30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ طیالسہ جمع ہے طیلسان کی جو معرب ہے تالسان کا۔تالسان وہ خاص رومال ہے جس سے سر اور کندھا ڈھکا جاتا ہے یا کوئی اور خاص لباس۔طیلسان پہننے سے ممانعت بھی آتی ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کا پہننا بھی ثابت ہے،جب تک یہ یہود کا نشان خاص رہا ممنوع رہا،جب اس کا رواج عام ہوگیا تب حضور نے پہنا تمام لباسوں کا یہ ہی حال کہ جو کفار کی علامت ہوں ان سے بچے اور جب علامت نہ رہیں مشترک بن جاویں تو جائز ہیں۔(مرقات)
|
5479 -[16] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي الدَّجَّالُ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ فَيَنْزِلُ بَعْضَ السِّبَاخِ الَّتِي تَلِي الْمَدِينَةَ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ رَجُلٌ وَهُوَ خَيْرُ النَّاسِ أَوْ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ هَلْ تَشُكُّونَ فِي الْأَمْرِ؟ فَيَقُولُونَ: لَا فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ فَيَقُولُ: وَاللَّهِ مَا كُنْتُ فِيكَ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الْيَوْمَ فَيُرِيدُ الدَّجَّالُ أَنْ يَقْتُلَهُ فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ ". |
روایت ہے حضرت ابوسعیدخدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دجال آوے گا حالانکہ اس کو مدینہ کے راستوں میں داخلہ ناممکن ہوگا تو بعض کھاری زمینوں میں جو مدینہ سے متصل ہیں وہاں اترے گا ۱؎ تو اس کی طرف ایک شخص نکلے گا جو لوگوں میں بہترین یا لوگوں میں سے بہترین ہوگا۲؎ وہ کہے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہ ہی دجال ہے جس کی خبر ہم کو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے دی تھی تو دجال کہے گا کہ بتاؤ تو اگر میں اسے قتل کردوں پھر زندہ کردوں تو کیا تم اس میں کچھ شک کرو گے۳؎ وہ لوگ کہیں گے کہ نہیں تو وہ اس شخص کو قتل کرے گا پھر زندہ کرے گا تب وہ کہے گا والله کہ اب سے پہلے تیرے متعلق زیادہ سمجھ بوجھ والا نہ تھا ۴؎ پھر دجال اسے قتل کرنا چاہے گا تو اس پر قابو نہ دیا جاوے گا۵؎ (مسلم) |
۱؎ انقاب جمع ہے نقیب کی،معنی پہاڑی راستہ جو پہاڑ میں جائے،اب ہر راستہ کو نقب کہتے ہیں۔یہاں اسی معنی میں ہے یعنی باہر سے جتنے راستے مدینہ منورہ میں آتے ہیں ان سب پر کنارہ مدینہ منورہ پر فرشتے ہوں گے جو دجال کو مدینہ مطہرہ میں داخل ہونے سے روکیں گے وہ ہی یہاں مراد ہے وہ مردود مدینہ منورہ کے باہر جو زمین شورہ ہے وہاں قیام کرے گا۔
۲؎ عام شارحین نے فرمایا کہ وہ خضر علیہ السلام ہوں گے جو دجال کا مقابلہ کرنے نکلیں گے،وہ زندہ ہیں اور تاقیامت زندہ ر ہیں گے۔اس زمانہ میں مدینہ منورہ میں ہوں گے آپ دجال کے ہاتھوں دکھ اٹھائیں گے مگر اسے بے نقاب فرمادیں گے،اس کی جھوٹی الوہیت کی مٹی انہیں کے ہاتھوں پلید ہوگی،اس وقت آپ اسلام کے مبلغ اعظم ہوں گے اور سب کو نظر آئیں گے سب انہیں پہچانیں گے ان سے گفتگو کریں گے۔
۳؎ دجال اپنے ماننے والوں سے یہ خطاب کرے گا خود ان بزرگ سے یہ خطاب نہ کرے گا کہ وہ جانتا ہے کہ یہ بزرگ تو مجھے مانیں گے نہیں،اسے خطرہ تھا کہ شاید ان بزرگ کی تقریر سے میرے ماننے والوں کے دلوں میں میری طرف سے کچھ شک ہوگیا اس لیے ان سے یہ کہے گا۔اس فرمان عالی کے اور کئی مطلب کیے گئے ہیں مگر یہ مطلب قوی ہے کہ اس میں خطاب اس کے معتقد یہودیوں سے ہے نہ کہ مؤمنین سے۔
۴؎ یعنی دجال کے کافر ہونے کا جتنا یقین مجھے اب ہوگیا اتنا پہلے نہ تھا کہ پہلے مجھے تیرے متعلق عین الیقین تھا دیکھ کر اب حق الیقین ہوگیا آزماکر۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع