30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5189 -[35] وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَغْبَطُ أَوْلِيَائِي عِنْدِي لَمُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ ذُو حَظٍّ مِنَ الصَّلَاةِ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَأَطَاعَهُ فِي السِّرِّ وَكَانَ غَامِضًا فِي النَّاسِ لَا يُشَارُ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ وَكَانَ رِزْقُهُ كَفَافًا فَصَبَرَ عَلَى ذَلِكَ» ثُمَّ نَقَدَ بِيَدِهِ فَقَالَ: «عُجِّلَتْ مَنِيَّتُهُ قَلَّتْ بَوَاكِيهِ قَلَّ تُراثُه» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه |
رو ایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا میرے دوستوں میں زیادہ قابل رشک میرے نزدیک وہ مسلمان ہے جو کم سامان والا نماز کے بڑے حصہ والا ہو ۱؎ اپنے رب کی عبادت خوب اچھی طرح کرے اور خفیہ اس کی اطاعت کرے اور لوگوں میں چھپا ہوا رہے کہ اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ نہ کیے جاویں۲؎ اس کا رزق بقدر ضرورت ہو اس پر صبر کرے ۳؎ پھر حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے چٹکی بجائی فرمایا اس کی موت جلد آجاوے ۴؎ اس پر رونے والیاں کم ہوں اس کی میراث تھوڑی کم ہو ۵؎ (احمد،ترمذی،ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی اس کے پاس اپنی ذات کے لیے سامان دنیا کم ہو عبادات زیادہ ہوں لہذا حضرت عثمان اور دوسرے امیر صحابہ اس میں داخل نہیں کہ ان کے پاس مال دین کے لیے تھے ا پنی ذات کے لیے نہ تھے۔عمر فاروق اپنی خلافت کے زمانہ میں ایک کرتا دھو دھو کر پہنتے تھےرضی الله عنہم۔
۲؎ یعنی وہ خود اپنی شہرت و عزت کی کوشش نہ کرے اگر رب تعالٰی اسے قدرتی طور پر شہرت دے دے تو اس کی مہربانی لہذا اس حدیث میں مشہور اولیاء الله و علماء دین جن کی چوکھٹوں کو دنیا اب بھی چومتی ہے ضرور داخل ہیں کہ یہ شہرت انہوں نے خود نہ چاہی رب نے انہیں مشہور کردیا یہ بشارت عاجلہ کہلاتی ہے۔
۳؎ مقصد یہ ہے کہ اگر اسے توانگری نہ ملے تو بے صبری نہ کرے راضی بہ رضا رہے۔
۴؎ یعنی بہت آسانی سے ان کی جان نکل جائے جس کے دل میں دنیا کی محبت بہت ہواس کی جان بڑی مصیبت سے نکلتی ہے،اسے نزع کی تکلیف کے ساتھ دنیا چھوٹنے کا غم بھی ہوتا ہے،مؤمن کو موت کے وقت حضور سے ملنے کی ایسی خوشی نصیب ہوتی ہے کہ وہ شدت نزع کو محسوس نہیں کرتا،وہ سمجھتا ہے کہ زندگی میں مجھے مدینہ منورہ کی حاضر ی مشکل تھی اب میری قبر ہی مدینہ میں بن جائے گی یہ مطلب نہیں کہ اس کی عمر کم ہو۔(مرقات)لہذا یہ فرمان اس حدیث کے خلاف نہیں کہ مؤمن کی دراز عمر اﷲ کی رحمت ہے۔
۵؎ یہ کمی یا اس لیے ہو کہ وہ غریب اور غیر مشہور تھا یا اس لیے کہ اس نے رونے پیٹنے سے زندگی ہی میں منع کردیا تھا اور مال اﷲ کی راہ میں زندگی میں بہت کچھ خرچ کردیا تھا۔
|
5190 -[36] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي لِيَجْعَلَ لِي يطحاء مَكَّة ذَهَبا فَقلت: لَا يارب وَلَكِنْ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوعُ يَوْمًا فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ وَإِذَا شَبِعَتُ حَمِدْتُكَ وَشَكَرْتُكَ".رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجھ پر میرے رب نے پیش فرمایا کہ میرے لیے مکہ کی زمین کو سونا بنادے ۱؎ تو میں نے عرض کیا یارب نہیں ۲؎ لیکن میں ایک دن سیر ہوا کروں اور ایک دن بھوکا رہوں تو جب بھوکا رہوں تو تیری طرف عاجزی کروں تجھے یاد کروں اور جب سیر ہوؤں تو تیری حمد کروں اور تیرا شکر کروں ۳؎ (احمد،ترمذی) |
۱؎ یعنی رب تعالٰی نے مجھ پر دو چیزیں پیش فرمائیں: ایک یہ کہ مکہ معظمہ کے پہاڑوں ، وہاں کے پتھروں، کنکروں کو سونے کا بنا دیا جائے ،دوسرے یہ کہ سارا سونا میری اکیلے کی واحد ملکیت رہے کسی اور کااس پر قبضہ نہ ہو۔ بطحاء کہتے ہیں اس میدان کو جس میں کنکر پتھر پہاڑ ہوں یعنی پتھریلی زمین۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع