30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5489 -[26] وَعَن أَسمَاء بنت يزِيد بن السَّكن قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَمْكُثُ الدَّجَّالُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً السَّنَةُ كَالشَّهْرِ وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ وَالْيَوْمُ كَاضْطِرَامِ السَّعَفَةِ فِي النَّارِ» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» |
روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید ابن سکن سے ۱؎ فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دجال زمین میں چالیس سال رہے گا۲؎ ایک سال ایک مہینہ کی طرح ہوگا اور مہینہ ہفتہ کی طرح اور ہفتہ ایک دن کی طرح اور دن آگ میں سوکھے پتے جلنے کی طرح ۳؎(شرح سنہ) |
۱؎ آپ مشہور صحابیہ انصاریہ ہیں،بڑی عالمہ عاقلہ عابدہ زاہدہ تھیں۔
۲؎ گزشتہ احادیث میں ارشاد تھا کہ چالیس دن رہے گا یا تو یہ اختلاف احساس کا ہے کہ بعض کو وہ زمانہ چالیس سال کا محسوس ہوگا مگر سال بھی ایسے جو یہاں مذکور ہیں اور بعض کو چالیس دن محسوس ہوگا ۔(مرقات)یا دجال کا زمین پر رہنا چالیس سال کا ہوگا مگر اس کا زور آخر ی چالیس دن ہوگا لہذا دونوں حدیثیں درست ہیں ان میں تعارض نہیں۔(اشعہ)
۳؎ شعف جمع شعفۃ کی،شعفۃ کجھور کی سوکھی شاخوں سوکھے پتوں کو کہتے ہیں یعنی اگر سوکھے پتوں سوکھی شاخوں میں آگ لگادو تو فورًا بھڑک اٹھتے ہیں اور جلدی راکھ بن کر بجھ جاتے ہیں ایک دن ایسا گزرے گا اس کی شرح گزشتہ احادیث میں گزر گئی۔
|
5490 -[27] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«يَتْبَعُ الدَّجَّالَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ» . رَوَاهُ فِي " شرح السّنة |
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میری امت میں سے ۱؎ ستر ہزار آدمی دجال کی پیروی کریں گے جن پر نقشیں لباس ہوگا ۲؎(شرح سنہ) |
۱؎ غالب یہ ہے کہ امت سے مراد امت دعوت ہے جن پر فرض ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لائیں سارا عالم حضور کی امت دعوت ہے اور مسلمان امت اجابت اس صورت میں ایسی حدیث کی شرح وہ گزشتہ حدیث ہے کہ اصفہان کے یہودی دجال کی پیروی کرلیں گے۔یہاں امتی سے مراد وہ ہی یہود ہیں کہ وہ حضور کی امت دعوت ہیں اور ستر ہزار سے مراد ہزار ہا آدمی ہیں نہ کہ یہ عدد خاص مگر یہ توجیہ ضعیف ہے کہ اس سے مراد کلمہ پڑھنے والے مال دار مسلمان ہیں جیساکہ آگے مذکور ہے۔
۲؎ یعنی میری امت کے وہ لوگ دجال کو مانیں گے جو پہلے سے ہی فیشن پرست یہودونصاریٰ کے نقال ان کی سی شکل و صورت بنانے والے یہود کا سا نقشین فیشن ایبل لباس پہننے والے ہوں گے انہیں کا بیڑا غرق ہوگا،یا یہ مطلب ہے کہ ستر ہزار امیر لوگ دجال پر ایمان لے آئیں گے تو غریبوں کی تو شمار ہی نہیں،ایک ایک امیر کی دیکھا دیکھی بہت سے غریب بہک جائیں گے مگر آخری یہ توجیہ کمزور ہے کیونکہ فقراءمسلمین بفضلہ تعالٰی دجال کے شر سے محفوظ رہیں گے،ابن الوقت امیر لوگ زیادہ بگڑیں گے۔آج بھی دیکھا جارہا ہے کہ اسلام غرباء کے دم سے قائم ہے نمازی،شہید،عالم حافظ عمومًا غریب ہی ہیں امیروں کے لیے صرف کالج اسکول ہیں،امیر لوگ عزت وجاہ حاصل کرنے کے لیے ہر دین اختیار کرلیتے ہیں۔(مرقات)
|
5491 -[28] وَعَن أسماءَ بنتِ يزيدَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلَاث سِنِين سنة تمسلك السَّمَاءُ فِيهَا ثُلُثَ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا. وَالثَّانِيَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا. وَالثَّالِثَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ وَالْأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ. فَلَا يَبْقَى ذَاتُ ظِلْفٍ وَلَا ذَاتُ ضِرْسٍ مِنَ الْبَهَائِمِ إِلَّا هَلَكَ وَإِنَّ مِنْ أَشَدِّ فِتْنَتِهِ أَنَّهُ يَأْتِي الْأَعْرَابِيَّ فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ إِبِلَكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ بَلَى فَيُمَثِّلُ لَهُ الشَّيْطَانَ نَحْوَ إِبِلِهِ كَأَحْسَنِ مَا يَكُونُ ضُرُوعًا وَأَعْظَمِهِ أَسْنِمَةً ". قَالَ: " وَيَأْتِي الرَّجُلَ قَدْ مَاتَ أَخُوهُ وَمَاتَ أَبُوهُ فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ أَبَاكَ وَأَخَاكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: بَلَى فَيُمَثِّلُ لَهُ الشَّيَاطِينَ نَحْوَ أَبِيهِ وَنَحْوَ أَخِيهِ ". قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ وَالْقَوْمُ فِي اهْتِمَامٍ وَغَمٍّ مِمَّا حَدَّثَهُمْ. قَالَتْ: فَأَخَذَ بِلَحْمَتَيِ الْبَابِ فَقَالَ: «مَهْيَمْ أَسْمَاءُ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ خَلَعْتَ أَفْئِدَتَنَا بِذِكْرِ الدَّجَّالِ. قَالَ: «إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا حَيٌّ فَأَنَا حَجِيجُهُ وَإِلَّا فإِنَّ رَبِّي خليفتي علىكل مُؤْمِنٍ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنَّا لَنَعْجِنُ عَجِينَنَا فَمَا نَخْبِزُهُ حَتَّى نَجُوعَ فَكَيْفَ بِالْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «يُجْزِئُهُمْ مَا يُجْزِئُ أَهْلَ السماءِ من التسبيحِ والتقديسِ» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے تو آپ نے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا کہ دجال سے آگے تین سال ہوں گے ایک سال ایسا جس میں آسمان اپنی تہائی بارش روک لے گا اور زمین تہائی پیداوار ۱؎ دوسرے سال آسمان دو تہائی بارش روک لے گا اور زمین اپنی کل پیداوار اور تیسرے سال آسمان اپنی پوری بارش روک لے گا اور زمین اپنی کل پیداوار۲؎ تو کوئی کھر والا ڈاڑھ والا جانور نہ بچے گا مگر ہلاک ہوجاوے گا۳؎ اور اس کے سخت ترین فتنوں میں سے یہ ہوگا کہ ایک بدوی کے پاس آوے گا کہے گا بتا تو اگر میں تیرا اونٹ زندہ کر دوں تو کیا تو یقین نہ کرے گا کہ میں تیرا رب ہوں وہ کہے گا ہاں۴؎ تو شیطان اس کے سامنے اس کے اونٹ کی شکل میں آجاوے گا جیسے تھن ہوتے ہیں اس سے اچھے اور خوب بلند کوہان ۵؎ فرمایا اور آوے گا ایک شخص کے پاس جس کے بھائی باپ مرچکے ہوں گے تو کہیں گے کہ بتا تو اگر میں تیرے سامنے تیرے باپ بھائی زندہ کر دوں تو کیا تو یقین کرے گا کہ میں تیرا رب ہوں وہ کہے گا ہاں۶؎ تو اس کے سامنے شیطان اس کے باپ بھائی کی شکل میں آجاوے گا۷؎ فرماتی ہیں پھر رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم اپنے کسی کام کے لیے تشریف لے گئے پھر واپس ہوئے حالانکہ قوم بہت رنج و غم میں تھی۸؎ اس خبر کی وجہ سے جو حضور نے انہیں دی،فرماتی ہیں کہ حضور نے دروازے کے دو بازو پکڑ کر فرمایا اسماء کیا ہے۹؎ میں نے عرض کیا یارسول الله دجال کے ذکر سے ہمارے دل نکل گئے ۱۰؎ فرمایا اگر وہ نکلا اور ہم زندہ ہوئے تو اس کے مقابل ہم ہوں گے ۱۱؎ ورنہ میرا رب ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے۱۲؎ عرض کیا یارسول الله ہم اپنا آٹا گوندھتے ہیں تو روٹیاں نہیں پکاتے حتی کہ ہم بھوکے ہو جاتے ہیں تو اس دن مسلمانوں کا کیا حال ہوگا۱۳؎ فرمایا انہیں وہ تسبیح وتہلیل کافی ہوگی جو آسمان والوں کو کافی ہوتی ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع