30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ ابن صیاد کا یہ قول محض حضور انور کے فرمان عالی کے مقابلہ میں ہے ورنہ وہ مدعی نبوت نہ تھا۔خیال رہے کہ کافر ذمی کو قتل نہیں کیا جاتا،نہ کافر بچہ کو قتل کیا جاوے نابالغ بچہ کا ارتداد معتبر نہیں ہے،ان وجوہ سے ابن صیاد قتل نہیں کیا گیا۔لہذا اس حدیث کی بنا پر قادیانی یہ نہیں کہہ سکتے کہ مدعی نبوت مرتد نہیں اور نہ اسے قتل کیا جائے اس حدیث کا منشا کچھ اور ہی ہے۔
۶؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں فرفضہ ہے رفض سے مشتق بمعنی چھوڑنا یعنی حضور انور نے اسے چھوڑ دیا پھر اس سے یہ سوال نہ کیا۔عام نسخوں میں فرصہ ہے ص کے شد سے،یہ بنا ہے رصٌ سےبمعنی دبوچنا،بعض اعضاء کو بعض سے ملادیا،اسی سے ہے مرصوص، رب تعالٰی فرماتاہے:"کَاَنَّہُمۡ بُنۡیٰنٌ مَّرْصُوۡصٌ"بعض نسخوں میں ہے فرضہ نقطہ والی ضاد سے،رض کے معنی ہیں توڑنا مروڑنا۔
۷؎ یعنی میرا ایمان سارے رسولوں پر ہے اور تو رسول ہے نہیں پھرمیں تجھے رسول الله کیسے کہہ دوں،میں خاتم النبیین ہوں،سب سے آخری نبی،نہ میرے زمانہ میں کوئی نبی ہوسکتا ہے نہ میرے بعد۔خیال رہے کہ حضور انور کے زمانہ میں بھی کوئی نبی نہیں ہوسکتا،جو ایسا مانے وہ مرتد ہے خاتم النبیین کا منکر۔خیال رہے کہ جھوٹے مدعی نبوت سے معجزہ مانگنا کفر ہے جب اس کی تصدیق کی نیت سے ہو۔
۸؎ یعنی تجھے غائبانہ کون سی چیز نظر آتی ہیں جن کی بنا پر تو بڑے بڑے دعوے کرتا ہے اور لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔
۹؎ یعنی میرے پاس جنات غیبی خبریں لاتے ہیں جن میں بعض سچی ہوتی ہیں اکثر جھوٹی۔اس سے بھی معلوم ہوا کہ ابن صیاد نبوت کا مدعی نہ تھا بلکہ اپنے کو کاہن کہتا تھا،یہ نہ کہتا تھا کہ میرے پاس حضرت جبریل آتے ہیں اورمحمدی بیگم کے ساتھ میرے نکاح کی بشارت لاتے ہیں لہذا قادیانی لوگ اس حدیث سے دلیل نہیں پکڑسکتے،مرزا جی اپنے کو صاف صاف نبی کہتے رہے۔
۱۰؎ یعنی خود تجھے اپنی خبروں کے متعلق اطمینان نہیں تو تیرے ذریعہ کسی اور کو اطمینان کیسے ہوسکتا ہے لہذا تیری صحبت خطرناک ہے۔
۱۱؎ ابن صیاد کا دعویٰ تھا کہ میں لوگوں کے دلوں کے حالات خیالات جانتا ہوں اس لیے حضور انور نے اس سے یہ سوال فرمایا۔معلوم ہوا کہ کاہنوں کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ان سے غیبی خبریں پوچھنا جائز ہے،حضور انور نے اس کا جھوٹ ظاہر فرمانے کو یہ سوال کیا اسے اس طرح رسوا کرنا ثواب ہے۔
۱۲؎ یعنی اس پوری آیت میں سے وہ پورا ایک لفظ بھی معلوم نہ کرسکا لفظ دخان کا صرف دخ معلوم کرسکا۔یہ ہی حال کاہنوں کا ہوتا ہے ان کی دس باتوں بلکہ سو میں سے ایک درست نکلتی ہے اور وہ سو میں سے ایک کا پتہ چلاتے ہیں۔خیال رہے کہ حضور نے یہ آیت اس لیے دل میں سوچی کہ اس میں علامت قیامت کا ذکر ہے اور دجال بھی علامات قیامت سے ہے،نیز قتل دجال مرخ پہاڑ کے نزدیک ہوگا ان وجوہ سے حضور نے یہ آیت سوچی۔(اشعہ،مرقات)
۱۳؎ یعنی تو صرف ایک کاہن ہے نہ تجھے علم غیب ہے نہ تو خدا ہے نہ خدا کا مقبول بندہ پھر تو مجھ سے کیوں کہتا ہے کہ آپ میری نبوت کی گواہی دیتے ہیں تیری یہ حیثیت اور یہ بات۔
۱۴؎ یعنی چونکہ اس سے بڑا فتنہ پھیلنے کا اندیشہ ہے اس لیے اسے قتل کردینا مناسب ہے،یہ ہے حضرت فاروق کا جوش ایمانی۔فقہاء فرماتے ہیں کہ جو جادوگر لوگوں میں فساد پھیلاتے ہیں انہیں ہلاک کرتے ہیں بادشاہ اسلام انہیں قتل کرا دے۔
۱۵؎ یعنی اگر یہ دجال ہے تو ارادۂ الٰہی یہ ہی ہے کہ دجال کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے اور اگر یہ دجال نہیں ہے تو یہ نابالغ بچہ بھی ہے ہمارا ذمی کافر بھی اسے قتل کرنا جائز نہیں،صرف کاہن ہونا قتل کے جواز کا سبب نہیں۔ حضور انور کا اگر مگر سے کلام فرمانا یا اس لیے تھا کہ اس وقت تک دجال کے متعلق حضور کو پورا علم عطا نہ ہوا تھا بعد میں حضور نے دجال کی شکل اس کے اعمال اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع