30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۴؎ یعنی ذبح کے وقت جہاں چھری چلائی جاتی ہے وہاں یا تو بعینہ تانبہ کی تختی ہوجائے گی یا یہ جگہ تانبہ کی طرح سخت کر دی جائے گی جس پر چھری نہ چل سکے گی اور دجال یا اس کے سپاہی ان بزرگوں کو ذبح نہیں کرسکیں گے۔
۱۵؎ اس جنت و آگ کی تحقیق ابھی کچھ پہلے کی جاچکی ہے یعنی دجال اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے ان بزرگوں کو اپنی خود ساختہ آگ میں ڈالے گا جو دیکھنے میں آگ ہوگی مگر نار نمرود کی طرح درحقیقت نہایت آرام دہ باغ ہوگا۔
۱۶؎ یعنی یہ صاحب اس زمانہ کے تمام شہید مسلمانوں میں اول درجہ کے شہیدہوں گے کیونکہ ایک بار تو آرہ سے چیرے گئے پھر دوبارہ قتل و ذبح کے لیے لٹائے گئے پھر ظاہری آگ میں پھینکے گئے ان سب کے سوا ایسے موقع پر نہایت جرأت و ہمت سے مردانہ وار دجال کے مقابل ہوکر سینکڑوں کے ایمان کو بچا گئے اور ظاہر ہے کہ جیسے کارناموں جیسی تکلیف ویسا درجہ۔اس الناس میں حضرات شہداء احد، بدروحنین یا شہداء کربلا داخل نہیں کہ ان کے درجہ تک کوئی مسلمان تاقیامت نہیں پہنچ سکتا لہذا حدیث واضح ہے۔اس پر یہ اعتراض نہیں کہ سید الشہداء تو حضرت حمزہ یا شہداء کربلا امام حسین ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ درجہ ان کی نبوت کی وجہ سے سب سے بڑھ جاوے کہ نبی کا عمل غیر نبی کے عمل سے زیادہ درجہ رکھتا ہے۔
|
5477 -[14] وَعَن أمّ شريكٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنَ الدَّجَّالِ حَتَّى يَلْحَقُوا بِالْجِبَالِ» قَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «هُمْ قَلِيلٌ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ام شریک سے ۱؎ فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگ دجال سے بھاگیں گے حتی کہ پہاڑوں میں جا پہنچیں گے۲؎ ام شریک فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول الله تو اس دن عرب کہاں ہوں گے فرمایا وہ تھورے ہوں گے۳؎(مسلم) |
۱؎ ام شریک دو ہیں: ایک ام شریک انصاریہ صحابیہ،دوسری ام شریک قرشیہ عامریہ،یہاں ام شریک قرشیہ مراد ہیں اور جن ام شریک کے پاس فاطمہ بنت قیس کو عدت گزارنے کا حکم دیا گیا تھا وہ ام شریک انصاریہ تھیں۔(اشعہ)یعنی احتیاطًا مسلمان اپنا دین بچانے کے لیے بستیوں بلکہ جنگلوں میں نہ ٹھہریں گے کیونکہ اس زمانہ میں کوئی جگہ اس کے شر سے محفوظ نہ ہوگی،حضور صلی اللہ علیہ و سلم ان لوگوں کی تعریف فرماتے ہوئے یہ فرمارہے ہیں۔معلوم ہوا کہ فتنہ کے زمانہ میں بستیاں چھوڑ کر گوشہ نشین ہوجانا اچھا ہے کہ اس میں دین کی بڑی حفاظت ہے۔
۳؎ جناب ام شریک نے پوچھا کہ عرب تو بڑے بہادر ہیں یہ لوگ دجال پر جہاد کیوں نہ کریں گے،فرمایا کہ اس وقت عرب اتنے تھوڑے ہوں گے کہ جہاد کرنے پر قادر نہ ہوں گے۔معلوم ہوا کہ جہاد کے لیے قدرت شرط ہے۔
|
5478 -[15] وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«يَتْبَعُ الدَّجَّالَ مِنْ يَهُودِ أصفَهانَ سبعونَ ألفا عَلَيْهِم طيالسة». رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت انس سے وہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ اصفہان کے یہود میں سے ستر ہزار آدمی دجال کی پیروی کرلیں گے ۱؎ جن پر طیلسان لباس ہوگا ۲؎(مسلم) |
۱؎ معلوم ہوا کہ اس زمانہ میں یہود شہر اصفہان میں کثرت سے ہوں گے۔اصفہان ایران کا مشہور شہر ہے میں نے وہاں کی سیر کی ہے یہاں ہی دجال کا زور زیادہ ہوگا اور دجال کے پہلے مددگار و معاون یہود ہوں گے،بعض نے کہا کہ دجال خود یہود میں سے ہوگا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع