30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5520 -[5] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ» لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ عَامًا «فَيَبْعَثُ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ ثُمَّ يَمْكُثُ فِي النَّاسِ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ فَلَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ دَخَلَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ حَتَّى تَقْبِضَهُ» قَالَ: " فَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ أَلَا تَسْتَجِيبُونَ؟ فَيَقُولُونَ: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الْأَوْثَانِ وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا " قَالَ: " وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ فَيَصْعَقُ وَيَصْعَقُ النَّاسُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ فَيَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَيُّهَا الناسُ هَلُمَّ إِلى ربِّكم وقفوهُم إِنَّهم مسؤولونَ. فَيُقَالُ: أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ. فَيُقَالُ: مِنْ كَمْ؟ كَمْ؟ فَيُقَالُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ " قَالَ: «فَذَلِكَ يَوْمَ يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا وَذَلِكَ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذُكِرَ حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ:«لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ»فِي«بَاب التَّوْبَة» |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دجال نکلے گا تو چالیس تک پھرے گا میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا مہینے یا سال ۱؎ پھر اللہ تعالٰی عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا گویا وہ عروہ ابن مسعود ہیں۲؎ آپ اسے تلاش کریں گے ہلاک کردیں گے پھر آپ لوگوں میں سات سال ٹھہریں گے۳؎ کہ دو شخصوں کے درمیان دشمنی نہ ہوگی۴؎ پھر اللہ ایک ٹھنڈی ہوا شام کی طرف سے بھیجے گا ۵؎ تو روئے زمین پر کوئی نہ رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھلائی یا ایمان ہو مگر وہ ہوا اسے وفات دیدے گی حتی کہ اگر تم میں سے کوئی وسط پہاڑ میں داخل ہوجائے تو وہ اس تک داخل ہوگی کہ اسے وفات دیدے گی ۶؎ فرمایا پھر بدترین لوگ ہی رہ جائیں گے چڑیوں کی طرح ہلکے درندوں کی سی والے ۷؎ نہ کسی اچھی بات کو جانیں گے نہ کسی برائی کو برا جانیں گے۸؎ ان کے پاس شیطان انسانی شکل اختیار کے آوے گا کہے گا تم شرم کیوں نہیں کرتے ۹؎ وہ کہیں گے تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے وہ انہیں بت پرستی کا حکم دے گا۱۰؎ وہ اس حال میں ہوں گے ان کا رزق بہتا ہوگا ان کا عیش خوب ہوگا ۱۱؎ پھر صور پھونکا جاوے گا تو اسے کوئی نہیں سنے گا مگر گردن کبھی جھکائے گا اور کبھی اٹھائے گا ۱۲؎ فرمایا پہلا جو شخص سنے گا وہ شخص ہوگا جو اپنے اونٹ کا حوض پیتا ہوگا ۱۳؎ پھر لوگ بے ہوش ہوجائیں گے۱۴؎ پھر اللہ شبنم کی طرح بارش بھیجے گا تو اس سے لوگوں کے جسم اُوگیں گے ۱۵؎ پھر صور میں دوبارہ پھونکا جاوے گا تو اچانک سب لوگ کھڑے دیکھتے ہوں گے۱۶؎ پھر کہا جاوے گا اے لوگو اپنے رب کی طرف چلو انہیں ٹھہراؤ ان سے پوچھ گچھ کی جاوے گی ۱۷؎ پھر کہا جاوے گا آگ کی رسد نکالو تو کہا جاوےگا کتنی سے کتنی تو فرمایا جاوے گا ہر ہزار سے نو سو ننانونے ۱۸؎ فرمایا کہ وہ وقت ہوگا جو بچوں کو بڈھا کر دے گا اور یہ وہ دن ہوگا جب پنڈلی کھولی جاوے گی ۱۹؎(مسلم)اور جناب معاویہ کی حدیث لاتنقطع الھجرۃ توبہ کے باب میں ذکر کردی گئی ۲۰؎ |
۱؎ یہ شک ان راوی کو ہے کہ حضور انور نے کیا فرمایا کہ چالیس دن فرمائے یا چالیس ماہ یا سال ورنہ حضور انور نے چالیس دن فرمایا ایک دن ایک سال کی برابر وغیرہ۔
۲؎ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت عروہ ابن مسعود کے ہم شکل ہوں گے،عروہ ابن مسعود سیدنا عبداللہ ابن مسعود کے بھائی ہیں، بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ عروہ ابن مسعود ثقفی ہیں جوصلح حدیبیہ کے دن کفار کی طرف سے حضور انور کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے،پھر ۹ھ میں غزوہ طائف کے بعد یہ اسلام لائے پھر اپنی قوم کو دعوتِ اسلام دی جس پر قوم نے انہیں قتل کردیا،یہ عبداللہ ابن مسعود کے بھائی نہیں کہ وہ تو عبداللہ ابن مسعود ابن غافل ہذلی ہیں یہ ہی صحیح ہے۔(مرقات)
۳؎ اس کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہے کہ بعض روایات میں ہے چالیس سال،بعض میں ہے سات،سال والی روایات میں آپ کا پہلا قیام جو ۳۳ سال تھا اور سات سال یہ قیام بعد نزول والا ملا کر مراد ہے اور بھی زیادہ کی روایات ہیں۔
۴؎ یعنی ان سات سال میں تمام دنیا میں اسلام ہی ہوگا سب مسلمان متقی ہوں گے،سب کے سینے کینہ سے پاک و صاف ہوں گے۔
۵؎ حضرت عیسیٰ کے پردہ فرمانے کے بعد کچھ عرصہ تو یہ ہی خیر و برکت رہے گی،پھر انسان کافر بھی ہونے لگیں گے حتی کہ کچھ عرصہ بعد دنیا میں کفار بھی بہت ہوجائیں گے لہذا حدیث شریف واضح ہے۔اس پر یہ اعتراض نہیں کہ جب سارے انسان مسلمان ہوچکے تھے تو اس کے ہوا چلنے پر کافر کہاں سے آئے جو زندہ رہے۔
۶؎ خلاصہ یہ ہے کہ اس ہوا سے کوئی مسلمان کسی طرح بچے گا نہیں جہاں بھی ہوگا وفات پاجائے گا۔یہ موت اللہ تعالٰی کی بڑی رحمت ہوگی کہ بدترین لوگوں میں مسلمان نہ رہیں گے ہم کو اس دعا کی تعلیم دی گئی ہے و توفنا مع الابرار۔
۷؎ یعنی وہ لوگ بالکل بے عقل ہوں گے اور سخت خونخوار۔چڑیا ہر کام میں جلدی کرتی ہے ایسے ہی وہ ہر برائی بغیر سوچے سمجھے جلدی کریں گے گویا گناہ پر اڑ کر پہنچیں گے اور بے رحمی،غصہ وحشت،بربریت طیش میں خونخوار درندوں کی طرح ہوں گے،بغیر سوچے سمجھے ایک دوسرے کو بات بات پر قتل و غارت کریں گے۔
۸؎ بلکہ برعکس اچھائیوں کو برا سمجھیں گے اور برائیوں کو اچھا سمجھیں گے،عقل و علم سے خالی ہوں گے اور ساتھ ہی بڑے مالدار ہوں گے،جب مال ہو مگر عقل،دین،علم نہ ہو تو مال زہر ہے،مال سانپ ہے جس کا تریاق دین ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع