30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶؎ ان صاحب نے پہلے تو سمجھا کہ حضور انور نے اتفاقًا جواب نہ دیا یا حضور کسی فکر میں ہیں میرا سلام سنا نہیں مگر جب بار بار سلام کہا اور جواب نہ پایا تو وہ سمجھے کہ مجھ پر ناراضی ہے۔ظاہر یہ ہے کہ حاضرین میں سے کسی نے جواب نہ دیا۔جس سلام کو حضور رد فرمادیں اسے قبول کون کرے،حضرت کعب ابن مالک کا جب بائیکاٹ ہوا ہے تو پچاس دن تک کسی نے ان کے سلام کا جواب نہ دیا۔
۷؎ حضور کی شکایت نہیں کی بلکہ اپنی محرومی کی شکایت مع حکایت کی کہ لوگو میں تو لٹ گیا آج حضور مجھ سے ناراض ہوگئے۔
۸؎ یعنی ہمارا اندازہ یہ ہے کہ حضور انور نے اس بلند عمارت کو ناپسند فرمایا یہ ہی وجہ ہے تم سے بے توجہی فرمانے کی اور تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔
۹؎ یہ ہے حضرات صحابہ کا عشق رسول کہ حضور انور نے انہیں نہ تو ڈھانے کا حکم دیا نہ یہ فرمایا کہ عمارتیں بنانا جائز نہیں ان حضرات کو صرف اندازہ ہی ہوا ہے کہ شاید حضور اس عمارت کی وجہ سے مجھ سے ناراص ہوگئے تو سوچا کہ یہ عمارت میرے اور محبوب کے درمیان آڑ بن گئی ڈھادی۔اس ڈھانے میں مال کا برباد کرنا نہیں اور فضول خرچی نہیں بلکہ یار کو منایا ہے،اگر عمارت ڈھانے سے حضور راضی ہوجائیں تو ان شاءاﷲ سودا سستا ہے۔جناب خلیل رضا ء الٰہی کے لیے فرزند کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔یہاں ظاہری فتویٰ نہیں چلتے یہ دل جلوں کے معاملے ہیں۔شعر
عقل می گوید کہ خود راپیش کن عشق می گوید کہ ترک خویش کن
ان حضرات نے اس عمارت کا بالائی حصہ نہ گرایا بلکہ جڑ بنیاد سے مٹا دیا تاکہ اس حجاب کی پوری طرح بیخ کنی ہوجائے۔
۱۰؎ یعنی وہ گنبد بالکل ہی غائب ہوگیا یہ کیسے ہوا۔حضور انور کا یہ سوال اگلے مضمون کی تمہید کے لیے ہے ورنہ حضور ہر ایک کے عمل دل حال سے خبردار ہیں۔
۱۱؎ اگر وبال سے مراد گناہ ہے تو عمارات سے مراد وہ عمارتیں ہیں جو بلا ضرورت فخر وتکبر کے لیے بنائی جائے کہ یہ عمل ناجائز ہے، فخر و تکبر کا ہر کام حرام ہے اور اگر وبال سے مراد آخرت کا بوجھ ہے تب بلا ضرورت کی ہر عمارت اس میں داخل ہے خواہ فخریہ ہو یا نہیں حتی کہ بلا ضرورت مسجد بنانا بھی ثواب نہیں بلکہ کبھی گناہ ہے۔غیر آباد جگہ کوئی نماز و اذان ادا کرنے والا نہ ہو مسجد بنادینا محض بیکار ہے،ایک مسجد کے قریب دوسری مسجد بنادینا کہ نہ وہ آباد رہے نہ یہ آباد ہو گناہ ہے،بہرحال یہ فرمان عالی وسیع ہے عمارت کے وبال ہونے کی بہت صورتیں ہیں۔
۱۲؎ ضرورت خواہ دینی ہو یا دنیاوی مگر دنیاوی ضرورت کے لیے عمارت بنانا مباح ہے جیسے اپنے مکان دوکانیں اور دینی ضرورت کے لیے بنانا ثواب جیسے مسجدیں مدرسے،خانقاہیں بزرگان دین کے مزارات پر قبے جب کہ وہاں زائرین کا ہجوم رہتا ہو ان کی آسائش، تلاوت قرآن مجید وغیرہ کے لیے وہاں عمارت بنانا ثواب ہے۔اس ما لابد منہ میں بھی بڑی گنجائش ہے۔
|
5185 -[31] وَعَن أبي هَاشم بن عُتبَةَ قَالَ: عَهِدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَفِي بَعْضِ نسخ «المصابيح» عَن أبي هَاشم بن عتيد بِالدَّال بدل التَّاء وَهُوَ تَصْحِيف |
روایت ہے حضرت ابوہاشم ابن عتبہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عہد لیا فرمایا کہ تمہیں مال جمع کرنے کے لیے ایک خادم اور اﷲ کی راہ میں ایک سواری کافی ہے ۲؎ (احمد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)اور مصابیح کے بعض نسخوں میں بحائے ت کے ہاشم ابن عتبددال سے ہے اور یہ غلط ہے ۳؎ |
۱؎ آپ کا نام شبیہہ ابن عتبہ ہے،کنیت ابو ہاشم ہند بنت عتبہ کے بھائی، حضرت امیر معاویہ کے ماموں ہیں کیونکہ ہند امیر معاویہ کی والدہ ہیں،آپ فتح مکہ کے دن ایمان لائے،شام میں قیام رہا، خلافت عثمانی میں آپ کی وفات ہوئی، بڑے عالم فقیہ و صالح تھے،آپ سے حضرت ابوہریرہ وغیرہ صحابہ نے احادیث کی روایات لیں۔(مرقات وغیرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع