دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

۹؎  شیطان کا انسان کے دل میں وسوسے ڈالنا اس کا ادنی فریب ہے مگر شکل انسانی میں آکر بہکانا اس کا بڑا ہی سخت فریب ہے جس سے بچنا مشکل ہے اس لیے قرآن مجید میں انسان شیطان کو جن شیطان سے سخت تر فرمایا کہ "شَیٰطِیۡنَ الۡاِنۡسِ وَ الْجِنِّ"۔(مرقات)وہ کہے گا کہ تم خدا رسی کا ذریعہ کیوں اختیار نہیں کرتے اللہ کی راہ سے کیوں بہکے ہوئے ہو۔

۱۰؎  یعنی تم لوگ بت پرسی کرو خدا رسی کے لیے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اولًا کسی چیز کی عبادت نہ کرتے ہوں گے نہ خدا تعالٰی کی نہ بتوں کی،جانوروں کی طرح یوں ہی زندگی گزارتے ہوں گے شیطان انہیں برے راستہ پر لگا دے گا۔

۱۱؎  یعنی ان پر بڑا عذاب یہ ہوگا کہ اس بے علمی بے عقلی بے دینی کے ساتھ ان کے پاس مال و دولت رزق بہت ہی وسیع ہوگا کہ اس سے ان پر گناہوں کے دروازے کھل جائیں گے۔

۱۲؎  لیت لام کے کسرہ سے گردن کی ایک طرف ایک حصہ کو کہتے ہیں یعنی وہ گھبراہٹ میں کبھی گردن کی داہنی کروٹ اونچی کرے گا بائیں نیچی کبھی اس کے برعکس۔اس کی یہ حرکت انتہائی گھبراہٹ میں ہوگی کہ کبھی وہ صور کی آواز داہنے کان سے سنے گا کبھی بائیں سے۔

۱۳؎  صور کی آواز لازمًا نہایت ہلکی اور باریک ہوگی جسے سوا اس شخص کے کوئی نہ سنے گا پھر آہستہ آہستہ تیز ہوتی جائے گی۔

۱۴؎  پہلے بے ہوش ہوں گے پھر فنا،یا بے ہوشی سے مراد ہلاکت ہے،اشعۃ اللمعات نے یہ ہی معنی کیے۔

۱۵؎  یہ واقعہ پہلے نفخہ سے چالیس سال بعد ہوگا اس دوران میں ان مردوں کے جسم گل چکے ہوں گے،اس بارش سے لوگوں کے جسم ایسے اگیں گے جیسے کھیت میں سبزہ اگتا ہے۔

۱۶؎  اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ جسموں کی بالیدگی تو اس ہلکی بارش سے ہوگی اور سب کا زندہ ہونا صور کی آواز سے ہوگا۔

۱۷؎  پہلا خطاب زندہ ہونے والے لوگوں سے تھا کہ اے زندہ ہونے والو یہاں سے میدان حشر کی طرف یعنی شام کی زمین کی طرف چلو، جب یہ لوگ وہاں پہنچ جائیں گے تب فرشتوں سے کہا جائے گا کہ انہیں یہاں کھڑا کردو یہاں ہی ان کا حساب ہوگا۔اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ فرشتوں کی نگرانی میں محشر تک جائیں گے اور انہیں فرشتے وہاں کھڑا کریں گے۔

۱۸؎  یہ سوال جواب رب تعالٰی اور ان فرشتوں کے درمیان ہوگا یعنی اے فرشتو تمام لوگوں میں سے آگ کے مستحقین کو الگ کردو تب وہ یہ سوال کریں گے کہ آگ کا حصہ کتنا ہے ،فرمایا جائے گا ہزار میں سے نو سو ننانوے۔اس فرمان عالی کی دو شرحیں ہیں: ایک یہ کہ نو سو ننانوے میں کفار گنہگار جو بھی دوزخ کے لائق ہیں سب ہوں گے،پھر سارے گنہگار حضور کی شفاعت سے بخش دیئے جائیں گے،بعض تو یہاں ہی اور بعض دوزخ میں سزا پاکر صرف کفار وہاں رہیں گے۔ دوسری شرح یہ ہے کہ محشر کی اس جماعت میں یاجوج ماجوج بھی ہوں گے ان کی تعداد کا یہ حال ہے کہ یہاں بیرونی زمین کے انسان ان کے مقابلے میں فی ہزار ایک ہیں۔(اشعۃ اللمعات)بہرحال یہ خطاب بہت ہی ہولناک ہوگا۔

۱۹؎  یعنی اس دن کی وحشت و دہشت کا یہ حال ہوگا کہ اگر اس دن بچے ہوتے تو بڈھے ہوجاتے غم و اندوہ کی وجہ سے۔ پنڈلی کھلنے سے مراد ہے سخت پریشان ہونا یعنی لوگوں کو اس وقت انتہائی پریشانی ہوگی۔مرقات نے فرمایا کہ جب حاملہ اونٹنی کے پیٹ میں بچہ مرجاتا ہے تو آدمی ہاتھ ڈال کر اسے نکالتا ہے،پہلے اس بچہ کی پنڈلی نمودار ہوتی ہے،یہ اونٹنی پر سخت تر وقت ہوتا ہے،پھر محاورہ میں ہر مشکل میں پھنسنے کو پنڈلی کھل جانے سے سے تعبیر کیا جا تاہے۔قرآن مجید میں جو ارشاد ہوا  "یَوْمَ یُکْشَفُ عَنۡ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوۡدِ"

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن