30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5504 -[11] وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَلَدَتْ غُلَامًا مَمْسُوحَةٌ عَيْنُهُ طَالِعَةٌ نَابُهُ فَأَشْفَقَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم إِن يَكُونَ الدَّجَّالَ فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ. فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ فَخَرَجَ مِنَ الْقَطِيفَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ؟ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ " فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَقْتُلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن يكن هُوَ فَلَيْسَتْ صَاحِبَهُ إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ وَإِلَّا يكن هُوَ فَلَيْسَ لَك أتقتل رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ» . فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشْفِقًا أَنَّهُ هُوَ الدَّجَّال. رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ ایک یہودیہ عورت نے مدینہ منورہ میں ایک بچہ جنا جس کی ایک آنکھ سپاٹ تھی اس کی ڈاڑھ اگی ہوئی تھی ۱؎ تو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے خوف کیا کہ یہ ہی دجال ہوگا۲؎ اسے ایک کمبل کے نیچے پایا گنگنا رہا تھا۳؎ اس کی ماں نے خبر دیدی بولی اے الله کے بندے یہ ابوالقاسم ہیں۴؎ تو وہ کمبل سے نکل پڑا تب رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا خدا اسے غارت کرے اسے کیا ہوا ۵؎ اگر یہ اسے چھوڑ دیتی تو یہ بیان کر دیتا،پھرحضرت ابن عمر کی حدیث کے معنی کی مثل ذکر کیا تب جناب عمر ابن خطاب نے عرض کیا یارسول الله صلی اللہ علیہ و سلم مجھے اجازت دیں کہ میں اسے قتل کردوں ۶؎ تو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہ ہی ہے تو اسکے قاتل تم نہیں اس کے قاتل حضرت عیسیٰ ابن مریم ہیں۷؎ اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو تمہیں مناسب نہیں کہ ذمہ والوں میں سے کسی کو قتل کرو ۸؎ پھر رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم اس سے خوف فرماتے رہے کہ یہ دجال ہو ۹؎(شرح سنہ) |
۱؎ معلوم ہوتا ہے کہ وہ پیدائشی کانا اور ڈاڑھ والا تھا،حدیث پاک کے ظاہری معنی یہ ہی ہیں۔بعض شارحین نے کہا کہ یہاں ناب جنسی معنی میں ہے۔مطلب یہ ہے کہ اس کی ساری ڈاڑھیں کیلیں پیدائشی تھیں۔
۲؎ اس کے متعلق عرض کیا جاچکا کہ یہاں دجال سے مراد چھوٹا دجال ہے اور ممکن ہے کہ بڑا دجال ہی مراد ہو اور یہ پہلے کا واقعہ ہو بعد میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے بڑے دجال کی بہت سی نشانیاں بیان فرمائی ہوں۔
۳؎ اس گنگنانے میں وہ اپنے حالات خصوصی بیان کررہا تھا کہ میں یہ ہوں میں وہ ہوں،وہ سب کچھ ہی کہہ جاتا اگر اسے روکا نہ جاتا۔
۴؎ یعنی یہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں تو اپنا گنگنانا چھوڑ،ان کا ادب و احترام کر۔معلوم ہوتا ہے کہ ماں کی نیت بری نہ تھی اور منظور الٰہی یہ تھا کہ ابن صیاد کے حالات پردہ میں ہی رہیں۔
۵؎ یعنی اسے سوجھ گیا کہ میری خبر ابن صیاد کو دے کر اسے خاموش کر دیا کچھ دیر خاموش رہی ہوتی۔خیال رہے کہ عربی میں قاتلہ الله اظہار غضب کے لیے کہا جاتا ہے،اس سے بد دعا مقصود نہیں ہوتی،رب تعالٰی فرماتاہے:"قٰتَلَہُمُ اللہُ اَنّٰی یُؤْفَکُوۡنَ"۔
۶؎ کیونکہ یہ بڑا فتنہ گر فسادی ہوگا اگرچہ یہ ابھی بے قصور بچہ ہے مگر حضرت خضر نے بھی تو ایک بے قصور بچہ کو اس لیے قتل کیا کہ وہ آگے چل کر فساد پھیلاتا مجھے بھی اس کے قتل کی اجازت دیجئے تاکہ فساد کی جڑ کٹ جائے۔
۷؎ یعنی اگر یہ وہ ہی بڑا دجال ہے جس کا خروج قریب قیامت ہوگا تو تم اس کے قتل پر قادر نہ ہو گے کہ یہ ارادۂ الٰہی کے خلاف ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع