30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیکیوں کی نیکی چہروں پر نمودار ہوگی کہ ان کے منہ چمکتے ہوں گے مگر بدوں کی برائیاں چہروں پر ظاہر نہ ہوں گی ان کے منہ نہ بگڑیں گے، کیوں نہ ہو کہ یہ لوگ پردہ پوش لجپال محبوب صلی الله علیہ و سلم کی امت ہیں ان کی پردہ پوشی دنیا میں بھی ہے آخرت میں بھی ہوگی۔
۴؎ یعنی اب میں پکڑا گیا عذاب میں گرفتار ہوا وہ شخص دل میں یہ سوچتا ہوگا کسی سے کہے گا نہیں اس لیے فی نفسہ فرمایا گیا،رب بھی اس کے عیب چھپائے گا بندہ بھی خاموش رہے گا۔
۵؎ اس فرمان عالی سے ہی معلوم ہورہا ہے کہ یہاں دنیا کے چھپے گناہوں کو بندہ خود ہی علانیہ کرتا رہا ہو ان کا وہاں بھی اعلان ہوگا لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ غدار کے چوتڑوں پر اس کی غداری کے مطابق جھنڈا لایا جائے گا جس سے وہ سارے محشر میں مشہور ہوگا،وہ غداری بھی علانیہ تھی اس لیے اس کی سزا بھی علانیہ ہوئی۔
۶؎ مؤمن کی بخشش ضرور ہوگی کسی کی اول ہی سے،کسی کی کچھ سزا دے کر،کسی کی شفاعت کے پانی سے گناہ دھو کر،کسی کی بخشش دوزخ کی آگ میں کچھ روز تپا کر۔بہرحال ہر گنہگار کی بخشش یقینی ہے کیوں نہ ہو کہ محبوب کی امت تو ہے۔اعلٰی حضرت نے کیا خوب فرمایا ؎
واعظ ان کا میں گنہگار وہ میرے شافع اتنی نسبت مجھے کیا کم ہے تو سمجھا کیا ہے
۷؎ یہ تحریر گویا جنت کا پروانہ وہاں کا ویزا ہوگا اس میں اس بندے کی نیکیوں کا ذکر تو ہوگا مگر گناہوں کا تذکرہ نہ ہوگا کہ وہ تو معاف کردیئے گئے۔
۸؎ یعنی کفارومنافقین کی نیکیوں کا ذکر تک نہ ہوگا کیونکہ وہ سب رد ہوچکیں بغیر ایمان کوئی صدقہ وغیرہ قبول نہیں،نیز وہ لوگ ان نیکیوں کی عوض دنیا میں الله کی نعمتیں استعمال کرچکے،ہاں ان کے گناہوں کا اعلان بھی ہوگا اور حساب علانیہ بھی کیونکہ وہ پردہ پوش نبی کے دامن سے دور رہے۔
|
5552 -[4] وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَفَعَ اللَّهُ إِلَى كُلِّ مُسْلِمٍ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا فَيَقُولُ: هَذَا فِكَاكُكَ مِنَ النَّارِ " رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو الله ہر مسلمان کو ایک یہودی یا عیسائی عطا فرمائے گا تو کہے گا کہ یہ تیرا فدیہ ہے آگ سے ۱؎(مسلم) |
۱؎ فك کے معنی ہیں گروی چیز کو چھڑانا،فکاك وہ مال ہے جو دے کر گروی چیز چھڑائی جاوے۔ہرشخص کے لیے ایک ٹھکانہ دوزخ میں ہے دوسرا جنت میں،مؤمن جنت میں اپنا ٹھکانا بھی لے گا اور کسی کافر کا بھی اور کافر دوزخ میں اپنا مقام بھی لے گا اورکسی مؤمن کا بھی۔یہاں یہ ہی مطلب ہے کہ اے مؤمن تو جنت میں اپنا ٹھکانہ بھی لے اور اس یہودی عیسائی کا بھی،یہ تیرے لیے ایسا ہے جیسے گروی چیز کا فکاک۔چونکہ عیسائی یہودی مسلمانوں سے قریب ہوتے ہوئے بھی دور رہے تھے اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر ہوا،یہ مطلب نہیں کہ مسلمان کے گناہوں کے عوض کافر دوزخ میں جاوے گا کہ یہ اسلامی قانون کے خلاف ہے"لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی"۔
|
5553 -[5] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجَاءُ بِنُوحٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ بَلَّغْتَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ يَا رَبِّ فَتُسْأَلُ أُمَّتُهُ: هَلْ بَلَّغَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: مَا جَاءَنَا مِنْ نَذِيرٍ. فَيُقَالُ: مَنْ شُهُودُكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ ". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فيجاء بكم فتشهدون على أنَّه قد بلَّغَ» ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدا)رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی الله علیہ و سلم نے کہ قیامت کے دن حضرت نوح علیہ السلام کو لایا جائے گا ان سے کہا جائے گا کہ آپ نے تبلیغ کی تھی وہ عرض کریں گے ہاں یارب ۱؎ پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم کو تبلیغ کی گئی تھی وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہ آیا فرمایا جاوے گا اے نوح! تمہارے گواہ کون ہیں۲؎ عرض کریں گے محمد مصطفےٰ اور ان کی اُمت،حضور نے فرمایا کہ پھر تمہیں کہہ دیا جاوے گا تم گواہی دو گے کہ انہوں نے تبلیغ کی تھی۳؎ پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے یہ آیت تلاوت کی کہ اسی طرح ہم نے تم کو بہترین امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور یہ رسول تمہارے نگران گواہ ہوں۴؎(بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع