30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی اپنی اولاد میں سے کفار کو جو آگ کا حصہ ہیں مؤمنین سے الگ کرو۔معلوم ہوا کہ یہ چھانٹ حضرت آدم علیہ السلام سے کرائی جاوے گی۔
۳؎ یہاں فی ہزار ایک جنتی فرمایا گیا باقی دوزخی،حضرت ابوہریرہ کی روایت فی سینکڑہ ایک جنتی تھا باقی دوزخی،اس فرق کی چند وجہ ہوسکتی ہیں: یا تووہاں یاجوج ماجوج کے سواء کے باقی انسانوں کا ذکر تھا اور یہاں مع یاجوج ماجوج کا ذکر ہے،یا وہاں صرف کفار کا ذکر تھا جو ہمیشہ کے دوزخی ہیں اور یہاں کفار اور مؤمن گنہگار سب شامل ہیں۔مؤمن گنہگار عارضی دوزخی ہیں یا وہاں صرف انسان کفار کا ذکر تھا یہاں جن و انس سارے کافروں کا ذکر ہے اور ممکن ہے کہ دونوں عدد کثرت و زیادتی بیان کرنے کے ہوں خاص تعداد مراد نہ ہو جیسے ہم کہتے ہیں جلسہ میں بیسیوں آدمی تھے۔
۴؎ یعنی اگر اس دن نومولود بچے اور عورتوں کے حمل ہوتے تو اس صدمہ سے بچے تو بڈھے ہوجاتے اور عورتیں حمل گرادیتیں اس فرمان کی دہشت سے۔
۵؎ یہاں حقیقت مراد ہے یعنی یہ سن کر لوگوں کے ہوش اڑ جاویں گے جیسے انہوں نے نشہ پیا ہے مگر یہ نشہ نہ ہوگا ہیبت الٰہی ہوگی۔اس سے بھی حضرات انبیاء کرام اور خاص اولیاء الله علیحدہ ہیں اور تمہیں اس دن نہ گھبراہٹ ہوگی نہ خوف،رب فرماتاہے:"لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ"اور فرماتاہے:"لَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ"۔
۶؎ حضرات سامعین پر خوفِ الٰہی ایسا طاری ہوا کہ وہ سمجھے ہم مؤمنین یا ہم صحابہ میں سے ایک فی ہزار جنتی ہوگا تب یہ عرض کی۔
۷؎ یعنی یہ تعداد صرف تم میں سے پوری نہ کی جاوے گی بلکہ اولین و آخرین جس میں قوم یاجوج اور قوم ماجوج بھی داخل ہے انہیں ملا کر پوری کی جاوے گی،اس لحاظ سے واقعی مؤمن ایک ہے اور کافر نوسو ننانوے تم کو اس کا کیا خوف۔
۸؎ یعنی اولًا تم لوگ تمام اولین و آخرین جنتیوں میں چہارم ہوگے کہ تین حصوں میں سارے جنتی انسان از آدم تا عیسیٰ علیہ السلام اور چوتھائی تم،پھر تم نصف تہائی ہوجاؤ گے پھر آدھے۔دوسری روایات میں ہے کہ دو تہائی جنتی حضور کی امت ایک تہائی میں سارے لوگ مگر اس طرح کہ مسلمان جنت میں آگے پیچھے پہنچیں گے،جب سارے مسلمان وہاں داخل ہوجائیں گے تب حضور کی امت ۳/۲ اور باقی امتیں ۳ /۱۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوزخی انسان زیادہ ہیں جنتی تھوڑے"وَ قَلِیۡلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ"لیکن جنت میں فرشتے اور حوروغلمان بھی ہوں گے،ان کا مجموعہ دوزخی جن وانسانوں سے بڑھ جاوے گا غلبت رحمتی علی غضبی اس طرح ہوگا۔
۹؎ اس سے معلوم ہوا کہ وعظ و تقریریں،اچھی خوشخبری،اعلٰی نکتہ سن کر نعرۂ تکبیر لگانا سنت صحابہ ہے جو آج کل بھی رائج ہے۔
۱۰؎ یعنی سارے مؤمنین یا میری امت کے سارے مؤمنین تمام کفار جن و انس کے مقابلہ ایسی نامعلوم نسبت رکھتے ہیں جیسے کالے بیل کی کھال میں ایک سفید بال۔خیال رہے کہ یہ نسبت سارے کفار کے لحاظ سے ہے مجموعہ کفار سے مسلمان واقعی تھوڑے ہیں ورنہ آج دنیا میں مسلمانوں کی مردم شماری ہر کافر قوم سے زیادہ ہے،آج مسلمان دنیا میں قریبًا ایک ارب ہیں ان کے بعد عیسائیوں کی تعداد ہے،پھر دوسری قوم کی لیکن اگر سب کافر ملائے جاویں اور قوم یا جوج ماجوج بھی ملالی جاوے تو اس مجموعہ میں مسلمان کالی گائے کی کھال میں ایک سفید بال ہی ہیں۔
|
5542 -[11] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِيَاءً وَسُمْعَةً فَيَذْهَبُ لِيَسْجُدَ فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا» . |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ ہمارا رب اپنی پنڈلی قدرت کھولے گا ۱؎ اور اسے ہر مؤمن مرد و عورت سجدہ کریں گے۲؎ وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دنیا میں دکھلاوے یا شہرت کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ سجدہ کرنے لگیں گے تو ان کی پیٹھ ایک تختہ بن جاوے گی۳؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع