30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے حضرت جریر ابن عبداللہ اور دیگر غازی صحابہ کرام کے ذریعہ آگ سے جلوا کر فنا کروا دیا تھا۔یہاں ارشاد ہورہا ہے کہ قریب قیامت دوس کے کفار پھر اس بت خانہ کو آباد کریں گے اور وہاں کے لوگ اس کا طواف کریں گے۔عورتوں کے چوتڑ ہلنے سے مراد ہے کہ ان کی عورتیں تک اس بت خانہ کے اردگرد طواف کعبہ کی طرح چکر لگائیں گی حالانکہ مردوں کے مقابلہ میں عورتیں دین پر بہت پختہ ہوتی ہیں اس وقت وہ بھی بہک جائیں گی۔
۲؎ خلصہ بت کا نام تھا اور ذوالخلصہ بت خانہ کا نام یعنی خلصہ والا گھر،یہ تفسیر یا تو حضرت ابوہریرہ کی ہے یا کسی اور راوی کی۔
|
5519 -[4] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:«لَا يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزَّى». فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ:(هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ)أَنَّ ذَلِكَ تَامًّا. قَالَ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتُوُفِّيَ كُلُّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَيَبْقَى مَنْ لَا خَيْرَ فِيهِ فَيَرْجِعُونَ إِلَى دِين آبَائِهِم» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ رات و دن ختم نہ ہوں گے حتی کہ لات و عزیٰ کی پرستش کی جانے لگے ۱؎ میں نے عرض کیا یارسول اللہ میں گمان کرتا تھا کہ جب یہ آیت کریمہ اتری کہ وہ اللہ وہ ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور حق دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ مشرکین ناپسند کریں کہ یہ لازوال ہے۲؎ فرمایا کہ جس قدر اللہ چاہے گا تب تک رہے گا۳؎ پھر اللہ تعالٰی ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا تو ہر وہ شخص وفات دے دیا جاوے گا۴؎ جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہے تو وہ باقی رہ جائیں گے،جن میں بھلائی نہیں وہ اپنے باپ دادوں کے دین کی طرف لوٹ جائیں گے ۵؎ (مسلم) |
۱؎ لات بنا ہے لت سے بمعنی ستو گوندھنا،لات ایک شخص تھا جو حاجیوں کے لیے ستو گھولا اور گوندھا کرتا تھا،اس کے مرے بعد قبیلہ ثقیف نے ایک بت رکھ لیا۔عزیٰ قبیلہ غطفان کا بت تھا یہ دونوں پہلے کعبہ معظمہ میں تھے،قریب قیامت جب کعبہ معظمہ ڈھا دیا گیا ہوگا مکہ کے لوگ مشرک ہوکر پھر لات و عزیٰ بت بنا کر اسے پوجنے لگیں گے۔خیال رہے کہ جب تک دنیا میں اسلام،قرآن،کعبہ معظمہ ہے تب تک حجاز مقدس میں بت پرستی ہرگز نہیں ہوسکتی،جب روئے زمین سے یہ چیزیں اٹھ جائیں گی تب حجاز میں بھی مشرکین اور بت پرستی ہوگی لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ شیطان حجاز والوں سے شرک نہیں کرا سکتا کیونکہ قریب قیامت تو روئے زمین پر کہیں ایک مسلمان نہ ہوگا تو حجاز میں مؤمن کہاں سے آئیں گے۔
۲؎ یعنی میں نے لیظھرہ کے معنی یہ سمجھے تھے کہ اب دنیا سے اسلام کبھی بھی ختم نہ ہوگا مگر حضور والا کے فرمان عالی سے معلوم ہورہا ہے کہ قریب قیامت اسلام بھی ختم ہوجاوے گا میرا یہ خیال درست نہ نکلا مجھے اس پر تعجب ہے۔
۳؎ سبحان اﷲ! کیسا پیارا محققانہ جواب ہے یعنی اسلام دین تام بھی ہے غالب بھی مگر اس غلبہ کی ایک حد ہے جس پر پہنچ کر ختم کردیا جاوے گا۔سورج یقینًا منور ہے مگر بعد غروب سورج کالا نہیں ہوجاتا بلکہ زمین اس کا فیض لینے سے محروم ہوجاتی ہے،نقصان سورج میں نہیں آیا زمین کے فیض لینے میں آیا لہذا اسلام تام ہی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع