30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5542 -[11] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِيَاءً وَسُمْعَةً فَيَذْهَبُ لِيَسْجُدَ فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا» . |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ ہمارا رب اپنی پنڈلی قدرت کھولے گا ۱؎ اور اسے ہر مؤمن مرد و عورت سجدہ کریں گے۲؎ وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دنیا میں دکھلاوے یا شہرت کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ سجدہ کرنے لگیں گے تو ان کی پیٹھ ایک تختہ بن جاوے گی۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ احتیاط یہ ہے کہ اس حدیث کو متشابہات میں سے مانو اس پر ایمان لاؤ مگر اس کا مطلب رب کے حوالہ کرو کیونکہ رب تعالٰی پنڈلی وغیرہ اعضاء سے پاک ہے۔بعض نے فرمایا کہ اپنے نور کی تجلی فرمائے گا،تجلی نور کو ساق سے تعبیر فرمایا گیا،قرآن کریم میں ہے "یَوْمَ یُکْشَفُ عَنۡ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوۡدِ"وہاں پنڈلی سے مراد انسانوں کی پنڈلی ہوسکتی ہے کہ ان پر ایسی مصیبت طاری ہوگی کہ ان کی پنڈلی کھولی جاوے گی مگر یہاں یہ مطلب نہیں ہوسکتا کیونکہ یہاں ساقہ فرمایا گیا کہ رب اپنی پنڈلی ظاہر فرمائے گا۔
۲؎ یہ اس وقت ہوگا جب کھلے کافر چھانٹ کر الگ کیے جاچکے ہوں گے یہاں صرف مؤمنین مخلصین اور منافقین رہ جائیں گے،یہ سجدہ مخلصین اور منافقین میں چھانٹ کے لیے ہوگا۔
۳؎ یعنی مخلصین تو درست سجدے کرلیں گے مگر ریاکار اور منافقین سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے مگر نہ کرسکیں گے،ان کی پیٹھ تختہ کی طرح اکڑ جاوے گی جس سے وہ بجائے سجدہ کے اوندھے گر جاویں گے۔یہ سجدہ مخلص و منافق میں چھانٹ کے لیے ہوگا مگر ان مخلصین میں متقی و گنہگار شامل ہوں گے،یہ سب اپنے رب کو سجدہ کریں گے اور صحیح کریں گے۔وہ سجدہ بڑے مزے کا ہوگا یار سامنے ہے گنہگار سجدہ میں گر رہا ہے،الله وہ سجدہ ہمیں بھی نصیب کرے۔شعر
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آلباس مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبیں نیاز میں
|
5543 -[12] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عندَ الله جَناحَ بعوضة» . وَقَالَ: " اقرؤوا (فَلَا نُقيمُ لَهُم يومَ القيامةِ وَزْناً) |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ایک بڑا موٹا آدمی قیامت کے دن آوے گا ۱؎ الله کے نزدیک مچھر کے پر برابر وزن نہ دے گا۲؎ اور فرمایا کہ یہ تلاوت کرو کہ ہم قیامت کے دن ان کا وزن نہ رکھیں گے۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ عظیم سے مراد ہے دنیا میں درجہ کا بڑا،سمین سے مراد ہے جسم کا موٹا تازہ فربہ یعنی وہ دنیا میں سردار مالدار بھی تھا اور تندرست و توانا بھی مگر تھا منافق یا کافر۔
۲؎ یعنی وہ کافر ومنافق اور اس کے اعمال مچھر کے پر برابر بھی وزن نہ دیں گے کیونکہ ان میں ایمان نہیں،وزن ایمان و اخلاص کا ہوتا ہے۔
۳؎ اس آیت کریمہ کے دو معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ وزن بمعنی میزان ہے یعنی ہم قیامت میں کفار کے لیے میزان قائم ہی نہیں کریں گے کیونکہ وہاں وزن باٹ سے نہ ہوگا بلکہ نیکیوں کا بدیوں سے ہوگا،کافر کے پاس نیکیاں ہی نہیں پھر وزن کیسا۔دوسرے یہ کہ وزن بمعنی بوجھ ہے اورمعنی یہ ہیں کہ کفار کی نیکیوں میں ہم وزن نہیں رکھیں گے کہ ان کی نیکیاں صدقات خیرات وغیرہ تولے جائیں گے مگر بہت ہی ہلکے ہوں گے۔یہ دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں کیونکہ قرآن کریم دوسری جگہ فرماتا ہے:"وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوٰزِیۡنُہٗ فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ"جس سے معلوم ہوا کہ کفار کی نیکیاں تولی جائیں گی مگر نہ اُٹھیں گی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع