دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

5553 -[5]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجَاءُ بِنُوحٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ بَلَّغْتَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ يَا رَبِّ فَتُسْأَلُ أُمَّتُهُ: هَلْ بَلَّغَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: مَا جَاءَنَا مِنْ نَذِيرٍ. فَيُقَالُ: مَنْ شُهُودُكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ ". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فيجاء بكم فتشهدون على أنَّه قد بلَّغَ» ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدا)رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی الله علیہ و سلم نے کہ قیامت کے دن حضرت نوح علیہ السلام کو لایا جائے گا ان سے کہا جائے گا کہ آپ نے تبلیغ کی تھی وہ عرض کریں گے ہاں یارب ۱؎ پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم کو تبلیغ کی گئی تھی وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہ آیا فرمایا جاوے گا اے نوح! تمہارے گواہ کون ہیں۲؎ عرض کریں گے محمد مصطفےٰ اور ان کی اُمت،حضور نے فرمایا کہ پھر تمہیں کہہ دیا جاوے گا تم گواہی دو گے کہ انہوں نے تبلیغ کی تھی۳؎ پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے یہ آیت تلاوت کی کہ اسی طرح ہم نے تم کو بہترین امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور یہ رسول تمہارے نگران گواہ ہوں۴؎(بخاری)

۱؎ چونکہ نوح علیہ السلام پہلے وہ نبی ہیں جو کفار کی طرف بھیجے گئے اس لیے ابتداء انہیں سے ہوگی۔گزشتہ کافر امتیں اپنے نبیوں کی تبلیغ کا ا نکار کریں گی اس لیے مقدمہ چلے گا اور اس مقدمہ کی نوعیت یہ ہوگی ہمارے حضور صلی الله علیہ و سلم کی تبلیغ کا کوئی کافر انکار نہ کرسکے گا۔

۲؎  یعنی تم تبلیغ کر دینے کے مدعی ہو تمہاری امتیں اس کی منکر اور مدعی کے ذمہ گواہ پیش کرنا ہوتا ہے وہ اگر گواہ قائم نہ کرسکے تو مدعیٰ علیہ قسم کھاکر مقدمہ جیت لیتا ہے۔معلوم ہوا کہ مقدمہ کا فیصلہ اس قانون کے ماتحت ہوتا ہے حاکم کے ذاتی علم پر فیصلہ نہیں ہوتا،دیکھو رب تعالٰی علیم و خبیر ہے مگر تحقیقات ہورہی ہے۔

۳؎  تشہدون میں خطاب صحابہ سے نہیں بلکہ ساری امت رسول الله سے ہے اولین و آخرین صالحین اور ہم جیسے گنہگار اور یہ گواہی صرف نوح علیہ السلام کے حق میں نہیں ہوگی بلکہ قریبًا تمام نبیوں کے حق میں ہوگی کیونکہ سب کی کافر امتیں ان حضرات کی تبلیغ کا انکار کریں گی۔یہ امت ان انبیاءکرام کی گواہ ہوں گی اور حضور صلی الله علیہ و سلم اپنی امت کی تصدیق فرمائیں گے کہ واقعی یہ سچ کہہ رہے ہیں،میں نے ان کو ان حضرات انبیاءکرام کی تبلیغ کی خبر دی تھی اور حضور اسی امت کی صفائی بھی یہاں بیان فرمائیں گے کہ الٰہی میری امت گواہی دینے کے قابل ہے۔مدعی کو گواہ بڑا پیارا ہوتا ہے،تمام نبیوں کو یہ امت پیاری ہے۔ہم کو بھی چاہیے کہ مسلمان بن کر رہیں کہ کل قیامت میں ہم نے نبیوں کی گواہی دینی ہے فاسق کی گواہی قبول نہیں ہوتی،رب تعالٰی توفیق دے۔

۴؎  اس آیت کریمہ کی نفیس و لذیذ تحقیق ہماری تفسیرنعیمی میں ملاحظہ کرو اور شان حبیب الرحمن میں دیکھو۔یہاں دو باتیں سمجھ لو کہ اس آیت میں وسط کے معنی بہترین ہے،رب فرماتاہے:"قَالَ اَوْسَطُہُمْ"درمیانی زمانہ والی مراد نہیں کیونکہ یہ امت تو آخری ہے۔ دوسرے یہ کہ یہاں"یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَہِیۡدًا"میں شہد بمعنی گواہ نگران ہے اسی لیے یہاں علیکم ارشاد ہوا۔یہاں مرقات میں ہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم اس میدان میں حاضر و ناظر ہیں۔(مرقات)بے خبر نہ گواہ بن سکتا ہے نہ کسی کی صفائی بیان کرسکتا ہے،حضور اپنے ہر امتی کے ہر عمل سے خبردار ہیں اسی لیے آپ ان کی صفائی بیان فرمائیں گے اس لیے وہ انبیاءکرام عرض کریں گے محمد و امتہ۔

5554 -[6]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مِمَّا أَضْحَكُ؟ ". قَالَ: قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَقُولُ: يَا رَبِّ أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ؟ "قَالَ:"يَقُولُ: بَلَى".قَالَ:"فَيَقُولُ: فَإِنِّي لَا أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلَّا شَاهِدًا مِنِّي ". قَالَ: فَيَقُولُ: كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ شُهُودًا ". قَالَ:"فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ فَيُقَالُ لِأَرْكَانِهِ:انْطِقِي".قَالَ: «فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلَامِ». قَالَ: "فَيَقُولُ: بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا فعنكنَّ كنتُ أُناضلُ ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں ہم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پاس تھے تو حضور ہنسے پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں کس چیز سے ہنستا ہوں  فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا الله اور اس کا رسول خوب جانیں ۱؎ فرمایا بندے کے اپنے رب سے عرض معروض کرنے پر عرض کرے گا اے رب کیا تو نے مجھے ظلم سے امان نہیں دی فرمائے گا ہاں فرمایا تو بندہ کہے گا کہ میں اپنی ذات پر کوئی گواہی روا نہیں رکھتا مگر اپنے میں سے گواہ ۲؎ فرمایا کہ رب فرمائے گا آج تو ہی اپنے نفس پر کافی گواہ ہے اورکرامًا کاتبین فرشتے گواہ ہیں۳؎  فرمایا پھر اس کے منہ پر مہر کردی جائے گی۴؎ پھر اس کے اعضاء سے کہا جاوے گا بولو فرمایا وہ اس کے اعمال کے متعلق کلام کریں گے۵؎ پھر بندے اور اس کے کلام کے درمیان خلوت کردی جائے گی۶؎  فرمایا کہ وہ کہے گا کہ تمہیں دوری اور ہلاکت ہو میں تمہیں سے دفع کرتاتھا ۷؎ (مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن