30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5512 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْأَعْرَابِ يَأْتُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلُونَهُ عَنِ السَّاعَةِ فَكَانَ يَنْظُرُ إِلَى أصغرِهم فَيَقُول:«إِنْ يَعِشْ هَذَا لَا يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُمْ» . |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ دیہاتی لوگ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آتے تھے تو آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے تھے ۱؎ تو آپ ان میں سے سب سے چھوٹے کی طرف نظر فرماتے تھے کہ اگر یہ زندہ رہا تو اسے بڑھاپا نہ آئے گا کہ حتی کہ تم پر تمہاری قیامت قائم ہوجاوے گی ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ وہ لوگ ساعت سے قیامت کبریٰ یعنی حشرونشر کا دن مراد لیتے تھے،پوچھتے تھے کہ اب سے کتنے عرصہ بعد قیامت کبریٰ قائم ہوگی،حضور انور جواب میں یہ نہ فرماتے تھے کہ تم مشرک ہوگئے کہ تم نے قیامت کا سوال مجھ سے کیا یہ تو اللہ تعالٰی ہی کو معلوم ہے کسی اور کو اس کا علم ماننا شرک ہے کفر ہے بلکہ احسن طریقہ سے اس سوال کا جواب دیتے تھے۔
۲؎ یہاں ساعت سے مراد قیامت صغریٰ یعنی ہر ایک کی اپنی موت ہے یا قیامت وسطیٰ یعنی اس قرن کا ختم ہوجانا۔یہ جواب حکیمانہ ہے کہ تم بڑی قیامت کی فکر کیوں کرتے ہو،تم اپنی قیامت کی فکر کرو یعنی موت کی وہ بہت قریب ہے اسی بچہ کے بڑھاپے سے پہلے تم سب مرجاؤ گے۔
|
5513 -[5] عَن الْمُسْتَوْرد بن شَدَّاد عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«بُعِثْتُ فِي نَفَسِ السَّاعَةِ فَسَبَقْتُهَا كَمَا سَبَقَتْ هذِه هذِه» وأشارَ بأصبعيهِ السبَّابةِ وَالْوُسْطَى. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت مستورد ابن شداد سے ۱؎ وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا میں قیامت کے اندر بھیجا گیا ہوں ۲؎ تو میں قیامت سے اس طرح پہلے ہوں جیسے یہ انگلی اس سے اور اپنی دو انگلیوں کلمہ کی اور بیچ کی طرف اشارہ کیا۳؎(ترمذی) |
۱؎ آپ بہت کمسن صحابی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت چھوٹے بچے تھے مگر آپ سے بہت احادیث مروی ہیں اولًا کوفہ میں پھر مصر میں رہے۔
۲؎ یعنی میری بعثت اس وقت ہوئی ہے جب علامات قیامت شروع ہوچکی ہیں۔بعض شارحین نے فرمایا کہ نفس سے مراد ابتداء ہے جب کہ اس کی نشانیاں ظاہر ہونے لگی ہیں،اسی سے ہے"وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ"بلکہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم کی تشریف آوری علامت قیامت ہے۔
۳؎ اس جملہ کی شرح ابھی گزر گئی۔اس میں اشارۃً فرمایا کہ ہم قیامت کے پڑوسی ہیں جیسے ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی سے بے خبر نہیں ہوتا ایسے ہی ہم قیامت سے بے خبر نہیں اور جیسے بیچ کی انگلی کچھ ہی بڑی ہے پہلی انگلی سے یونہی قیامت کچھ ہی دور ہے،ہم سے ہماری آمد ہوچکی اب قیامت ہی کاانتظار کرو۔
|
5514 -[6] وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَعْجِزَ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّهَا أَنْ يُؤَخِّرَهُمْ نِصْفَ يَوْمٍ».قِيلَ لِسَعْدٍ: وَكَمْ نِصْفُ يَوْمٍ؟ قَالَ: خَمْسُمِائَةِ سَنَةٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ میں امیدکرتا ہوں کہ میری امت اپنے رب کے نزدیک اس سے عاجز نہیں ہوگی انہیں آدھے دن کی مہلت دے ۱؎ سعد سے کہا گیا کہ آدھا دن کتنا فرمایا پانچ سو سال ۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ اس فرمان کے بہت مطلب بیان کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ اللہ تعالٰی پانچ سو سال تک میری امت کو اعمال کرنے کی مہلت ضرور دے گا کہ اس سے پہلے قیامت نہ آوے گی،اس سے زیادہ مہلت دے دے تو اس کی مہربانی ہے۔ الحمدﷲ یہ خبر بالکل درست ہوئی اب قریبًا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع