30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5482 -[19] وَعَن فَاطِمَة بنت قيس قَالَتْ: سَمِعْتُ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقَالَ: «لِيَلْزَمْ كُلُّ إِنْسَانٍ مُصَلَّاهُ» . ثُمَّ قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُكُمْ؟» . قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " إِنِّي وَاللَّهِ مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ وَلَكِنْ جَمَعْتُكُمْ لِأَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ كَانَ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا فَجَاءَ فَبَايَعَ وَأَسْلَمَ وَحَدَّثَنِي حَدِيثًا وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ بِهِ عَنِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ حَدَّثَنِي أَنَّهُ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ مَعَ ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامَ فَلَعِبَ بِهِمُ الْمَوْجُ شَهْرًا فِي الْبَحْر فأرفؤُوا إِلَى جَزِيرَةٍ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ فَجَلَسُوا فِي أقرب سفينة فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرُ الشَّعَرِ لَا يَدْرُونَ مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ قَالُوا: وَيْلَكِ مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ قَالُوا: وَمَا الْجَسَّاسَةُ؟ قَالَتْ: أَيُّهَا الْقَوْمُ انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ قَالَ: لَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلًا فَرِقْنَا مِنْهَا أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً قَالَ: فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا حَتَّى دَخَلْنَا الدَّيْرَ فَإِذَا فِيهِ أعظمُ إِنسان مَا رَأَيْنَاهُ قطُّ خَلْقاً وأشَدُّهُ وَثَاقاً مجموعةٌ يَده إِلَى عُنُقِهِ مَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى كَعْبَيْهِ بِالْحَدِيدِ. قُلْنَا: وَيْلَكَ مَا أَنْتَ؟ قَالَ: قَدْ قَدَرْتُمْ عَلَى خَبَرِي فَأَخْبِرُونِي مَا أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحن أُناس من العربِ ركبنَا فِي سفينةٍ بحريّة فلعِبَ بِنَا الْبَحْر شهرا فَدَخَلْنَا الجزيرة فَلَقِيَتْنَا دَابَّةٌ أَهْلَبُ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ اعْمِدُوا إِلَى هَذَا فِي الدَّيْرِ فَأَقْبَلْنَا إِلَيْكَ سِرَاعًا وَفَزِعْنَا مِنْهَا وَلَمْ نَأْمَنْ أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً فَقَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ قُلْنَا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: أَسْأَلُكُمْ عَنْ نَخْلِهَا هَلْ تُثْمِرُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: أَمَا إِنَّهَا تُوشِكُ أَنْ لَا تُثْمِرَ. قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ قُلْنَا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: هَلْ فِيهَا مَاءٌ؟ قُلْنَا هِيَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ. قَالَ: أَمَا إِنَّ مَاءَهَا يُوشِكُ أَنْ يَذْهَبَ. قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ. قَالُوا: وَعَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: هَلْ فِي الْعَيْنِ مَاءٌ؟ وَهَلْ يَزْرَعُ أَهْلُهَا بِمَاءِ الْعَيْنِ؟ قُلْنَا لَهُ: نعم هِيَ كَثِيرَة المَاء وَأَهله يَزْرَعُونَ مِنْ مَائِهَا. قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَبِيِّ الْأُمِّيِّينَ مَا فَعَلَ؟ قُلْنَا: قَدْ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ وَنَزَلَ يَثْرِبَ. قَالَ: أَقَاتَلَهُ الْعَرَبُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: كَيْفَ صَنَعَ بِهِمْ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّهُ قَدْ ظَهَرَ عَلَى مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ وأطاعوهُ. قَالَ لَهُم: قد كانَ ذلكَ؟ قُلْنَا: نعم. قَالَ: أَمَا إِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ وَإِنِّي مُخْبِرُكُمْ عَنِّي: إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ وَإِنِّي يُوشِكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ فَأَخْرُجَ فَأَسِيرَ فِي الْأَرْضِ فَلَا أَدَعُ قَرْيَةً إِلَّا هَبَطْتُهَا فِي أَرْبَعِينَ لَيْلَةً غَيْرَ مَكَّةَ وَطَيْبَةَ هُمَا مُحَرَّمَتَانِ عَلَيَّ كِلْتَاهُمَا كُلَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ وَاحِدَةً أَوْ وَاحِدًا مِنْهُمَا استقبلَني ملَكٌ بيدهِ السيفُ صَلْتًا يَصُدُّنِي عَنْهَا وَإِنَّ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَائِكَةً يَحْرُسُونَهَا."قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ طَعَنَ بِمِخْصَرَتِهِ فِي الْمِنْبَرِ:«هَذِه طَيْبَةُ هَذِهِ طَيْبَةُ هَذِهِ طَيْبَةُ» يَعْنِي الْمَدِينَةَ «أَلَا هَلْ كُنْتُ حَدَّثْتُكُمْ؟» فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ فَإِنَّهُ أَعْجَبَنِي حَدِيثُ تَمِيمٍ أَنَّهُ وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْهُ وَعَنِ الْمَدِينَةِ وَمَكَّةَ. أَلَا إِنه فِي بَحر الشَّأمِ أَو بحرِ اليمنِ لَا بل من قبل الْمشرق ماهو من قبل الْمشرق ماهو من قبل الْمشرق ماهو"وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمشرق. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے جناب فاطمہ بنت قیس سے ۱؎ فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کے اعلانچی کو سنا جو اعلان کررہا تھا کہ نماز تیار ہے تو میں مسجد کی طرف گئی میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نماز پڑھی ۲؎ تو جب حضور نے نماز پوری کرلی تو منبر پر جلوہ افروز ہوئے حالانکہ حضور ہنس رہے تھے۳؎ فرمایا ہرشخص اپنی نماز کی جگہ رہے۴؎ پھر فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ ہم نے تم کو کیوں جمع فرمایا ہے سب نے عرض کی الله رسول ہی جانیں،فرمایا والله ہم نے تم کو بشارت دینے اور ڈرانے کے لیے جمع نہیں فرمایا ۵؎ لیکن اس لیے جمع فرمایا ہے کہ تمیم داری ایک عیسائی آدمی تھا وہ آیا اور مسلمان ہوگیا ۶؎ اور اس نے ہم کو ایسی خبر دی جو اس کے موافق ہے جو ہم تم کو مسیح دجال کے متعلق بتایا کرتے تھے۷؎ اس نے ہم کو خبر دی کہ وہ قبیلہ لخم اور جذام کے تیس آدمیوں کے سامنے دریائی جہاز میں سوار ہوئے ۸؎ تو انہیں ایک ماہ تک موج سمندر میں کھلاتی رہی ۹؎ پھر وہ مغرب کی طرف جزیرہ کے قریب پہنچے پھر وہ چھوٹی کشتی میں بیٹھے جزیرہ میں داخل ہوئے۱۰؎ تو انہیں ایک بہت زیادہ اور موٹے بالوں والا جانور ملا ۱۱؎ کہ بالوں کی زیادتی کی وجہ سے یہ نہیں جانتے تھے کہ اس کا اگلا اورپچھلا حصہ کون سا ہے ۱۲؎ ان لوگوں نے کہا تیری خرابی ہو تو کون ہے وہ بولی میں جاسوس ہوں۱۳؎ تم لوگ کلیسہ میں اس شخص کے پاس جاؤ کہ وہ تمہاری خبر کا مشتاق ہے،کہا کہ جب اس نے ہم سے ایک آدمی کا نام لیا تو ہم اس سے بولے کہ وہ جناتنی ہے۱۴؎ کہا کہ پھر ہم تیز چلے حتی کہ کلیسہ میں داخل ہوگئے ۱۵؎ تو اس میں ایک بہت بھاری بھر کم آدمی تھا ہم نے اتنا بڑا اورایسا مضبوط بندھا ہوا آدمی نہ دیکھا تھا اس کے ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے تھے ۱۶؎ اس کو گھٹنوں سے ٹخنوں تک لوہے سے جکڑا ہوا تھا ہم نے کہا تیری خرابی ہو تو ہے کون وہ بولا میری خبر پر تم نے قابو پالیا تم بتاؤ تم کون لوگ ہو۱۷؎ انہوں نے کہا ہم عرب کے لوگ ہیں ہم دریائی جہاز میں سوار ہوئے تو ہم کو دریا ایک ماہ تک کھلاتا رہا ۱۸؎ پھر ہم اس جزیرہ میں داخل ہوئے تو ہم کو بڑے بالوں والا جانور ملا وہ بولا میں جاسوس ہوں اس کلیسہ کی طرف جاؤ تو ہم دوڑتے ہوئے تیری طرف آگئے وہ بولا کہ مجھے بیسان کے باغ کی خبر دو کیا وہ پھل دے رہا ہے ۱۹؎ ہم نے کہا ہاں وہ بولا قریب ہے کہ پھل نہ دے گا ۲۰؎ بولا مجھے بحیرہ طبریہ کے متعلق بتاؤ کیا اس میں پانی ہے ۲۱؎ ہم نے کہا کہ وہ تو بہت پانی والا ہے بولا قریب ہے کہ اس کا پانی خشک ہوجاوے۲۲؎ بولا مجھے چشمہ زغر کے متعلق بتاؤ کیا اس چشمہ میں پانی ہے اور کیا وہاں کے باشندے کھیتی باڑی کررہے ہیں۲۳؎ ہم نے کہا ہاں اس میں بہت پانی ہے اور وہاں کے باشندے اس کے پانی سے کھیتی باڑی کررہے ہیں۲۴؎ وہ بولا مجھے ناخواندہ لوگوں کے نبی کے متعلق خبر دو کہ انہوں نے کہا کیا ۲۵؎ ہم نے کہا وہ مکہ سے تشریف لے گئے اور مدینہ قیام پذیر ہوئے بولا کیا عرب نے ان سے جنگ کی ہم نے کہا ں ہاں بولا ان کے ساتھی نبی نے کیا کیا ہم نے اسے بتایا کہ وہ متصل عرب پر غالب آگئے ہیں اور عرب نے ان کی اطاعت کرلی ہے ۲۶؎ بولا عرب کے لیے ان کی اطاعت کرنا بہتر ہے ۲۷؎ اور میں تمہیں اپنے متعلق بتاتا ہوں کہ میں مسیح دجال ہوں ۲۸؎ قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دی جاوے تو میں نکلوں تو ساری زمین میں چلوں کوئی بستی نہ چھوڑوں مگر وہاں چالیس دن میں اتروں سواء مکہ اور مدینہ کے ۲۹؎ کہ وہ دونوں بستیاں مجھ پر حرام ہیں جب کبھی میں ان میں سے کسی میں داخل ہوتا جاؤں گا تو میرے سامنے ایک فرشتہ آوے گا جس کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہوگی جو مجھے وہاں سے روک دے گا اور اس کے ہر راستہ پر فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہوں گی۳۰؎ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا عصامنبر پر مارا اور فرمایا یہ ہے طیبہ یعنی مدینہ منورہ، بولو کیا ہم نے تم کو یہ خبریں دی تھیں لوگوں نے کہا ہاں ۳۱؎ آگاہ رہو کہ وہ شام یا یمن کے جنگل میں ہے نہیں بلکہ مشرق کی طرف وہ ہے اور اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا ۳۲؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع