30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5544 -[13] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ:(يَوْمَئِذٍ تُحدِّثُ أخبارَها)قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا أَخْبَارُهَا؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "فَإِنَّ أَخْبَارَهَا أَنْ تَشْهَدَ عَلَى كلِّ عَبْدٍ وَأَمَةٍ بِمَا عَمِلَ عَلَى ظَهْرِهَا أَنْ تَقول: عمِلَ عَليَّ كَذَا وَكَذَا يومَ كَذَا وَكَذَا ".قَالَ:«فَهَذِهِ أَخْبَارُهَا» .رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آیت پڑھی کہ اس دن زمین اپنی خبریں دے گی فرمایا کہ جانتے ہو کہ زمین کی خبریں کیا ہیں ۱؎ لوگوں نے عرض کیا اﷲ رسول ہی خوب جانتے ہیں فرمایا اس کی خبریں یہ ہیں کہ ہر بندے اور بندی پر گواہی دے گی اس کی جو اس نے اس کی پشت پرعمل کیے ۲؎ کہ کہے گی کہ مجھ پر فلاں فلاں دن فلاں فلاں عمل کیے فرمایا کہ زمین کی خبریں یہ ہیں۳؎ (احمد،ترمذی )اور فرمایا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ |
۱؎ حضور انور کا یہ سوال خود جواب دینے کے لیے ہے جو بات پوچھ کر بتائی جاوے وہ خوب یاد رہتی ہے اس لیے اس طرح بتایا خود سائل خود مجیب۔
۲؎ زمین کی پیٹھ عام ہے خود زمین مکان کی چھت،پہاڑ کی چوٹی،سمندر کی سطح،ہوائی جہاز کی سیٹ جہاں بھی کوئی عمل کیا جاوے وہ زمین کی پیٹھ پر ہی ہے کیونکہ پہاڑ بھی زمین پر ہے اور پانی و ہوا بھی زمین پر ان میں سے جہاں بھی کچھ کیا جاوے وہ زمین کی پیٹھ پر ہی ہے،قبر کو زمین کا پیٹ کہا جاتا ہے اور ظاہری زمین کو زمین کی پیٹھ۔
۳؎ اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ زمین میں حواس ہیں،یہ عمل کرنے والوں کو بھی پہچانتی ہے ان کے عملوں کو بھی اس کی یہ جان پہچان تفصیل وار ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ زمین کو قیامت کے دن ہر ایک کی پہچان ہوگی ان کا ہرعمل یاد ہوگا۔
|
5545 -[14] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُوتُ إِلَّا نَدِمَ» . قَالُوا: وَمَا نَدَامَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَدِمَ أَنْ لَا يَكُونَ ازْدَادَ وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا نَدِمَ أَنْ لَا يكونَ نزع» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا کوئی نہیں جو مرے مگر شرمندہ ہوگا ۱؎ عرض کیا یارسول الله اس کی شرمندگی کیا ہوگی،فرمایا اگر نیک کار ہوگا تو شرمندہ ہوگا کہ اس نے زیادہ نیکیاں کیوں نہ کیں۲؎ اور گنہگار ہوا تو شرمندہ ہوگا کہ وہ کیوں نہ باز آیا۳؎ (ترمذی) |
۱؎ لہذا ہرشخص کو چاہیے کہ موت سے پہلے زندگی کو،بیماری سے پہلے تندرستی کو،مشغولیت سے پہلے فراغت کو غنیمت جانے جتنا موقع ملے کر گزرے ؎
اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہوسکے کرلے اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے
اس دنیا کا ایک ہی پھیرا مڑ نہیں آنا دو جی وار جو کرنا ہے کرلے یار ہوجا سمجھدار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع