30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب لا تقوم الساعۃ الا علی شرار الناس
قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر ۱؎
۱؎ بدترین سے مراد کفار اور بدکار ہیں یعنی مؤمنین صالحین قیامت سے پہلے ہی مرچکے ہوں گے جیساکہ پہلےگزر چکا۔ نیکوں کا وجود دنیا کا تعویذ ہے جب تک یہ لوگ ہیں قیامت نہیں آسکتی۔
|
5516 -[1] عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ: اللَّهُ اللَّهُ ". وَفِي رِوَايَةٍ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى أَحَدٍ يَقُولُ: اللَّهُ الله ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ نہ قائم ہوگی قیامت حتی کہ زمین میں اللہ اللہ نہ کہا جاوے گا ۱؎ اور ایک روایت میں ہے کہ اس شخص پر قیامت نہ قائم ہوگی جو اللہ اللہ کہتا ہو ۲؎(مسلم) |
۱؎ اللہ اللہ کی تکرار تاکید کے لیے ہے یعنی اس وقت کوئی ایسا آدمی نہ رہے گا جو اللہ کا نام لے اس وقت سارے انسان بت پرست کفار ہوں گے۔معلوم ہوا کہ عالم کا بقا علماءوعاملین اور صالحین کی برکت سے ہے،معلوم ہوا کہ علماء صالحین کی برکت،جن،فرشتے،حیوانات، جمادات،نباتات سب کو پہنچتی ہے کہ ان کی وجہ سے یہ تمام قیامت کی وحشت سے امن میں ہیں۔(مرقات) اس لیے حدیث شریف میں آیا ہے علماء کی بقاء کے لیے پانی میں مچھلیاں دعا کرتی ہیں۔
۲؎ یہاں احد سے مراد انسان ہیں ورنہ فرشتے تو اس وقت بھی اللہ اللہ کرتے ہوں گے۔
|
5517 -[2] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ الْخَلْقِ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت قائم نہ ہوگی مگر بدترین مخلوق پر ۱؎(مسلم) |
۱؎ شرار سے مراد عقائد،اعمال،اخلاق میں بدترین۔خلق سے مراد صرف انسان ہیں یعنی جن انسانوں پر قیامت قائم ہوگی وہ سارے کافر بے حیا بدکار بے شرم ہوں گے،نیکی کا نام بھی نہ لیں گے،فرشتے اس وقت ہوں گے جو اللہ اللہ کرتے ہوں گے لہذا اس حدیث پر کوئی اعتراض نہیں گناہ انسان یا جنات ہی کرتے ہیں دوسری مخلوق نہیں کرتی۔
|
5518 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلَيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ حَوْلَ ذِي الْخَلَصَةِ».وَذُو الْخَلَصَةِ: طَاغِيَةُ دَوْسٍ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ دوس کی عورتوں کے چوتڑ ذی الخلصہ کے اردگرد تھل تھل ہوں گے ۱؎ اور ذوالخلصہ دوس کا وہ بت ہے جس کی وہ زمانہ جاہلیت میں پوجا کرتے تھے ۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ دوس یمن کے ایک قبیلہ کا نام ہے،اس ہی قبیلہ کے حضرت ابوہریرہ تھے،دوسی کفار نے کعبہ معظمہ کے مقابلہ میں ایک بت خانہ بنایا تھا جس میں ایک بت تھا خلصہ نام اس لیے اس گھر کو کعبہ یمانیہ بھی کہتے تھے اور ذوالخلصہ بھی۔اس ذوالخلصہ کو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع