30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5547 -[16] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ رَأْيُ عَيْنٍ فليَقرأْ: (إِذا الشَّمسُ كُوِّرَتْ)و(إِذا السَّماءُ انفطرَتْ)و(إِذا السَّماءُ انشقَّتْ) رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جسے یہ پسند ہو کہ قیامت کا دن آنکھوں دیکھے کی طرح دیکھے ۱؎ تو اذا الشمس کوّرت اور اذا السماء انفطرت اور اذا السماء انشقت کی تلاوت کرے۲؎ (احمد،ترمذی) |
۱؎ سن کر یقین کو علم الیقین کہتے ہیں،دیکھ کر یقین عین الیقین کہلاتا ہے،اندر داخل ہوکر آزماکر یقین حق الیقین کہلاتا ہے۔ ابھی ہم لوگوں کو قیامت اور وہاں کے حالات کا یقین ہے مگر علم الیقین،سرکار فرمارہے ہیں کہ اگر تم قیامت کا عین الیقین چاہتے ہو تو یہ سورتیں پڑھو،ان میں قیامت کا ایسا نقشہ کھینچا گیا ہے جیسے کہ بندہ اسے دیکھ ہی رہا ہے،بعض بیان ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے سننے سے خبرگویا سامنے آجاتی ہے۔
۲؎ ان سورتوں میں قیامت کا بیان اس کے حالات ایسے طریقہ سے بیان ہوئے ہیں کہ قیامت گویا سامنے آجاتی ہے،بعض وقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم قیامت کا ذکر ایسے ہی فرماتے تھے کہ قیامت کا نقشہ نگاہوں کے سامنے کھچ جاتا تھا۔
|
5548 -[17] عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: إِنَّ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِي:"أَنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ ثَلَاثَةَ أَفْوَاجٍ: فَوْجًا رَاكِبِينَ طَاعِمِينَ كَاسِينَ وفوجا تسحبنهم الْمَلَائِكَةُ عَلَى وُجُوهِهِمْ وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ وَفَوْجًا يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ وَيُلْقِي اللَّهُ الْآفَةَ عَلَى الظَّهْرِ فَلَا يَبْقَى حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَتَكُونُ لَهُ الْحَدِيقَةُ يُعْطِيهَا بِذَاتِ الْقَتَبِ لَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا ". رَوَاهُ النَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ سچ کہنے والے سچی خبر دینے والے ۱؎ صلی الله علیہ وسلم نے مجھے خبر دی کہ لوگ تین فوجوں میں جمع کیے جائیں گے۲؎ ایک فوج سوار عیش والے لباس پہنے ہوئے۳؎ اور ایک فوج فرشتے ان کے چہروں پر گھسیٹیں گے اور انہیں آگ جمع کرے گی۴؎ اور ایک فوج جو چلیں گے اور دوڑیں گے۵؎ الله تعالٰی ان کی سواری پر آفت ڈال دے گا وہ باقی نہ رہے گی حتی کہ ایک شخص جس کے پاس باغ ہوگا وہ ایک قابل سواری اونٹ کے عوض دے گا مگر وہ اس پر قادر نہ ہوگا۶؎ (نسائی) |
۱؎ یعنی حضور انور کی دو صفتیں ہیں: ایک یہ کہ آپ ہم کو سچی خبریں دیتے ہیں،دوسرے یہ کہ رب تعالٰی انہیں سچی خبریں دیتا ہے سچ سننے والے سچ بولنے والے صلی اللہ علیہ و سلم۔
۲؎ حشر کی تین صورتیں ہیں: ایک یہ کہ قریب قیامت عدن سے ایک عالمگیر آگ اٹھے گی جو تمام دنیا کو فلسطین میں پہنچادے گی یہ حشر اول ہے۔دوسرے یہ کہ دوسرا صور پھونکنے پر مردے قبروں سے اٹھ کر فلسطین پہنچیں گے۔تیسرے یہ کہ فیصلہ ہوچکنے پر لوگ اپنے ٹھکانوں کی طرف چلیں گے۔غالب یہ ہے کہ یہاں پہلا حشر مراد ہے جیساکہ آگے والے مضمون سے ظاہر ہے،ممکن ہے کہ دوسرا یا تیسرا حشر مراد ہو۔
۳؎ یعنی یہ لوگ اطمینان سے اپنی سواریوں پر سوار ہوکر سفرکریں گے اعلٰی لباس پہنے ہوئے۔اگر پہلا حشر مراد ہے تو سواریوں سے مراد ان کی اپنی مملوکہ سواریاں جو اس وقت ان کے قبضے میں ہوں گی اور اگر تیسرا حشر مراد ہے تو قربانی یا اپنے اعمال کی سواریاں مراد ہیں۔اور اگر دوسرا حشر مراد ہے تو سواری پر خاص خاص لوگ ہوں گے باقی لوگ پیدل،یہ سواری ان خاص لوگوں کو رب کی طرف سے مہیا کی جاوے گی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع