30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی جس بدوی کے اونٹ مرچکے ہوں گے اور وہ بڑا مغموم ہوگا اس سے دجال آکر یہ کہے گا اور اس سے یہ وعدہ لے گا۔
۵؎ معلوم ہوا کہ جن شیاطین جانوروں کی شکل میں آسکتے ہیں۔چنانچہ جنات کتے اور سانپ کی شکل میں آجاتے ہیں جیسا کہ احادیث میں ہے اور جس جانور کی شکل میں آتے ہیں اس کے خواص بھی ان میں ہوجاتے ہیں۔چنانچہ اگر سانپ کی شکل میں آویں تو ان میں زہر ہوتا ہے،ان اونٹوں میں دودھ ہوگا لوگ اسے پئیں گے،موسیٰ علیہ السلام کی لاٹھی جب سانپ بنتی تھی تو کھاتی پیتی تھی"تَلْقَفُ مَا یَاۡفِکُوۡنَ"۔
۶؎ اس سے معلوم ہورہا ہے کہ دجال کو یہ خبر ہوگی کہ کس کا کون کون عزیز قریبی فوت ہوچکے ہیں تب ہی تو وہ سوال کرے گا،اسے رب کی طرف سے علم بھی دیا جائے گا اورتسلط و قدرت بھی یہ سب کچھ لوگوں کی آزمائش کے لیے ہوگا۔آج ابلیس کو ہر شخص کے دلی ارادے کی خبر ہے وہ تمام شرعی احکام سے واقف ہے،جانتا ہے کہ شریعت میں کون سا کام حرام ہے کون سا کام فرض یا واجب تب ہی تو وہ فرائض سے روکتا ہے،حرام کی رغبت دیتا ہے،جب اس بیماری کے علم کا یہ حال ہے تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم جو اس بیماری کا علاج ہیں وہ بے خبر کیسے ہوسکتے ہیں۔
۷؎ معلوم ہوا کہ وہ حقیقت میں اس کے ماں باپ نہ ہوں گے بلکہ محض دھوکہ ہوگا،شیاطین ان کی شکل میں ہوں گے۔ معلوم ہوا کہ دجال زندوں کو مردہ کرکے زندہ کرسکے گا مگر پرانے مردے زندہ نہ کرے گا بلکہ ان کی شکل میں شیاطین ہوں گے۔
۸؎ یہ حضور انور کے کلام کی تاثیر تھی کہ لوگوں کے دل بدل گئے۔بعض علماء کے واعظ سے بے نمازی لوگ نمازی بن جاتے ہیں،حضور انورکے الفاظ شریفہ سادہ ہوتے تھے مگر انسان کی کایا پلٹ دیتے تھے،آج رنگین تقریروں میں تاثیر نہیں۔
۹؎ لحمتی تثنیہ ہے لحمۃ کا،لحمہ چوکھٹ کے بازو کو کہتے ہیں،لحمتین دونوں بازو و عتبہ نیچے کی چوکھٹ۔
۱۰؎ یعنی دجال کے حالات لوگوں کے معاملات سن کر ہم تو پریشان ہوگئے کہ اگر وہ ہمارے زمانہ میں نکل آیا تو ہمارا کیا بنے گا ورنہ اس زمانہ کے مسلمان کیا کریں گے۔
۱۱؎ معلوم ہوا کہ اگر دجال حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ شریف میں آتا تو حضور کے مقابل فیل ہوجاتا حضور کے ہاتھوں مارا جاتا اب یہ کام حضور انور کی نیابت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کریں گے۔حضور انور اپنی امت کے والی وارث نگہبان تھے اور ہیں اور رہیں گے۔امام بوصیری کہتے ہیں۔شعر
احل امتہ فی حرز ملتہ کاللیث حل مع ابالا شبال فی الاجیم
۱۲؎ یہاں خلیفہ بمعنی نائب یا وکیل نہیں بلکہ بمعنی حافظ،ناصر،والی وارث و نگہبان ہے کیونکہ الله تعالٰی کسی کا نائب نہیں ہوتا یعنی اگر میرے بعد دجال نکلا تو میری امت رب کے حوالہ ہے وہ ہی اس کا ناصر ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مجموعی امت کا حقیقی نگہبان رب تعالٰی اور ہر شخص اپنی ذات کا ذمہ دار ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ ہرشخص اپنی ذات کا ذمہ دار ہے ذمہ داریاں مختلف ہیں۔
۱۳؎ مقصد یہ ہے کہ مسلمان اس وقت دجال کے ماننے پر مجبور ہوں گے کہ ننگا بھوکا ہر نہ کرنے والا کام کرلیتا ہے،اگر دجال کو نہ مانیں گے تو مرجائیں گے کیونکہ حالات وہ ہوں گے جو حضور فرمارہے ہیں تو مسلمانوں کا ایمان کیسے بچے گا یعنی میری امت سے کہہ دو کہ اس وقت تنگی رزق سے دل تنگ نہ ہوں،اس زمانے میں زمینی مؤمن عرشی فرشتوں کی طرح ہوں گے کہ ذکر الله سے ان کا پیٹ بھرتا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع