30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5476 -[13] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فَيَتَوَّجُهُ قِبَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَيَلْقَاهُ الْمَسَالِحُ مَسَالِحُ الدَّجَّالِ. فَيَقُولُونَ لَهُ: أَيْنَ تَعْمِدُ؟ فَيَقُولُ: أَعْمِدُ إِلَى هَذَا الَّذِي خَرَجَ. قَالَ: فَيَقُولُونَ لَهُ: أَو مَا تبَارك وَتَعَالَى ؤمن بِرَبِّنَا؟ فَيَقُولُ: مَا بِرَبِّنَا خَفَاءٌ. فَيَقُولُونَ: اقْتُلُوهُ. فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَلَيْسَ قَدْ نَهَاكُمْ رَبُّكُمْ أَنْ تَقْتُلُوا أَحَدًا دُونَهُ ". قَالَ: " فَيَنْطَلِقُونَ بِهِ إِلَى الدَّجَّالِ فَإِذَا رَآهُ الْمُؤْمِنُ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَذَا الدَّجَّالُ الَّذِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ: " فَيَأْمُرُ الدَّجَّال بِهِ فَيُشَبَّحُ. فَيَقُولُ: خُذُوهُ وَشُجُّوهُ فَيُوسَعُ ظَهْرُهُ وَبَطْنُهُ ضَرْبًا ".قَالَ: "فَيَقُول: أَوَ مَا تُؤْمِنُ بِي؟ " قَالَ: "فَيَقُولُ: أَنْتَ الْمَسِيحُ الْكَذَّابُ". قَالَ: «فيؤْمر بِهِ فَيْؤشَرُ بالمنشارِ مِنْ مَفْرِقِهِ حَتَى يُفَرَّقَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ».قَالَ:" ثُمَّ يَمْشِي الدَّجَّالُ بَيْنَ الْقِطْعَتَيْنِ ثُمَّ يَقُولُ لَهُ: أتؤمنُ بِي؟ فَيَقُول: مَا ازْدَدْتُ إِلَّا بَصِيرَةً". قَالَ: "ثُمَّ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا يَفْعَلُ بَعْدِي بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ". قَالَ: «فَيَأْخُذُهُ الدَّجَّالُ لِيَذْبَحَهُ فَيُجْعَلُ مَا بَيْنَ رَقَبَتِهِ إِلَى تَرْقُوَتِهِ نُحَاسًا فَلَا يَسْتَطِيع إِليه سَبِيلا» قَالَ: «فَيَأْخذهُ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَيَقْذِفُ بِهِ فَيَحْسِبُ النَّاسُ أَنَّمَا قَذَفَهُ إِلَى النَّارِ وَإِنَّمَا أُلْقِيَ فِي الْجَنَّةُ» فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابی سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دجال نکلے گا تو اس کی طرف مؤمنوں سے ایک صاحب متوجہ ہوں گے ۱؎ تو انہیں دجال کے سپاہی ملیں گے ۲؎ اور ان سے کہیں گے کہ کہاں کا ارادہ کر رہے ہو کہیں گے کہ میں اس کی طرف کا ارادہ کررہا ہوں جو نکلا ہے۳؎ فرمایا وہ لوگ ان سے کہیں گے کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتے،وہ کہیں گے ہمارے رب میں پوشیدگی نہیں۴؎ تو یہ لوگ کہیں گے کہ اسے قتل کردو تو ان کے بعض بعض سے کہیں گے کیا تم کو تمہارے رب نے اس کے بغیر قتل کرنے سے منع نہیں کیا ہے ۵؎ تو وہ انہیں دجال کے پاس لے جائیں گے مؤمن جب اسے دیکھے گا تو کہے گا اے لوگو یہ ہی وہ دجال ہے جس کا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے ذکر فرمایا ۶؎ فرمایا تب دجال اس کے متعلق حکم دے گا تو انہیں لمبا ڈال دیا جاوے گاکہے گا اسے پکڑلو اور زخمی کردو ۷؎ چنانچہ ان کی پیٹھ اور پیٹ مار کر چوڑے کردیں گے ۸؎ فرمایا وہ کہے گا کیا مجھ پر ایمان نہیں لاتا فرمایا وہ کہیں گے کہ تو جھوٹا مسیح ہے ۹؎ فرمایا بس اس کے متعلق حکم دیا جاوے گا تو آرے سے ان کی مانگ سے چیر دیا جاوے گا حتی کہ ان کے پاؤں چیر دیئے جائیں گے ۱۰؎ فرمایا پھر دجال دو ٹکڑوں کے درمیان چلے گا پھر اس سے کہے گا کھڑا ہو وہ سیدھا کھڑا ہوجاوے گا ۱۱؎ پھر اس سے کہے گا کیا مجھ پر ایمان لاتا ہے تو وہ کہے گا تیرے بارے میں میری بصیرت ہی زیادہ ہوئی۱۲؎ فرمایا پھر کہیں گے اے لوگو یہ میرے بعد اب کسی آدمی سے یہ نہ کرسکے گا۱۳؎ فرمایا پھر اسے دجال ذبح کرنے کے لیے پکڑے گا تو اس کی گردن سے گلے تک کے درمیان تانبہ کردیا جاوے گا۱۴؎ پھر وہ اس تک راہ پانے کی طاقت نہ رکھے گا فرمایا کہ پھر دجال ان کے ہاتھوں پاؤں کو پکڑے گا اور پھینک دے گا لوگ سمجھیں گے کہ اسے آگ کی طرف پھینکا مگر وہ جنت میں ڈالا جاوے گا ۱۵؎ پھر رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ شخص رب العالمین کے نزدیک تمام لوگوں میں بڑی شہادت والا ہوگا۱۶؎ (مسلم) |
۱؎ یہ صاحب مدینہ سے نکلیں گے۔غالبًا حضرت خضر علیہ السلام ہوں گے کیونکہ وہ اب تک زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے آپ ہی پر دجال کا زور ختم ہوگا۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع