30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ لہذا اگرچہ جنت میں سارے انسان جوان اور ساٹھ ہاتھ کے ہوں گے،دوزخی انسان اتنا بڑا کہ اس کی ایک داڑھ پہاڑ کی برابر مگر ہوں گے وہ ہی دنیا کے انسان کیونکہ ان کے اصل اجزاء وہ ہی ہوں گے روح وہ ہی ہوگی جو دنیا میں تھی لہذا اسلام کا محشر اور ہے آریوں کا تناسخ کچھ اور،حتی کہ جولوگ دنیا میں بندر سؤر بنادیئے گئے ان کے بھی اجزاء اصلیہ وہ ہی تھے اور روح وہ ہی تھی لہذا وہ بھی تناسخ نہیں۔
۵؎ ہمارا جسم پہلے مٹی تھا پھر دانہ بنا پھر آٹا پھر غذا پھر خون پھر نطفہ پھر گوشت کا ٹکڑا پھر یہ انسانی جسم مگر اصلی اجزاء ہر جگہ وہ ہی رہے ۔شعر
ہفت صد ہفتاد قالب دیدہ ام ہمچو سبزہ بارہا روئیدہ ام
|
5522 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ؟ ". |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله تعالٰی قیامت کے دن زمین کو سمیٹ لے گا ۱؎ اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ پر لپیٹ لے گا ۲؎ پھر فرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ۳؎ (مسلم، بخاری) |
۱؎ آج سائنس والے کہتے ہیں کہ اصل زمین ایک انچ کی تھی جسے پھیلا کر اتنا فراخ کردیا گیا ہے،ان کے قول پر تویہ حدیث بالکل ہی ظاہر ہے کہ زمین جتنی پہلے تھی اتنی ہی چھوٹی سی کردی جاوے،اسلام بھی کہتا ہے کہ پہلے زمین پانی پر جھاگ تھی یہ جھاگ کعبہ معظمہ کی جگہ محفوظ ہے وہ ہی زمین کی اصل ہیں قیامت میں بھی ایسی ہی کردی جاوے گی اس کی کیفیت رب تعالٰی ہی جانے۔
۲؎ قرآٓن کریم میں ہے "وَ الْاَرْضُ جَمِیۡعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیۡنِہٖ"یہ حدیث اس آیت کا بیان ہے۔ یمین کے معنی اگر داہنا ہاتھ ہے تو وہ آیت اور یہ حدیث متشابہات میں سے ہے کہ اس پر ایمان لاؤ اس میں بحث نہ کرو اور اگر اس سے مراد قدرت ہے تو معنی ظاہر ہیں کہ آسمان و زمین الله تعالٰی کی قدرت سے حقیر و ذلیل ہوں گے جیسے مٹھی کی چیز مٹھی والے کے ہاتھ میں یا ہاتھ پر لپٹی ہوئی چیز ہاتھ والے کے قبضے میں ہوتی ہے ایسے ہی آسمان و زمین اس کے قبضہ میں حقیر ہوں گے۔
۳؎ یعنی تمام بادشاہوں کی بادشاہت عارضی فانی تھی جو ختم ہوگئی ہماری بادشاہت اصلی دائمی ہے اس لیے فنا نہیں ہوئی۔خیال رہے کہ بادشاہ زمین ہی میں تھے وہ ہی تکبر و غرور کرتے تھے اس لیے الارض کی قید ارشاد ہوئی۔ آسمان کی مخلوق فرشتے وغیرہ نہ بادشاہ تھے نہ متکبرا نہیں علیحدہ فرما دیا، نیز صرف بادشاہوں کا ذکر فرمایا حضرات انبیاء اولیاء کا ذکر نہ فرمایا کہ ان حضرات نے تکبر کبھی نہیں کیا۔
|
5523 -[3] وَعَن عبد الله بن عَمْرو قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَطْوِي اللَّهُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟ ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ بِشِمَالِهِ وَفِي رِوَايَة: يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْأُخْرَى ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أينَ الجبَّارونَ أينَ المتكبِّرونَ؟ ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله تعالٰی قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹ دے گا ۱؎ پھر انہیں اپنے داہنے ہاتھ میں لے گا پھر فرمائے گا کہ میں بادشا ہوں کہاں ہیں جابر لوگ کہاں ہیں تکبر والے لوگ پھر زمینوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا ۲؎ اور ایک روایت میں ہے کہ انہیں اپنے دوسرے ہاتھ میں لے گا ۳؎ پھر کہے گا کہ میں بادشاہ ہوں کہاں ہیں جابر لوگ کہاں ہیں تکبر و غرور والے لوگ ۴؎ (مسلم) |
۱؎ آسمان ایسے لپیٹے جائیں گے جیسے دفتر لپیٹ دیئے جاتے ہیں، رب تعالٰی فرماتاہے:"یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ"۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع