30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ زمین کے قبضہ میں ہونے اور آسمانوں کے لپٹے ہوئے ہونے کے معنی ابھی کچھ پہلے عرض کیے گئے کہ یہ حدیث یا تو متشابہات میں سے ہے یا یمین سے مراد قدرت ہے اور مطویات کے معنی ہیں قبضہ میں ہونا اس صورت میں معنی ظاہر ہے۔
|
5525 -[5] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ:(يَوْمَ تُبَدَّلُ الأرضُ غيرَ الأَرْض والسَّماواتُ)فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «عَلَى الصِّرَاطِ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے رب تعالٰی کے اس فرمان کے متعلق پوچھا کہ جس دن زمین دوسری زمین سے اور آسمان بدل دیئے جائیں گے ۱؎ کہ اس دن لوگ کہاں ہوں گے فرمایا پل صراط پر ۲؎ (مسلم) |
۱؎ ۶خیال رہے کہ تبدیلی ذات جیسے کہا جاتا ہے کہ میں نے روپیہ کو پیسوں سے بدل لیا اور صفات کی تبدیلی جیسے کہا جاتا ہے کہ میں نے اس چھلے کو انگوٹھی سے بدل لیا یعنی اسے پگھلا کر انگوٹھی کی شکل میں بنا لیا۔قیامت کے دن تبدیلی زمین و آسمان کے متعلق دو قول ہیں: ایک یہ کہ زمین و آسمان کی ذات بدل دی جاوے گی کہ زمین چاندی کی اور آسمان سونے کے کردیئے جائیں گے۔ دوسرے یہ کہ ذات تو یہ ہی رہے گی مگر ان کے اوصاف بدل دیئے جائیں گے کہ زمین میں نہ پہاڑ رہیں گے،نہ غار،نہ دریا نہ نہریں،ساری زمین روئی کی طرح صاف ہوجاوے گی، پہلا احتمال قوی ہے کہ ذات ہی بدل دی جاوے گی ۔(مرقات، اشعہ)
۲؎ سوال کا مقصد یہ ہے کہ زمین بدلنے کی حالت میں زمین پر رہنے والے انسان کہاں جائیں گے وہ اس پر تو رہ نہیں سکتے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ام المؤمنین تبدیلی ذات ہی سمجھی ہیں حضور انور نے بھی اس کی تائید کی کہ فرمایا ہاں واقعی اس وقت لوگ اس زمین پر نہ ہوں گے بلکہ پل صراط پر ہوں گے۔(مرقات)یا کسی اور راستے پر ہوں گے ۔(اشعہ)
|
5526 -[6] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ مُكَوَّرَانِ يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ سورج و چاند قیامت کے دن سیاہ کردیئے جائیں گے ۱؎ (بخاری) |
۱؎ مکوران کے دو معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ ان دونوں کو ایسا لپیٹ دیا جاوے گا جیسے گیلا دھلا کپڑا لپیٹ کر گھر کے گوشہ میں ڈال دیا جاتا ہے،دوسرے یہ کہ چاند سورج بے نور کردیئے جائیں گے مگر سورج کی گرمی باقی رہے گی۔چنانچہ میدان حشر میں تجلی نور الٰہی کی ہوگی گرمی سورج کی، رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوۡرِ رَبِّہَا"غرضکہ عجیب نظارہ ہوگا۔
|
5527 -[7] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الصُّورِ قَدِ الْتَقَمَهُ وَأَصْغَى سَمْعَهُ وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ بِالنَّفْخِ» . فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: " قُولُوا: حَسْبُنَا اللَّهُ ونِعمَ الْوَكِيل ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں کیسے خوشی کروں حالانکہ صور والا فرشتہ ہاتھ میں لیے ہوئے ہے اور اپنے کان لگائے ہوئے ہے ۱؎ اور اپنی پیشانی جھکائے ہوئے ہے انتظار کر رہا ہے کہ کب پھونکنے کا حکم دیا جاوے ۲؎ لوگوں نے عرض کیا یارسول الله ہم کو آپ کیا حکم دیتے ہیں ۳؎ فرمایا کہو ہم کو الله کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے ۴؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع