے خیرات کی جہاں تک ہوسکے گا اپنی تعریفیں کرے گا ۹؎  تو رب فرمائے گا اچھا تو تو یہاں ہی ٹھہر۱۰؎  پھر فرمایا جاوے گا اب ہم تجھ پر گواہ لائیں گے وہ اپنے دل میں سوچے گا کہ ایسا کون ہے جو میرے خلاف گواہی دے گا ۱۱؎ تب اس کے منہ پر مہر کردی جاوے گی اور اس کی ران سے کہا جاوے گا کہ تو بول،اس کی ران اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال بتائیں گی۱۲؎ یہ اس لیے ہوگا تاکہ بندہ کے عذر دور کر دے۱۳؎  یہ بندہ منافق ہوگا،یہ وہ ہوگا جس سے الله ناراض ہے۱۴؎ (مسلم) اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی میری امت میں سے جنت میں جائیں گے باب توکل میں بروایت حضرت ابن عباس روایت کردی گئی ۱۵؎

۱؎ دیدار الٰہی قیامت میں بھی ہوگا اور جنت میں بھی،قیامت میں تو ہر کافر و مؤمن دیکھے گا مگر کافر کو دیدار غضب و قہر والا ہوگا جیساکہ ابھی کچھ پہلے گزر چکا،مؤمن کو رحمت والا،یہاں محشر والے دیدار کے متعلق یہ سوال ہے۔

۲؎  سبحان الله! کیسا پیارا پاکیزہ جواب ہے کہ سورج جیسی چمک دار چیز جب حجاب میں نہ ہو تو اس کے دیدار میں کوئی تردد نہیں ہوتا اسی طرح وہاں دیدار میں کوئی شک و شبہ نہ ہوگا۔

۳؎  یعنی جیسے تم ان حالات میں سورج اور چاند کو دیکھنے میں شک نہیں کرتے ایسے ہی رب تعالٰی کا دیدار کرو گے کہ تمہیں اس میں کسی قسم کا تردد نہ ہوگا یقین سے دیکھو گے۔خیال رہے کہ تضارون اگر ر کے شد سے ہے تو یہ ضرر بمعنی نقصان سے بنا ہے اور اگر ر پرپیش سے ہے تو خبر بمعنی مضائقہ و مناظرہ سے بنا ہے۔معنی یہ ہیں کہ تم لوگ رب تعالٰی کے دیدار میں تم ایک دوسرے سے جھگڑو گے نہیں سب مان لیں گے کہ واقعی رب کا دیدار ہوا۔مطلب یہ ہی ہے کہ اس دیدار میں کسی کو شک نہ ہوگا،شک سے ہی تو مناظرے اور جھگڑے ہوتے ہیں۔ چودھویں کے چاند دوپہر کے سورج میں کوئی مناظرہ نہیں کرتا سب مان لیتے ہیں۔سبحان الله! کیا نفیس تشبیہ ہے۔

۴؎  ظاہر یہ ہے کہ اس بندہ سے مراد بندہ کافر و مشر ک ہے جیساکہ اگلے مضمون سے واضح ہے اور ملنے سے مراد ہے رب تعالٰی کو دیکھنا، قیامت میں رب کا دیدار  اس سے ہم کلام   کفار بھی ہوں گے مگر یہ دیدار و کلام غضب کے   ہوں گے نہ کہ رحمت کے،دوزخ میں پہنچ کر  نہ انہیں رب کا دیدا ر ہو گا    نہ اس سے کلام۔مسلمانوں کو یہ دونوں چیزیں قیامت میں بھی میسر ہوں گی دیدار و کلام رحمت والا میسر ہوگا اور جنت میں میسر ہوا کرے گا لہذا یہ حدیث نہ تو اس آیت کیخلاف ہے"اِنَّہُمْ عَنۡ رَّبِّہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوۡبُوۡنَ"اور نہ اس فرمان کے خلاف ہے "لَا یُکَلِّمُہُمُ اللہُ وَلَا یَنۡظُرُ اِلَیۡہِمْ"قرآن کریم میں رحمت کے دیدار و کلام کی نفی ہے یہاں غضب کے دیدار وکلام کا ثبوت ہے یا قرآن مجید میں دوزخ میں پہنچنے کے بعد دیدار و کلام کی نفی ہے یہاں قیامت میں دیدار و کلام کا ثبوت دونوں برحق ہیں۔

۵؎  زمانہ جاہلیت میں سرداران قوم جنگوں میں اگرچہ شریک نہ ہوتے مگر وہاں کے لوٹے ہوئے مال میں سے چہارم حصہ خود لیتے تھے اپنی سرداری کا حق،یہاں اسی کا ذکر ہے یعنی ہم نے تجھ کو دنیا میں عمومی نعمتیں بھی عطا کی تھیں اور خصوصی نعمتیں بھی۔خیال رہے کہ اسلام میں صرف حضور صلی الله علیہ و سلم کو غنیمت کا پانچواں حصہ پیش کیا جاتا تھا اور حضور انور اس میں سے بھی بقدر ضرورت خود لےکر باقی مسلمانوں کی ضرورتوں میں خرچ فرمادیتے تھے لہذا اس چہارم اور اس خمس میں بڑا فرق ہے۔

۶؎  اس سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ کلام کافر سے ہے جو قیامت کا منکر تھا۔

۷؎  یہ فرمان اس آیت کی شرح ہے "وَکَذٰلِکَ الْیَوْمَ تُنۡسٰی"یہاں بھولنے سے مراد ہے چھوڑ دینا کیونکہ الله تعالٰی بھول چوک سے پاک ہے۔

۸؎  یعنی اس دوسرے کافر بندے سے بھی وہ ہی سوال ہوگا اور وہ بندہ وہی جواب دے گا یعنی اپنے کفر و عناد کا اقرار کرے گا۔

۹؎  یہ تیسرا بندہ بھی کافر بلکہ منافق ہوگا مگر ڈھیٹ کافر کہ اپنے کفر و شرک اور تمام گناہوں کا انکار کردے گا اور اپنے تقویٰ و طہارت کے دعویٰ کرے گا رب تعالٰی سے بھی شرم نہ کرے گا۔

۱۰؎  پچھلے دونوں بندوں کو دوزخ میں بھیج دیا جاوے گا مگر ان کا عذاب اس ڈھیٹ سے ہلکا ہوگا کیونکہ عدالت کو دھوکا دینا جرم ہے یہ جرم اس تیسرے نے کیا ان دونوں نے نہیں کیا اسے اس دھوکے کی سزا بھی ملے گی۔یعنی جب تو یہ کہتا ہے تو ٹھہر جا تیرا فیصلہ گواہی وغیرہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن