30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۹؎ یعنی یہ دونوں حدیثیں مصابیح میں اسی جگہ تھیں مگر ہم نے مناسبت کا لحاظ کرتے ہوئے پہلی حدیث تو باب الملاحم میں ذکر کردی اور دوسری حدیث ان شاءاﷲ ابن صیاد کے باب میں بیان کریں گے کہ وہ حدیثیں انہیں بابوں کے مناسب ہیں۔
|
5484 -[21] عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فِي حَدِيثِ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ: قَالَتْ: قَالَ: فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ تَجُرُّ شَعَرَهَا قَالَ: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْقَصْرِ فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا رَجُلٌ يَجُرُّ شَعَرَهُ مُسَلْسَلٌ فِي الْأَغْلَالِ يَنْزُو فِيمَا بَيْنُ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ. فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنا الدَّجَّال ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت فاطمہ بنت قیس سے تمیم داری کی حدیث میں مروی ہے ۱؎ فرماتی ہیں فرمایا کہ ناگاہ میں اس عورت پرگزرا جو اپنے بال گھسیٹ رہی تھی۲؎ انہوں نے کہا تو کون ہے وہ بولی میں جاسوس ہوں اس محل کی طرف جاؤ ۳؎ میں وہاں گیا تو ایک شخص تھا جو اپنے بال گھسیٹ رہا تھا قیدوں میں جکڑا ہوا تھا آسمان و زمین کے درمیان کود رہا تھا ۴؎ میں نے کہا تو کون ہے وہ بولا میں دجال ہوں ۵؎(ابوداؤد) |
۱؎ یعنی تمیم داری کی وہ دراز حدیث جو بروایت مسلم فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے وہ گزر چکی۔ابوداؤد میں وہ ہی حدیث قدرے اختلاف سے مروی ہے مگر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرق صرف لفظی ہے مطلب ایک ہی ہے
۲؎ خیال رہے کہ ان دونوں حدیثوں میں پہلا اختلاف تو یہ ہے کہ وہاں مسلم کی روایت میں دابۃ تھا،اور یہاں ابوداؤد کی روایت میں امرأۃ یعنی عورت ہے،ان دونوں میں کئی طرح مطابقت کی جاسکتی ہے: ایک یہ کہ وہاں دابۃ بمعنی جانور نہیں بلکہ بمعنی زمین پر چلنے والی ہے جس میں انسان بھی داخل ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ"لہذا وہاں دابۃ بمعنی عورت تھا۔دوسرے یہ کہ دجال نے بہت سے جاسوس رکھے ہوئے تھے کوئی جانور کی شکل میں کوئی عورت کی شکل میں،تمیم داری کو دو جاسوس ملے ایک جانور،ایک عورت وہاں ایک کا ذکر تھا یہاں دوسری کاذکر ہے۔تیسرے یہ کہ جساسہ شیطانہ تھی کبھی جانور کی شکل میں نظر آئی کبھی عورت کی شکل میں جنات شکلیں بدل سکتے ہیں۔
۳؎ وہاں مسلم کی حدیث میں دیر تھا بمعنی کلیسہ یہاں قصر ہے مگر ان میں مخالفت نہیں وہ کلیسہ محل کی شکل میں تھا لہذا کلیسہ بھی کہا جاسکتا ہے محل بھی۔
۴؎ یعنی قید میں تھا مگر اچھلتا تڑپتا تھا اسے سکون و چین نہ تھا اچھلتا تھا بہت اونچا۔
۵؎ وہاں مسلم کی روایت میں سائل پوری جماعت کو فرمایا گیا تھا یہاں صرف تمیم داری کو کہ ارشاد ہوا فقلت مگر ان دونوں میں تعارض نہیں۔جماعت کا کام ہر ایک کی طرف نسبت ہوسکتا ہے سب نے پوچھا تو تمیم داری نے بھی پوچھا یا تمیم دار نے پوچھا تو گویا سب نے ہی پوچھا بہرحال دونوں حدیثیں متفق ہیں۔
|
5485 -[22] وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«إِنِّي حَدَّثْتُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ لَا تَعْقِلُوا.إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ قَصِيرٌ أَفْحَجُ جَعْدٌ أَعْوَرُ مَطْمُوسُ الْعَيْنِ لَيْسَتْ بِنَاتِئَةٍ وَلَا حَجْرَاءَ فَإِنْ أُلْبِسَ عَلَيْكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے وہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا میں نے تمہیں دجال کے متعلق خبریں دی حتی کہ مجھے خوف ہوا کہ تم نہ سمجھو ۱؎ مسیح دجال پستہ قد ٹیڑھے پاؤں والا ۲؎ مٹھے ہوئے بال ایک آنکھ کا سپاٹ ہے وہ آنکھ نہ تو ابھری ہوئی ہے اور نہ دھنسی ہوئی۳؎ اگر تم پر اشتباہ ہو تو جان لو کہ تمہارا رب کانا نہیں۴؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع