30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶؎ یعنی یہ لوگ آپ کے پردہ فرمانے کے بعد یا منکر زکوۃ ہوکر یا مسیلمہ کذاب کے امتی بن کر مرتد ہوگئے تھے۔ فرشتوں کا یہ عرض کرنا ان مردودوں کو رسوا کرنے کے لیے ہوگا نہ کہ حضور انور کو مطلع کرنے کے لیے،حضور کو رب نے ہر غیب پر مطلع فرمادیا۔شعر
خدا مطلع ساخت برجملہ غیب علی کل شیئ خبیر آمدی
جو کہتے ہیں کہ یہ لوگ حضرت صدیق و فاروق ہوں گے وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگر صدیق وفاروق مرتد ہیں تو ان کے ہاتھ پر بیعت کر لینے والے اہلِ بیت اطہار پر کیا فتویٰ ہوگا،امام حسین نے یزید فاسق کی بیعت نہ کی تو ان حضرات نے حضرت صدیق اکبر و فاروق کی کیوں کرلی۔
۷؎ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان عالی اپنی بیزاری ظاہر فرمانے کے لیے ہے یعنی جب تک میں ان میں رہا ان کی نگرانی کرتا رہا، انہیں کفر سے بچاتا رہا،میری وفات کے بعد میری نگرانی ختم ہوگئی پھر تو جانے وہ جانے۔یہ عرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام عیسائی کفار کے متعلق کریں گے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم بھی اسی طرح عرض کریں گے۔
|
5536 -[5] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ جَمِيعًا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ؟ فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ» . |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں،ننگے بدن،بے ختنہ جمع کیے جائیں گے ۱؎ میں نے عرض کیا یارسول الله مرد و عورتیں سارے بعض بعض کو دیکھیں گے۲؎ تو فرمایا اے عائشہ وہ حال اس سے سخت تر ہوگا کہ بعض بعض کی طرف نظر بھی کریں۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ ناس فرماکر بتایا کہ یہ حالت عام لوگوں کی ہوگی حضرات انبیاء و خاص اولیاء کی یہ حالت نہیں جیساکہ پہلے عرض کیا گیا،نیز جنات جانوروں کے جمع ہونے کی اور نوعیت ہوگی وہ بھی الناس سے خارج ہیں۔
۲؎ یعنی رب تعالٰی پاکباز نیک بی بیوں کی بے پردگی کیوں فرمائے گا،وہ مردوں کے سامنے صرف بے پردہ ہی نہیں بلکہ ننگی ہوں،بڑا پیارا سوال ہے۔خیال رہے کہ ازواج پاک اور فاطمہ زہرہ باپردہ اٹھیں گی جیساکہ عرض کیا گیا کہ وہ خاص اولیاء الله میں داخل ہیں۔
۳؎ یعنی اس دن جلال و ہیبت حجاب بن جاوے گی کوئی کسی کو نہ دیکھے گا،سب کی نظر آسمان پر ہوگی قدم زمین پر، آج بھی بڑی آفت میں سامنے والا آدمی پاس کی چیز نظر نہیں آتی۔
|
5537 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ:يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟قَالَ:«أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟» . |
روایت ہے حضرت انس سے ایک شخص نے عرض کیا یا نبی الله قیامت کے دن کافر اپنے چہرے کے بل کس طرح محشر میں لایا جائے گا۱؎ فرمایا کہ جس نے دنیا میں دو پاؤں پر چلایا وہ اس پر قادر نہیں کہ اسے قیامت کے دن اس کے منہ کے بل چلائے۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ ان صاحب نے یہ سوال جب کیا جب کہ حضور انور نے خبر دی کہ کفار اپنے قبروں سے زمین حشر تک منہ کے بل گھسٹتے یا رینگتے ہوئے جائیں گے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع