30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5491 -[28] وَعَن أسماءَ بنتِ يزيدَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلَاث سِنِين سنة تمسلك السَّمَاءُ فِيهَا ثُلُثَ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا. وَالثَّانِيَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا. وَالثَّالِثَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ وَالْأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ. فَلَا يَبْقَى ذَاتُ ظِلْفٍ وَلَا ذَاتُ ضِرْسٍ مِنَ الْبَهَائِمِ إِلَّا هَلَكَ وَإِنَّ مِنْ أَشَدِّ فِتْنَتِهِ أَنَّهُ يَأْتِي الْأَعْرَابِيَّ فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ إِبِلَكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ بَلَى فَيُمَثِّلُ لَهُ الشَّيْطَانَ نَحْوَ إِبِلِهِ كَأَحْسَنِ مَا يَكُونُ ضُرُوعًا وَأَعْظَمِهِ أَسْنِمَةً ". قَالَ: " وَيَأْتِي الرَّجُلَ قَدْ مَاتَ أَخُوهُ وَمَاتَ أَبُوهُ فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ أَبَاكَ وَأَخَاكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: بَلَى فَيُمَثِّلُ لَهُ الشَّيَاطِينَ نَحْوَ أَبِيهِ وَنَحْوَ أَخِيهِ ". قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ وَالْقَوْمُ فِي اهْتِمَامٍ وَغَمٍّ مِمَّا حَدَّثَهُمْ. قَالَتْ: فَأَخَذَ بِلَحْمَتَيِ الْبَابِ فَقَالَ: «مَهْيَمْ أَسْمَاءُ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ خَلَعْتَ أَفْئِدَتَنَا بِذِكْرِ الدَّجَّالِ. قَالَ: «إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا حَيٌّ فَأَنَا حَجِيجُهُ وَإِلَّا فإِنَّ رَبِّي خليفتي علىكل مُؤْمِنٍ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنَّا لَنَعْجِنُ عَجِينَنَا فَمَا نَخْبِزُهُ حَتَّى نَجُوعَ فَكَيْفَ بِالْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «يُجْزِئُهُمْ مَا يُجْزِئُ أَهْلَ السماءِ من التسبيحِ والتقديسِ» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے تو آپ نے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا کہ دجال سے آگے تین سال ہوں گے ایک سال ایسا جس میں آسمان اپنی تہائی بارش روک لے گا اور زمین تہائی پیداوار ۱؎ دوسرے سال آسمان دو تہائی بارش روک لے گا اور زمین اپنی کل پیداوار اور تیسرے سال آسمان اپنی پوری بارش روک لے گا اور زمین اپنی کل پیداوار۲؎ تو کوئی کھر والا ڈاڑھ والا جانور نہ بچے گا مگر ہلاک ہوجاوے گا۳؎ اور اس کے سخت ترین فتنوں میں سے یہ ہوگا کہ ایک بدوی کے پاس آوے گا کہے گا بتا تو اگر میں تیرا اونٹ زندہ کر دوں تو کیا تو یقین نہ کرے گا کہ میں تیرا رب ہوں وہ کہے گا ہاں۴؎ تو شیطان اس کے سامنے اس کے اونٹ کی شکل میں آجاوے گا جیسے تھن ہوتے ہیں اس سے اچھے اور خوب بلند کوہان ۵؎ فرمایا اور آوے گا ایک شخص کے پاس جس کے بھائی باپ مرچکے ہوں گے تو کہیں گے کہ بتا تو اگر میں تیرے سامنے تیرے باپ بھائی زندہ کر دوں تو کیا تو یقین کرے گا کہ میں تیرا رب ہوں وہ کہے گا ہاں۶؎ تو اس کے سامنے شیطان اس کے باپ بھائی کی شکل میں آجاوے گا۷؎ فرماتی ہیں پھر رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم اپنے کسی کام کے لیے تشریف لے گئے پھر واپس ہوئے حالانکہ قوم بہت رنج و غم میں تھی۸؎ اس خبر کی وجہ سے جو حضور نے انہیں دی،فرماتی ہیں کہ حضور نے دروازے کے دو بازو پکڑ کر فرمایا اسماء کیا ہے۹؎ میں نے عرض کیا یارسول الله دجال کے ذکر سے ہمارے دل نکل گئے ۱۰؎ فرمایا اگر وہ نکلا اور ہم زندہ ہوئے تو اس کے مقابل ہم ہوں گے ۱۱؎ ورنہ میرا رب ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے۱۲؎ عرض کیا یارسول الله ہم اپنا آٹا گوندھتے ہیں تو روٹیاں نہیں پکاتے حتی کہ ہم بھوکے ہو جاتے ہیں تو اس دن مسلمانوں کا کیا حال ہوگا۱۳؎ فرمایا انہیں وہ تسبیح وتہلیل کافی ہوگی جو آسمان والوں کو کافی ہوتی ہے۔ |
۱؎ یعنی دجال کی آمد سے نو برس پہلے ہی بے برکتی قحط سالی نمودار ہوجاوے گی پہلے تین سالوں میں جتنی بارش چاہیے اس کی تہائی ہوگی اور جتنا غلہ چاہیے اس کا تہائی ہوگا،اگلے چھ سالوں میں اس سے بھی کم بارش ہوگی اور کم پیداوار،یہ سخت آزمائش ہوگی الله تعالٰی جسے بچائے گا اس کا ایمان بچے گا۔
۲؎ غرضکہ دجال کے آنے پر لوگ بالکل خالی ہاتھ بے دانہ قحط زدہ ہوچکے ہوں گے اب جب کہ اس کے نکلتے ہی اس کے ماننے والوں پر بارشیں غلہ کی بہتات،دودھ گھی کی فراوانی ہوگی تو بولو لوگوں کا ایمان کیسے بچے گا الله حافظ ہے۔
۳؎ کھر والے جانوروں سے مراد گائے بھینس،بکری ہرن وغیرہ ہیں۔ڈاڑھ والے سے مراد اونٹ وغیرہ جانور ہیں۔ہلاکت سے مراد صرف مرجانا ہی نہیں بلکہ مرجانا یا قریب موت ہوجانا ہے یعنی قحط اور خشکی سالی کی وجہ سے جانور گویا فنا ہو جائیں گے لہذا یہ فرمان عالی اس فرمان کے خلاف نہیں کہ دجال کو مان لینے والوں کے جانور موٹے تازے اور خوب دودھ والے ہوجائیں گے اور انکار کرنے والوں کے جانور دبلے پتلے خشک ہوجائیں گے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جانور ہوں گے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع