30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی یہ غلام اور گھوڑا بھی ا ﷲ کے لیے ہوں محض خواہش نفسانی کے لیے نہ ہوں ان سے دینی کام جہاد یا تبلیغ حج یا طلب علم مقصود بالذات ہو دنیاوی کام مقصود بالتبع لہذا اگر بادشاہ اور امراء نیت سے غلام یا گھوڑے رکھیں اس نیت سے کہ ضرورت پڑنے پریہ مجاہدین غازیوں میں تقسیم کرکے ان سے جہاد کرایا جائے گا تو بالکل درست ہے نیت خیر ہے۔ اس فرمان عالی کا مقصد یہ نہیں کہ ان دو چیزوں کے سواء اور کچھ پاس رکھو ہی نہیں،مقصد یہ ہے کہ بلا ضرورت چیزیں نہ رکھو آج بھی حکومتیں زور دیتی ہیں کہ بلاضرورت سامان نہ خریدو۔
۳؎ یہ غلطی مشکوۃ شریف کے نسخوں میں بھی ہے اور بعض حواشی میں بھی کہ عتبہ کو عتبد لکھا ہے بجائے ہ کے دال۔
|
5186 -[32] وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ لِابْنِ آدَمَ حَقٌّ فِي سِوَى هَذِهِ الْخِصَالِ: بَيْتٌ يَسْكُنُهُ وَثَوْبٌ يُوَارِي بِهِ عَوْرَتَهُ وجلف الْخبز وَالْمَاء ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عثمان سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کا سوائے ان اشیاء کے اور چیز میں حق نہیں ہے ۱؎ وہ گھر جس میں رہتا ہواور وہ کپڑا جو اس کا ستر چھپائے اور روٹی کا ٹکڑا اور پانی ۲؎ (ترمذی) |
۱؎ یعنی ان تین چیزوں کے سواء اور کسی چیز کی ضرورت نہیں قیامت میں ان تین کا حساب نہ ہوگا ان کے سواء اور چیزوں کا حساب دینا ہوگا،رب تعالٰی فرماتاہے:"ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیۡمِ"وہاں نعیم سے مراد عیش و عشرت کی چیزیں ہیں۔ خیال رہے کہ شخصی زندگی فانی ہے قومی اور دینی زندگی باقی ہے لہذا مسلمان اپنی شخصی زندگی کے لیے معمولی سامان اختیار کرے، قومی و دینی زندگی کے لیے قیامت تک کا انتظام کرے۔حضور صلی الله علیہ وسلم نے دین اور قوم کے لیے ممالک فتح کیے مگر اپنی ذات کے لیے آرام دہ مکان بھی نہ بنایا یہاں شخصی زندگی اورشخصی حالتوں کا ذکر ہے۔
۲؎ گھر میں بقدر ضرورت گھر کا سامان داخل ہے،روٹی میں سالن شامل ہے،پانی میں دودھ لسی وغیرہ داخل ہیں جن کی کبھی ضرورت پڑتی ہے،حضور انور نے دودھ لسی وغیرہ ملاحظہ فرمائی ہیں۔حضرت ابراہیم ابن ادھم فرماتے ہیں شعر
و ما ھی الا جوعۃ ان سددتھا فکل طعام بین جنبیك واحد
|
5187 -[33] وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا أَنَا عَمِلْتُهُ أَحَبَّنِي اللَّهُ وَأَحَبَّنِي النَّاسُ. قَالَ: «ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبُّكَ اللَّهُ وَازْهَدْ فِيمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبَّكَ النَّاسُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص آیا تو بولا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم مجھے ایسے کام پر رہبری کریں کہ جب میں وہ کروں تو مجھ سے اﷲ بھی محبت کرے اور لوگ بھی محبت کریں ۱؎ فرمایا دنیا میں بے رغبت رہو تم سے اﷲ محبت کرے گا ۲؎ اور لوگوں کی پاس کی چیزوں سے بے رغبت رہو تم سے لوگ محبت کریں گے ۳؎ (ترمذی، ابن ماجہ)۴؎ |
۱؎ معلوم ہوا کہ اﷲ کے بندوں کی محبت جو قدرتی طور سے ہو اﷲ کی رحمت ہے،محبت خلق محبت خالق کی علامت ہے
انتم شھداء اﷲ فی الارض لہذا لوگوں کی محبت حاصل کرنے کی کوشش کرنا ممنوع نہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ مولٰی واجعل لی لسان صدق فی الاخرین آئندہ نسلوں میں میرا ذکر خیر جاری فرما لہذا ان صاحب کا یہ سوال بالکل برحق ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع