دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

5503 -[10]

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «يمْكث أَبُو الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَهُمَا وَلَدٌ ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضْرَسُ وَأَقَلُّهُ مَنْفَعَةً تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ» . ثُمَّ نَعَتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ فَقَالَ: «أَبُوهُ طُوَالٌ ضَرْبُ اللَّحْمِ كَأَنَّ أَنْفَهُ مِنْقَارٌ وَأُمُّهُ امْرَأَةٌ فِرْضَاخِيَّةٌ طَوِيلَةُ الْيَدَيْنِ» . فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: فَسَمِعْنَا بِمَوْلُودٍ فِي الْيَهُود. فَذَهَبْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبَوَيْهِ فَإِذَا نَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمَا فَقُلْنَا هَلْ لَكُمَا وَلَدٌ؟ فَقَالَا: مَكَثْنَا ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَنَا وَلَدٌ ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضْرَسُ وَأَقَلُّهُ مَنْفَعَةً تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالَ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمَا فَإِذَا هُوَ مجندل فِي الشَّمْسِ فِي قَطِيفَةٍ وَلَهُ هَمْهَمَةٌ فَكَشَفَ عَن رَأسه فَقَالَ: مَا قلتما: وَهَلْ سَمِعْتَ مَا قُلْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا ينَام قلبِي رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابوبکر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دجال کا باپ تیس سال تک لاولد رہے گا کہ اس کے ۱؎  اولاد نہ ہوگی پھر ان کے کانا بڑی ڈاڑھ والا کم نفع والا لڑکا پیدا ہوگا۲؎ جس کی آنکھیں سوئیں گی اس کا دل نہ سوئے گا۳؎ پھر رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے ماں باپ کا ذکر فرمایا تو فرمایا کہ اس کا باپ دراز قد دبلا ہوگا گویا اس کی ناک چونچ ہے اور اس کی ماں موٹی لمبے ہاتھ والی عورت ہے۴؎  ابوبکر کہتے ہیں کہ ہم نے مدینہ منورہ میں یہود میں ایک بچہ سنا تو میں اور زبیر ابن عوام گئے ۵؎ حتی کہ ہم اس کے ماں باپ کے پاس گئے تو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کے بیان کردہ اوصاف ان دونوں میں تھے ۶؎ تو ہم نے کہا کیا تمہارے کوئی بچہ ہے تو وہ دونوں بولے ہم تیس سال رہے کہ ہمارے اولاد نہ ہوئی پھر ہمارے کانا۷؎  بڑی ڈاڑھ والا بچہ پیدا ہوا کم نفع والا جس کی آنکھیں سوتی اور اس کا دل نہیں سوتا۸؎  فرماتے ہیں کہ ہم ان کے پاس سے نکلے تو وہ دھوپ میں ایک کمبل میں لیٹا ہوا تھا اس کی کچھ گنگناہٹ تھی ۹؎ تو اس نے اپنا سر کھولا تو بولا کہ تم نے کیا کہا ہم نے کہا کہ کیا تم نے ہماری بات سن لی بولا ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۱۰؎(ترمذی)

۱؎ یہ وہ علامات ہیں جن کی بناء پر بعض صحابہ کو یقین ہوگیا کہ ابن صیاد دجال ہے۔ممکن ہے اس حدیث میں دجال سے مراد بڑا دجال نہ ہو بلکہ چھوٹے دجالوں میں سے ایک دجال ہو۔(مرقات)

۲؎ اضرس کے دو معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ اس کے منہ میں پیدائشی ڈاڑھ ہوگی کہ اپنے منہ میں ماں کے پیٹ سے ڈاڑھ لائے گا، دوسرے یہ کہ پیدا تو بغیر دانت و داڑھ کے ہی ہوگا مگر جب اس کے ڈاڑھیں نکلیں گی تو دوسرے انسانوں سے بڑی ہوں گی،دوسرے معنی کو ترجیح دی گئی ہے۔

۳؎  یعنی اس بچہ میں دوسری حیرت ناک بات یہ ہوگی کہ وہ گھر والوں یا دوسرے کو کوئی فائدہ نہ دے گا یا بہت کم دے گا،کام کاج کم کرے گا،ماں باپ کی فرمانبرداری کم کرے گا مگر نقصان زیادہ دے گا،اس کے ذریعہ چیزیں زیادہ خراب ہوں گی،لوگوں سے لڑائی دنگے بہت کرے گا۔سوتے میں دل اس کا بیدار رہے گا کہ لوگوں کی باتیں سن لیا کرے گا،ہر چیز دیکھ لیا کرے گا۔

۴؎  یعنی جیسے اس لڑکے میں چند حیرتناک علامات ہوں گی ایسے ہی اس کے ماں باپ میں چند خصوصیات ہوں گی جن علامات سے وہ دوسرے لوگوں سے ممتاز ہوں گے۔باب لمپا دبلا،ناک چونچ کی طرح،ماں موٹی لمبے ہاتھ والی،الله تعالٰی نے اپنے محبوب کو ہر چیز بتائی بلکہ دکھائی ہے۔

۵؎  یعنی ہم کو خبر لگی کہ یہود مدینہ میں ایک بچہ اس شکل و شبہات کا پیدا ہوا ہے جو حضور انور نے ارشاد فرمائی تھی ہم کو اس کے دیکھنے کا شوق ہوا اس لیے ہم اس محلہ میں اس کے گھر گئے۔

۶؎  ان بزرگوں نے اس بچہ کو دیکھنے سے پہلے اس کے ماں باپ کی تحقیق کی،انہیں اسی طرح کا پایا جو حضور انور نے دجال کے ماں باپ کے متعلق خبر دی تھی۔خیال رہے کہ کافرہ،فاسِقہ،بے پردہ آوارہ عورتوں کا دیکھنا حرام نہیں خصوصًا ضرورت کے وقت۔ان بزرگوں نے اس کی ماں کو تحقیق کے لیے دیکھا طبیب مریضہ کو،قاضی شاہدہ کو،گواہ مدعیہ کو ضرورۃً دیکھ سکتے ہیں۔

۷؎  غالبًا وہ پیدائشی ایک آنکھ کا کانا ہوگا بعد میں یہ ہی آنکھ سوج گئی ہوگی یا دوسری آنکھ لہذا یہ حدیث گزشتہ اسی حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ ہم نے دیکھا اس کی ایک آنکھ آج سوج گئی،ہم نے پوچھا کب سوجی وہ بولا مجھے خبر نہیں۔

۸؎  چنانچہ اس کے سونے کی حالت میں جو کچھ کہا جاوے وہ سن لیتا ہے،جو کوئی آئے اسے دیکھ لیتا ہے،پھر خراٹے بھی لیتا ہے۔خیال رہے کہ دجال کے لیے یہ صفت عیب ہے۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ صفت کمال ہے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم سوتے ہیں سب کچھ دیکھتے سنتے ہیں ان کی حفاظت و ہدایت کے لیے،وہ سب کو دیکھتا ہے گمراہ کرنے کے لیے۔دجال کی گمراہ گری کبھی بند نہیں ہوتی،حضور انور کی ہدایت کبھی نہیں رکتی۔اب بھی حضور ہم سب کو دیکھتے ہم سب کی سنتے ہیں۔

۹؎  ھمھمۃ گائے کی ہلکی آواز کو کہتے ہیں۔یہاں وہ آواز مراد ہے جو سوتے میں نکلتی ہے جس میں انسان کچھ باتیں کرتا ہے،اسے اردو میں گنگناہٹ یا بڑبڑانا کہتے ہیں۔(مرقات)

۱۰؎  اس لیے میں نے سوتے میں ہی تم کو دیکھ بھی لیا اور تمہاری باتیں سن بھی لیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن