دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

5499 -[6]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَقِيتُهُ وَقَدْ نَفَرَتْ عَيْنُهُ فَقُلْتُ: مَتَى فَعَلَتْ عَيْنُكَ مَا أَرَى؟ قَالَ: لَا أَدْرِي. قُلْتُ: لَا تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِكَ؟ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ خَلَقَهَا فِي عَصَاكَ.قَالَ:فَنَخَرَ كأشد نخير حمَار سَمِعت. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں ابن صیاد سے ملا اس کی آنکھ سوج گئی ۱؎  تو میں نے کہا کہ تیری آنکھ نے کیا کیا جو میں دیکھ رہا ہوں بولا مجھے خبر نہیں ۲؎ میں نے کہا کہ تجھے خبرنہیں حالانکہ وہ تیرے سر میں ہے بولا اگر الله چاہے تو تمہاری لاٹھی میں آنکھ پیدا کردے۳؎ فرماتے ہیں پھر گدھے کی سی سخت آواز نکالی جو تو نے سنا ہو۴؎(مسلم)

۱؎ یعنی پہلے اس کی آنکھ اچھی بھلی تھی کہ اچانک سوج گئی اور کسی علاج سے اچھی نہ ہوئی پہلے میں نے اس کی آنکھ اچھی دیکھی تھی آج ورم ہوگیا۔

۲؎  یعنی بغیر سبب بغیر وجہ خود بخود یہ آنکھ ایسی ہوگئی۔

۳؎ اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن صیاد خدا کو مانتا تھا،اس کے قادر مطلق ہونے پر ایمان رکھتا تھا،وہ کہہ یہ رہا ہے کہ مجھے یہ ورم تکلیف کے بغیر ہوا ہے اس لیے مجھے پتہ نہ لگا اگرچہ آنکھ میرے سر میں تھی جیسے اے ابن عمر اگر رب تعالٰی اچانک تمہاری لاٹھی میں آنکھ پیدا کردے بغیرکسی سبب کے تو اگرچہ لاٹھی تمہارے ساتھ رہتی ہے مگر تمہیں پتہ نہ لگے گا کیونکہ یہ کام اچانک ہوگا ایسے ہی میرا معاملہ ہے۔

۴؎  یعنی تم نے جتنے گدھوں کی آواز سنی ہو ان میں سخت تر آواز سے وہ رینگنے لگا کوئی گدھا اتنی سخت آواز سے نہیں رینگتا۔اس میں دو احتمال ہیں: یا سمعت متکلم کا صیغہ ہو یا سمعت واحد مخاطب کا صیغہ دونوں مطلب درست ہیں۔(مرقات)

5500 -[7] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ الصَّيَّادِ الدَّجَّالُ. قُلْتُ: تَحْلِفُ بِاللَّهِ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْكِرْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

روایت ہے حضرت محمد ابن منکدر سے ۱؎  فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر ابن عبدالله کو دیکھا کہ وہ الله کی قسم کھاتے ہیں کہ ابن صیاد دجال ہے ۲؎ میں نے کہا کہ آپ اﷲ کی قسم کھارہے ہیں فرمایا کہ میں نے حضرت عمر کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اس پر قسم کھاتے سنا تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا انکار نہ فرمایا ۳؎(مسلم بخاری)

۱؎ آپ مشہور جلیل القدر تابعی ہیں،بڑے عالم فاضل زاہد ہیں،بہت صحابہ کرام سے ملاقات کی ہے اور بہت سے تابعین نے آپ سے روایات لی ہیں،  ۱۳۰ھ؁  ایک سو تیس ہجری میں وفات پائی۔(اشعہ)آپ سے سفیان ثوری،عمرو ابن دینار جیسے حضرات نے روایات لیں۔

۲؎  حضرت جابر کا یہ قسم کھانا کسی نص شرعی کی بنا پر نہ تھا بلکہ اپنے ذاتی خیال کی وجہ سے تھا جو انہوں نے بعض علامات سے قائم کیا تھا اسی علامت کا ذکر آگے ہے۔

۳؎  بعض علماء نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ غالب گمان پر قسم کھالینا جائز ہے قسم کے لیے یقین ضروری نہیں مگر بعض نے فرمایا کہ قسم صرف یقین پر کھائی جاسکتی ہے اور یہاں دجال سے مراد جھوٹا دجال ہے یعنی فتنہ گر فسادی۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری امت میں تیس دجال ہوں گے اور ظاہرہے کہ ابن صیاد ان تیس میں سے یقینی ہے خصوصًا اس وقت جب کہ اس نے اسلام ظاہر نہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن